مضامین ومقالات

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

📝:عبدالرحیم ابن مولانا محمدانور حسین برہولیاوی۔خادم تدریس معھد العلوم الاسلامیہ چک چمیلی سراۓ ویشالی۔

غلام ربانی صاحب ایک اچھے، شیر دل انسان اور ایک اچھے استاد بھی تھے میری بنیادی تعلیم مکتب کے بعد گاؤں کے ہی سن فلاور انگلش اسکول میں ہوئی غلام ربانی صاحب اس اسکول کے بانی اور ڈائرکٹر بھی تھے اور استاد بھی ،ہم لوگ غلام ربانی صاحب کو اس ذمانہ سے آج تک صرف سر جی ہی یا صرف سر بو لا کرتے تھے مجھے جہاں تک یاد ہے سر نے کبھی مجھے مارا نہیں تھا؛ لیکن سر کے لئے ادب و احترام جو پڑ ھنے کے ذمانے میں تھا وہ اب تک اسی طرح تھا ،میرے بھائی اور بہنوں میں عبداللہ، عبدالعزیز، عبدالرحمن قاسمی، عبدالملک عائشہ، عزیز عباداللہ، عزیز، دانیال، عروشہ، عزیز صدف سب نے سر کے اسکول میں تعلیم حاصل کی میرے علاقے میں اس زمانے میں معیار ی تعلیم اور کم خرچ میں اچھی تعلیم کے لئے آپ کااسکول مشہور ہو چکا تھا، سر صوم صلوۃ کے پابند تھے اور مزاج میں نرمی تھی سر کو کبھی بھی اونچی اور تیز آواز میں بات کرتے ہوئے ہم نے ‌ نہیں دیکھا ، میرے دادا جان شبیر احمد مرحوم سے سر کے اچھے اور گہرے مراسم تھے داداجان مرحوم کے ساتھ سر کو گھنٹوں علمی ادبی گفتگو کرتے ہوئے دیکھا ،داداجان مرحوم کے انتقال کے بعد والد ماجد کے ساتھ بھی آپکے رشتہ میں کو ئی کمی نہیں ہوتے دیکھی، سر کو کبھی بھی کسی کی غیبت کرتے یا بیکار کی لا یعنی باتیں کرتے نہیں دیکھا سر کی زندگی میں بہت مشکلات دیکھا؛ مگر ہمت ہارتے یا ناشکری کرتے نہیں پایا؛ بلکہ ہمیشہ ہمت حوصلے اور صبرو شکر کے ساتھ جیتے دیکھا ،مڈل اسکول اور ہا ئی اسکول کے تعلیم کے ذمانے کے بہت ساتھیوں میں ایک ساتھی سر کے تیسرے صاحبزادے انجینئر سرتاج عزیز شیروز بھی تھے ہم دونوں اسکول آنا جانا ساتھ کیا کرتےتھے اکثر تیار پہلے میں ہو جاتا اور سر کے گھر آجاتا سر ناشتہ وغیرہ کرتے اور کام کی باتیں بھی نصیحت کرتے اکثر سر کہتے علم کبھی بیکار نہیں جاتا ؛ اب تو ماشاءاللہ شیروز بھائی بھی انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد دلی میں ہی برسر روزگار ہیں انجینئر امروز اور گلروز بھائی بھی جو شیروز بھائی سے بڑے ہیں دلی میں ہی برسر روزگار ہیں اور مہر وز ابھی زیر تعلیم ہیں ،سر نے ایک لڑکی کی شادی بھی انجام دیدی تھی ماشاءاللہ وہ بھی اچھی اور خوش ہیں چاروں لڑکے اور ایک لڑکی کی شادی ابھی باقی ہے چند سالوں سے سر دلی میں ہی اپنے بچوں کے ساتھ مقیم تھے ، خبر خیریت شیروز بھائی سے مل جاتی تھی ؛ مگر اچانک 8جون کی شب رات دس بجے فیس بک پر غلام ربانی صاحب کے متعلق انتقال کی خبر دیکھ کر بیچین ہوگیا شیروز بھائی کو فون لگایا نمبر بند گیا پھر اپنے گھر والدہ کو فون لگایا ان لوگوں کو کوئی خبر نہیں ؛پھر باری باری تمام بھائی کو فون لگایا خبر کی تصدیق ہوئی مگر اس رات نیند نہیں آئی , جنازہ اور مٹی نہ ملنے کا افسوس بار بار ہورہاتھا،صبح سویرے ایصا ل ثواب دعاۓ مغفرت کرکے سو گیا؛ مگر کئی یوم گذر جانے کے بعد بھی سر کا چہرہ اور ان کی آواز کانوں میں گونجتی ہے سر سلام کرنے میں اکثر پہل کرتے تھے اور بچوں کو بھی سلام کرتے تھے اللہ غلام ربانی سر کی بال بال مغفرت فرمائے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آپ کی تمام اچھی خصوصیات تمام اولادوں میں منتقل فرمائے آمین یا رب العالمین۔
📝 : عبدالرحیم ابن ڈاکٹر مولوی انور حسین برہولیاوی۔
رابطہ نمبر📞:9308426298
میل📧:[email protected]

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker