مضامین ومقالات

سب ہی کے عقائد کا احترام کیوں نہیں؟ شکیل رشید

سب ہی کے عقائد کا احترام کیوں نہیں؟

 

شکیل رشید

 

اڈیشہ کے پوری میں منگل سے جگناتھ یاترا شروع ہو گئی ہے جو دس دنوں تک چلے گی ۔حالانکہ کورونا وباء کی شدت کو دیکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے ابتدا ء میں یاترا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔عدالت کا کہنا تھا کہ یاترا کی اجازت نہ دینے کے عدالت کے فیصلے پر بھگوان جگناتھ ہمیں معاف کر دیں گے ۔ عدالت کو کورونا وباء کی بدتر ہوتی صورتحال کا بخوبی اندازہ تھا ، اسے لگ رہا تھا کہ یاترا پر پابندی کا فیصلہ درست ہے کیونکہ یاترا کو اجازت دینے کی صورت میں جمع ہونے والی بھیڑ سے کووڈ ۱۹کے معاملات میں خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن عدالت کو پجاریوں، پنڈتوں، دھارمک سنستھاؤں اور بھاجپائی سیاست دانوں کے بالخصوص مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی ترجمان سمبت پاترا کے اس شدید مطالبے کو منظور کرنا پڑا کہ یاترا کو روکا نہ جائے کیونکہ روکنے کا مطلب قدیم مذہبی روایات کو نظر انداز کرنا اور بھگوان کے عقیدت مندوں کے جذبات کی پرواہ نہ کرنا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے یاترا پر چند شرائط ضرور عائد کیں جیسے کہ سوشل ڈسٹنسنگ برتی جائے اور طبی ہدایات پر عمل کیا جائے ۔ اب یاترا جاری ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اِس میں شریک ہے۔جو تصاویر آ رہی ہیں ان سے خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل ڈسٹنسنگ کا کتنا خیال رکھا جا رہا ہے! جگناتھ پوری مندر لوگوں سے بھرا پڑا ہے اور رتھ یاترا میں اتنی بھیڑ ہے کہ سوشل ڈسٹنسنگ ناممکن ہے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ عدالت کا یہ فیصلہ ’آستھا ‘ کی بنیاد پر ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔یاترا پر پابندی لگانے کی پٹیشن اڈیشہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم اڈیشہ وکاس پریشد نے دائر کی تھی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی پٹیشن میں اس نے تبلیغی جماعت اور تبلیغی مرکز نظام الدین کا حوالہ دیا تھا ۔سب کو یاد ہے کہ مرکز میں ایک تبلیغی اجتماع کو بنیاد بنا کر سارے ملک میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا تھا کہ ملک بھر میں کورونا کے پھیلنے کا سبب تبلیغی جماعت بنی ہے ۔دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے تو باقاعدہ اعداد وشمار پیش کر دیئے تھے کہ ۳۰فیصد وباء مرکز نظام الدین سے پھیلی ہے ۔گودی میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے چند بڑے اخبارات نے تبلیغی جماعت پر کہیں ۷۰تو کہیں ۸۰ فیصد تک کورونا پھیلانے کا الزام لگا دیا تھا ۔یہ الزام اس قدر خطرناک تھا کہ ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر دوڑ گئی تھی، مسلمان لنچ کیے جانے لگے تھے، یہ صورت حال آج بھی برقرار ہے۔ سہارنپور میں ایک ۳۵سالہ شخص اسرار کی لنچنگ اس نفرت کا تازہ ثبوت ہے ۔سارا سنگھی ٹولہ، سارے بھاجپائی تبلیغی جماعت کے خلاف مورچہ کھولے ہوئے تھے بلکہ اب بھی مورچہ کھولے ہوئے ہیں، لیکن یہی لوگ جگناتھ رتھ یاترا نکلوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے تھے، اور رتھ یاترا نکلوا کر رہے۔

حکومت نے یہ طے کر رکھا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود نہ تعلیمی اداروں کو کھولا جائے گا اور نہ ہی مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کی اجازت دی جائے گی ۔لیکن پوری کی یاترا کو اجازت دے کر مذکورہ اصول کی خلاف ورزی کی گئی ۔کیا حکومت اور عدالت بتا سکتی ہے کہ تبلیغی اجتماع اور پوری یاترا میں کیا فرق ہے؟ اگر بھیڑ مرکز نظام الدین میں تھی تو بھیڑ پوری میں بھی ہے۔اگر کورونا مرکز نظام الدین سے پھیلا تو پوری سے کیوں نہیں پھیل سکتا؟ عدالت کا فیصلہ سر آنکھوں پر مگر یہ سوال اب ضروری ہو گیا ہے کہ کیا ان ہی شرائط کے ساتھ، جو یاترا نکالنے کے لیے عائد کی گئی ہیں، جمعہ کی نمازوں کے لیے مسلمانوں کو مساجد میں جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی؟ سارا رمضان مسلمان مساجد سے دور رہا، عیدالفطر کی نماز مساجد اور عیدگاہوں میں نہیں پڑھی اب تو اسے تمام نہ سہی جمعہ کی نماز مساجد میں پڑھنے کی اجازت ملنا چاہیے ۔بقرعید سر پر ہے، فرقہ پرست مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس بار قربانی نہ ہونے دی جائے، ممبئی سمیت کئی جگہوں پرسلاٹر ہاوس بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ عدالت کو اس معاملے کا ازخود نوٹس لے کر مسلمانوں کو جمعہ کی نمازوں، بقرعید کی اجتماعی نماز اور قربانی کی اجازت اسی طرح اور ان ہی شرائط کے ساتھ دینی چاہیے جیسے جگناتھ یاترا کو دی ہے ۔ اس جمہوری ملک میں دوسرے مذاہب پر عمل کرنے والوں کے عقائد کا احترام بھی کیا جانا چاہئے نہ کہ صرف اکثریتی طبقہ کی ’آستھا ‘کا۔کیا حکومت، انتظامیہ اور عدالتیں دوسروں کے عقائد کا احترام کریں گی۔۔۔؟

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker