مضامین ومقالات

صفورہ زرگر کی ضمانت اور حکومت کی فضیحت  

 

ڈاکٹر سلیم خان

صفورہ زرگر کی رہائی انتہائی خوش کن خبر ہے ۔ یہ رہائی اس لیے ممکن ہوسکی کیونکہ دہلی پولس   کی پیروی کرتے ہوئے سالی سیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عالیہ سے کہا کہ  وہ انسانی بنیادوں پر ضمانت کی مخالفت نہیں کریں گے  ۔  سرکاری وکیل کے ذریعہ ضمانت کی مخالفت نہیں کرنے کا فیصلہ  اپنے آپ میں  حیرت کا ایک زبردست جھٹکا تھا کیونکہ صرف ایک دن قبل اسی عدالت میں دورانِ  سماعت پولس ضمانت کی  پرزورمخالفت کرچکی تھی ۔   پولس کا دعویٰ تھاکہ اس کے پاس صفورہ زرگر کے خلاف سنگین الزامات کے ٹھوس ثبوت موجود  ہیں ۔اس نے یہ  بھی کہا  تھا کہ کسی قیدی کا حاملہ ہونا اس کو ضمانت کا حقدار نہیں بناتا ۔ صفورہ کو جیل کے اندر ضروری طبی سہولیا ت مہیا کی جارہی ہیں ۔  اپنے دعویٰ کی دلیل میں اس نے کہا تھا کہ گزشتہ دس سالوں میں تیس حاملہ  قیدیوں نے جیل کے اندر بچے کو جنم دیا ہے۔ اس  کا مطلب  تھا کم از کم اگلے چار ماہ تو صفورہ جیل کی چہار دیواری میں گزارے گی ۔ وہیں اس کے بچے کی پیدائش ہوگی اور وہ  معصوم بھی اپنی ماں کے ساتھ  ایک ناکردہ گناہ کی سزا بھگتے گا۔

  ایک رات میں اچانک سب کچھ بدل گیا ۔ سرکار کا من پریورتن ہوگیا اور پولس منہ دیکھتی رہ گئی ۔ اس کے سارے الزامات اور ٹھوس ثبوت دھرے کے دھرے  رہ گئے اس لیے  کہ سفاکیت کے اندھیرے میں اچانک   انسانیت کی شمع روشن ہوچکی تھی ۔ سرکاری وکیل اس کی   دہائی دے رہا تھا ۔ بعید نہیں  کہ اس حیرت انگیز منظر دیکھ  کر عدالت میں کئی لوگ بے ہوش  ہوگئے ہوں۔  اس لیے کہ  پچھلے   ۶ سالوں میں غالباً پہلی بار مرکزی حکومت نے انسانیت نام کی کسی شئے کے  پائے  جانے کا اعتراف کیا   تھاورنہ اس سے قبل تو رعونت اور نخوت کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا ۔ ایسا اگر کرونا کی بدولت ہوا ہے لوگوں کو اس وباء کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ  ہندی زبان میں کرونا کے معنیٰ رحم و کرم کے بھی ہوتے ہیں ۔  کوئی اقتدار اگر اس بنیادی  صفت سے عاری ہو جائے تو اس سے ظلم و جبر کے علاوہ کسی اور عمل کی توقع ہی ناممکن ہے۔   

اس خوش آئند پہلو کے ساتھ عدلیہ  کی خود مختاری پر یہ بہت بڑا سوالیہ نشان  کھڑا ہوگیا کیونکہ سرکار دربار  کی جانب سے سبز اشارہ ملنے  کے  بعد ہی  دہلی ہائی کورٹ نے  ضمانت منظور کرنے کی جرأت کرسکی ۔   حکومت کے انسانیت کی بنیاد پر ضمانت کی مخالفت نہ کرنے کا مطلب یہ  نکلتا ہے کہ صفورہ  زرگر کو اب تک غیر انسانی بنیادوں پر حراست میں رکھاگیا تھا ۔ ابتدائی فرد جرم  میں لگائے جانے والے  الزامات  پر غور کرنے کے بعد نچلی   عدالت نے انہیں  ضمانت دے دی  تھی لیکن اس   رہائی سے روکنے کے لیے غیر انسانی مداخلت کی گئی۔ ایک خصوصی ایف آئی آر ۵۹ میں ان کا نام شامل کرکے  این ایس اے کے تحت دوبارہ  گرفتار کرلیا گیا اور دہلی  کے فرقہ وارانہ فسادات  بھڑکانے کی سازش  میں ملوث ہونے کا سنگین الزام لگا دیا گیا ۔ پولس ان خطوط پر آگے بڑھ رہی تھی تو اچانک مقدمہ میں ایک نیا موڑ آگیا  ۔   اس کا مطلب  ہے کہ یہ  معاملہ قانون اور ضابطے سے نہیں بلکہ سرکار ی ظلم  وکرم پر چل رہا ہے۔ جس کو چاہا گرفتار کرلیا جو چاہا الزام لگا دیا  اور جب چاہا چھوڑ دیا۔ یہ اندھیر نگری چوپٹ راج    نہیں ہے تو کیا ہے؟

راتوں رات یہ تبدیلی کیونکر واقع ہوگئی  اس کو سمجھنے سے پہلے صفورہ کو گرفتار کرنے کی وجوہات کوجاننا ضروری ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی مشکل کو موقع میں بدلنے کی  نہ صرف تلقین  کرتے ہیں بلکہ  اس پر عمل بھی کرکے دکھاتے ہیں۔  جیسا مالک ویسا گھوڑا کچھ نہیں تو تھوڑا تھوڑا کی مصداق وزیر داخلہ بھی اسی طریقۂ کار کے قائل ہیں۔ انہوں نے سوچا ملک میں لاک ڈاون  مستقل توہے  نہیں   اس لیے کیوں نہ  خاتمہ سے قبل  فائدہ  اس کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کی کمر توڑ دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یکم اپریل کو جامعہ کے طالب علم میران حیدر کی گرفتاری عمل میں آئی اور اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا ۔ جامعہ کے اندر اور باہر سی اے اے مخالف مظاہرین کو حراست میں لیا جانے لگا ۔ صفورہ زرگر اسی کا شکار ہوئی ۔ ان سب پر پہلے قابلِ ضمانت  دفعات لگائی جاتیں اور جب عدالت  میں رہائی کا امکان نظر آتا تو این ایس اے لگا کر اس کے ہاتھ باندھ دیئے جاتے ۔

 صفورہ زرگر کو جب  حاملہ ہونے کے سبب  عوام کی ہمدردیاں ملنے لگیں تو  سماجی رابطے کے ذرائع میں کردار کشی کا بازار گرم ہوگیا ۔اس کے توسط شاہین باغ کے احتجاج پر جو اخلاق سوز رکیک بہتان طرازی کی گئی اس سے ہندوتوا کے حاملین  کا  کریہہ  چہرہ کھل کر سامنے آگیا ۔ساری دنیا نے    ان کی تہذیب و تربیت کا نمونہ دیکھ لیا ۔  لیکن اسی کے ساتھ ان بیجا  گرفتاریوں کے خلاف  بڑھنے والا ڈیجیٹل احتجاج  پنجرہ توڑ تنظیم کے ذریعہ میدان میں آگیا۔ سرکار نے ان  مظاہرین کو بھی پابند سلاسل  کردیا اور آگے بڑھ کر  کپل مشرا جیسے فسادیوں کے بجائے  اصول پسند سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر اور پروفیسر یوگیندر یادو پر بھی شکنجہ کسنے کا گھناونا  منصوبہ تیار ہونے لگا ۔ ہر ش مندر نےدہلی  فسادات کو لے کر  سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی ۔انہوں اشتعال انگیز  تقریر کرکے فساد بھڑکانے   والے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر ، بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرویش ورما اور کپل مشرا جیسے لوگوں کے خلاف  ایف آئی آر درج کرنے کا مطابہ کیا تھا  اس کے جواب میں خود انہیں کا نام فسادی  کی حیثیت  سے ایف آئی آر میں   درج کرلیا  گیا ۔

 اس جبر و ظلم کے خلاف  ملک گیر سطح پر حقوق انسانی کےنامور  علمبرداروں  مثلاً آبھا بھیا، اچن ونائک ، آدتیہ مکھرجی جے این یو ، اجے کمار سنگھ بھونیشور، آنند گوروور ایڈوکیٹ ، آنند مجگائوکر گجرات ، آنند یاگنک ایڈوکیٹ گجرات ، عینی راجا ، پروفیسر انوچنائے جے این یو ،اپرنا سین فلم ڈائریکٹر اور اداکارہ کلکتہ ، اپوروانند قلم کار ، ارونا رائے راجستھان ، اتل سود پروفیسر جے این یو ، بی راجندر پرساد حیدر آباد ، ڈاکٹر سیدہ حمید ، پروفیسر گوہر رضا ، گیتا ہری ہرن ، انام الحسن ، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ اندرا جے سنگھ ، ڈاکٹر جان دیال ، جگنیش میوانی گجرات ، کملا بھسین ، کمل چنائے ، شبنم ہاشمی اور اس طرح کے سینکڑوں سماجی کارکنان ، پروفیسر ، ادیب ودانشوروں نے صدائے احتجاج بلند کی ۔ ان لوگوں  نے پولیس کی مذمت کرتے  ہوئے  پوری زندگی حق کی لڑائی لڑنے والے  امن و بھائی چارے کے  علمبردارکا نام فوری طور پرچارج شیٹ میں  سے نکالنے کا مطالبہ کیا ۔

اس مذمت کے بعد بھی دہلی پولس کا دماغ ٹھکانے نہیں آیا اس نے فساد کے دوران چاند باغ تشدد اور ہیڈ کانسٹیبل رتن لال کے قتل سےمتعلق  فرد جرم  میں معروف  سماجی کارکن یوگیندر یادو کا نام بھی شامل کرلیا ۔اس چارج شیٹ میں شاہین باغ کے اندر لنگر کا چلانے والے ڈی ایس بندرا اور کنول پریت کور بھی موجود ہے۔ان کا نام ملزم کی حیثیت سےتو نہیں ہے مگر سازش میں ملوث ہونے کا اشارہ ضرور کرتا ہے۔ یوگیندر یادو نے اس بابت  بہترین مثال دیتے ہوئے  کہاکہ اس کا مطلب  ہے پہلے جال بچھایا جاتا ہے پھر دانہ ڈالا جاتا ہے اس کے بعد چڑیا آتی ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں ان کے پاس حکومت کی  طاقت ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ اس کارروائی کے اگلے دن صفورہ زرگر کی رہائی دانہ ہے یا حکومت کے خود اپنے جال میں پھنسنے کا احساس ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ویسے اس موقف میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ ایک تو ان نامور شخصیات کے خلاف چارج شیٹ سے ملک سنجیدہ طبقے  میں حکومت کے تئیں پیدا ہونے والی ناراضی، او آئی سی کے اجلاس میں منظور ہونے والی قرار داد یا سابق  ڈی ایس پی دیویندر سنگھ کو  دہشت گردوں کے ساتھ ملنے والی  ضمانت ۔ دیویندر کا صفورہ سے موازنہ کرکے ذرائع ابلاغ میں خوب اچھالا گیا ۔ خیر وجہ جو بھی ہو ۔ صفورہ زرگر کی رہائی زخموں  مرہم ضرور ہے لیکن جب دہلی فساد کے الزام میں گرفتار سارے بے قصورلوگ جب تک  رہا نہیں ہوجاتے اور فسادیوں کو قرار واقعی سزا نہیں ملتی اس وقت تک یہ زخم مندمل نہیں ہوں گے ۔    مودی سرکار کو آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے راج دھرم نبھانا چاہیے ۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker