مضامین ومقالات

کشمیر میں اُم الخبائث !ساقی مجھے شراب کی تہمت پسند نہیں

ش م احمد
7006883587

گزشتہ ماہ کے وسط میں حکومت جموں کشمیر نے وادی ٔ کشمیر میں۶۷/ اور جموںمیں ۱۱۶/ شراب کی دوکانوں کے لئے لائسنس اجرائی کا حکم نامہ جاری کیا ۔ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے اس سلسلے میں دونوں ڈویژنوں کا سروے کر کے کل ملاکر شراب فروشی کے ۱۸۳/ نئے بکری مراکز کی نشاندہی کی تھی ،جہاں دیسی شراب کی خرید وفروخت کے لئے لائسنس کی اجرائی ہونی چاہیے۔ فی الوقت جموں میں۲۲۰/ اور وادی میں صرف ۴/ عدد شراب کی دوکانیں ہائی سیکورٹی زون میں چل رہی ہیں۔۱۹۹۰ء میں عسکریت کا آغاز ہوتے ہی وادی بھرمیں شراب کی نجی اور سرکاری دوکانیں بند ہوئی تھیں، مگر ۲۰۰۵ء میں سری نگر کے ڈل گیٹ علاقے میں شراب کی ایک دوکان کھولی گئی جس پر مسلمانوں کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ اب ۹۰ء کے بعد پہلی مرتبہ وادی کے شمالی، جنوبی،وسطی اضلاع سمیت سری نگر میں شراب سیل آوٹ لیٹ سرکاری طور کام کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے ۔ ا س حکم نامے کے دُوررس اثرات ومضمرات سے شاید ہی انکار کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے دوباتیں ہوگی ،ایک یہ کہ کشمیر میں بنت ِعنب کا نحوست آمیز دھندا فروغ پائے گا، دوسرے مسلم سماج کا تانہ بانہ بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
اس سرکاری آرڈر میں جموں اور کشمیرمیں جن نئے مختلف جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وادی کی حدتک دیکھیں تو عام حالات میں وہاں شراب کی خرید وفروخت کا خواب وخیال میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ شراب نوشی کے بارے میں عوامی ناراضی کا ہی شاخسانہ ہے کہ ۲۰۱۰ء میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شراب کی نئے اجازت نامے جاری کر نے سے احتراز کیا۔ بھاجپا اور پی ڈی پی کی تین سالہ مخلوط حکومت کے دوران بھی ریاست میں دیسی شراب کی کوئی ایک بھی نئی دوکان نہ کھولی گئی۔ بہرحال نیا سرکاری حکم نامہ منظر عام پر آتے ہی حسب ِ توقع اہل ِکشمیر میں بے چینی پھیل گئی ،طرح طرح کی چہ مہ گوئیوں کا بازار گرم ہوا۔ یہ اسی کا لیکھا جوکھا ہے کہ کشمیر کی ایک بااثر مذہبی وسیاسی شخصیت میرواعظ عمر فاروق کی سر براہی میں متحرک متحدہ مجلس ِ علماء نے اپنا شدیدردعمل ظاہر کر کے نئے حکم نامے کو ناقابل قبول قراردیا۔ مجلس خطے کی تمام مذہبی تنظیموں اور ممتاز علمائے دین پر مشتمل ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے جو اتحاد بین المسلمین اور اصلاح ِ معاشرہ کا نصب العین رکھتاہے۔ا پنے پریس بیان میں مجلس نے سرکار کوا س بارے خبردار کر کے کشمیریوں کی اجتماعی ناراضگی کا بروقت آئینہ دکھایا ۔ ڈاکٹررز ایسوسی ایسوسی ایشن کشمیر نے بھی شراب کی دوکانیں کھولے جانے پر طبی نقطہ ٔ نگاہ سے تباہ کن بتایا ہے ۔ واضح رہے شراب کی مخالفت صرف مسلمانان ِ کشمیر کادرد نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی ریاست میں شراب اور شراب بارزپر مکمل پا بندی کی حامی ہے ۔ دوسال قبل پردیش بھاجپا کے گرم گفتار پریذڈنٹ رویندر رینہ نے جموں ڈویژن میں شراب کی دوکانیں اور بار بند کر نے کی زوردار مانگ کی تھی ۔
اس وقت وادی ٔ کشمیر میں اُم ا لخبائث کا ذکر ہر جانب چھڑاہوا ہے ۔ عوام الناس ، مذہبی حلقے اور سماجی ویب گا ہوں پر تبادلہ خیال کر نے والے سنجیدہ صارفین متحد الخیال ہیں کہ شراب پر ایل جی انتظامیہ کو کشمیر میں مکمل پابندی عائد کر نی چاہیے ۔ لوگ بوجوہ زیر بحث سرکاری اقدام پر نہ صرف مخالفانہ تبصرے کررہے ہیں بلکہ اُن میں حکام کی نیت کے تئیں شکوک وشبہات بھی بڑھ رہے ہیں ،غم وغصہ کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں، علی الخصوص والدین اس فکر وتشویش مبتلا ہیں کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو اس نئی بلا سے کیسے بچائیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کشمیر میں شراب نوشی اور نشہ بازی سے چھٹکارا پانے کے حوالے سے رائے عامہ حکومتی اکابرین پر برہم ہو۔ ہردور میں کشمیری منشیات اور شراب نوشی کی اخلاق باختہ بدعت پر سراپا احتجاج چلے آرہے ہیں ۔ تلخ سچ یہ بھی ہے کہ یہاں کی مسلم آبادی سرکاری سرپرستی میں شراب کی خرید وفروخت کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتی رہی ۔ ان کے نزدیک یہ کشمیریوں کے مسلم تشخص کے خلاف ایک سوچا سمجھا سیاسی حربہ ہے ،جس کا توڑ کر نے کے لئے لوگ کئی دہاہیوں سے وقتاًفوقتاً مطالبہ کرتے رہے کہ شراب پر سرکاری طور مکمل پابندی لگائی جائے۔ آج سے پانچ سال پہلے میرواعظ کشمیر عمر فاروق، سید علی گیلانی، متحدہ مجلس عمل، کاروانِ اسلامی، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، اسلامک اسٹیڈی سرکل وغیرہ نے بھی اس سلسلے میں رائے عامہ ہموار کر نے کی مقدور بھر کاوشیں کی تھیں مگر ہر بار کی طرح اُس وقت بھی یہ تمام آواز یں صدابصحرا ثابت ہوئیںکیونکہ حکام اپنی گراں گوشی ترک کر نے پر تیار نہ ہوئے۔ شاید ان عوامی آوازوں کی اَن دیکھی اس خیال سے ہو تی رہی ہے کہ شنوائی کی صورت میںاُن عناصر کے موقف کی پذیرائی ہو تی ہے جنہیں سیاسی اصطلاح میں الحاق مخالف یا علحیدگی پسند کہاجاتاہے ۔ نتیجہ یہ کہ اِدھر دیسی شراب کی کھپت میں بلا ناغہ اضافہ ہوتا گیا ، اُدھر نوجوانوں کی ایک قابل ِ ذکر تعداد نوجوان جام وصراحی کی بھینٹ چڑھتی گئی ۔ ستم بالائے ستم حکومتیں ان زمینی حقائق کو نظر اندازکر کے شراب کے دھندے سے حاصل ہونے والی آمدنی کی جمع تفریق سالانہ بجٹ میں پیش کرکے اپنی بغلیں بجا تی رہیں ۔ برسوں پہلے یہ آمدنی سالانہ بیس کروڑ روپے سے متجاوز تھی ۔ اس وقت خزانہ ٔ عامرہ میں ا س مد میںکتنی رقم سالانہ بڑھ چکی ہے،اس بابت تازہ اعداد وشمار دستیاب نہیں ۔
شراب کی بندش کو عوامی سطح پر ممکن بنانے کے لئے ’’دختران ِ ملت‘‘ نامی خواتین کی مذہبی انجمن اپنے طورایک جانب لوگوں کو نشہ آور اشیاء سے پرہیز کر نے کی فہمائشیں کر تی رہی ہے اور دوسری جانب راست اقدام کے طور ایک موقع پر ڈل جھیل کے کنارے واقع شراب کے سیل ڈپو پر حملہ بھی بولا ۔ اس شراب مخالف مہم سے کشمیر مسلمانوں نے
’’ دختران ِ ملت‘‘ کو سراہا ضرور مگر تنظیم کی سربراہ آسیہ اندرابی سمیت ان کی بعض دوسری ساتھیوں کو قانون شکنی کے الزام میں گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا ۔
تاریخ ِکشمیر کے چکلے چوڑے سینے میں یہ پریشان کن معمہ بھی درج ہے کہ جب اپنے وقت کے ہر دلعزیز وزیراعلیٰ اور وقت کے قدآور لیڈر شیخ عبداللہ نے دوسری بار اقتدار سنبھالا تو شراب کی خریدوفروخت کو سرکاری اجازت دئے جانے کابل ریاستی اسمبلی میں پیش کیا ۔ باوجودیکہ اِن کے سیاسی مخالفین ، نظریاتی حریفوںاور مذہبی قیادت نے اس مسودہ ٔ قانون کی جی جان سے مخالفت کی ، اسے اسلامی عقائد سے متصادم کہہ کر اس کی مقصدیت پر تیکھے سوال بھی کئے مگر حکمران پارٹی نیشنل کانفرنس نے اسمبلی میں اپنی بھاری اکثریت کے بل پر یہ مسودہ ٔقانون باسآنی منظور کروایا ۔ یوں وقتی طورشراب مخالف قوتوں کی آوازیں قد آور لیڈر کے سامنے دب کر رہ گئیں ، مگر وہ خواب لوگوں کی آنکھوں میں مسلسل بسا رہا جو ادیٔ کشمیر سے شراب کی مکمل پابندی کی صورت میں مسلمان خاص کر دیکھتے رہے ہیں ۔ ان ایام میں شیخ عبداللہ کے سیاسی دبدبے کا یہ جادو تھا کہ اُس وقت کی ایک سرکردہ مذہبی شخصیت( یہ رُکن ِاسمبلی بھی تھے) کو بھی بل کے حق میں اپنا ووٹ دینا پڑا، حالانکہ لوگ ورطہ ٔ حیرت میں پڑے ، موصوف کی کڑی تنقیدیں بھی ہوئیں مگر جہلم کا پانی آگے بہنے سے نہ رُکا۔
اُن دنوں ’’حلت ِمے ‘‘کے حق میںوجوہ ودلائل کے عنوان سے یہ سرکاری بیانیہ رہا کہ ریاست کی معیشت کا مرکز و محور چونکہ سیاحت ہے،اس لئے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ خطے میںانگور کی بیٹی صبح وشام سیاحوں کے لئے بلا روک ٹوک دستیاب رہے ۔ آج تک یہی موقف شراب کے تعلق سے سرکاری بیانیے کا جزولاینفک ماناجاتا ہے۔ دوسری جانب بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نظر آتے ہیں،انہوںنے اپنے انتخابی منشور میں ریاست کو شراب کی بدعت سے مکمل طور پاک وصاف کر نے ( گجرات کی طرح ڈرائی سٹیٹ بنانے) کا جو وعدہ کیا تھا، کرسی سنبھال کراولین فرصت میں اُسے پوراکر ڈالا ۔ اگرچہ ا س سے ریاستی خزانہ ٔ عامرہ کی آمدنی میں بھاری نقصان ہوا ، پھر بھی انہوں نے نشہ بندی کے فوائد دیکھتے ہوئے نہ صرف عوامی خواہشات کی قدر کی بلکہ ایک صحت مند روایت کی نیو بھی رکھی ۔
بادی النظر میں مسلم اکثریتی وادی میں شراب نوشی مخالف جذبات کا پایا جانا کوئی انہونی بات نہیں کیونکہ مسلمان بالاجماع مذہباً بادہ خواری کے شدیدمخالف ہیں اور یہ ان کے دین وایمان کا بنیادی حصہ ہے ۔ بایں ہمہ فی زماننا وادی میں سیاسی خلاء کے چلتے شراب کے حوالے سے ا یسا سرکاری اقدام مسلمانوں میں بے چینی کو دو چند کر نے کا موجب بننا قدرتی امر ہے۔ غور طلب ہے کہ جموں اور کشمیر بھی کووڈ۔ ۱۹ کے اسی پُر آشوب دور سے گزر رہاہے جب حکومتوں کی تمام ترتوجہ عالمی وبا سے بچاؤ پر مرکوز ہے ، لیکن یہاں اس گھمبیر صورت حال میں ہی ڈومسائل رولز نافذکئے گئے جن پر عام لوگ اور ریاست کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں بھی شدید ذہنی تحفظات رکھتی ہیں ۔ اور اب شراب کی دوکانیں کھولنے کی تیاریاں چلیںتو کیا کہئے ۔ انہی وجہ سے بھی نیا سرکاری حکم نامہ لوگوں کے لئے نا قابل فہم بناہواہے ۔ عوام چاہتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ سرکار اپنی اولین ترجیح بے روزگاری اور دیگر حل طلب مسائل بنائے ، مگرانتظامیہ واد یٔ کشمیر کی دیرینہ روایات، سماجی انفردایت اوراخلاقی اقدار سے بے خبری کے عالم میں شراب کی کھپت کو ترویج دینے میں لگی ہے۔ لوگوں کو یہ خدشہ لا حق ہے کہ کشمیریوں کی نئی نسل میں بادہ خواری کی حوصلہ افزائی کرنا اُن کے اخلاقی دیوالیہ پن پر منتج ہونا طے ہے۔ اس بیچ ایک وائرل ویڈیو سوشل میڈیا میں گشت کررہاہے جس میں وادی میں نشہ بازی کا دھندا کر نے والوں کو خفیہ ہاتھوں کی سرپرستی حاصل ہونے کا انکشاف کیا گیاہے۔ یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے اور وثوق سے نہیں کہاجاسکتا کہ آیا ویڈیو مبنی برصداقت ہے یا نہیں ۔ قبل ازیں بھی کئی باروادی میں لوگ حکام پر اس نوع کی الزام تراشیاں کر تے رہے ہیں کہ منشیات کے دھندے میں ملوثین کو حکام کی درپردہ حمایت حال ہے ۔
بہر صورت وادی میں گاؤں گاؤں شراب کی خرید وفروخت کے سلسلے میں سرکاری سطح پر اتنی دلچسپی کبھی نہیں د کھائی جاتی تھی مگر اب ایسا کیاہوا کہ شراب کے دھندے کو وسیع پیمانے فروغ و ترقی دی جارہی ہے ۔ فی ا لوقت وادی ٔ کشمیر میں صرف چار مختلف مقامات پر شراب کی چار سرکاری دوکانیں چل رہی ہیں جن سے نشہ باز اپنا راتب چھپتے چھپاتے حاصل کر تے ہیں ۔ ان میں سے ایک دوکان سیاحتی اہمیت کے حامل شہرہ ٔ آفاق ڈل جھیل کے کنارے ، دوسرا بادامی باغ سری نگر کے آرمی کنٹونمنٹ ایریاء ، تیسرا گلمرگ اور چوتھا جنوبی کشمیر میں واقع ہے ۔ سنہ نوے کو جب وادی میں عسکریت کا بگل بجا تو شراب خانے ، سنیما گھر ، بیوٹی پارلر اور اسی قسم کی دوسری دوکانیں بزور بازو مقفل کروائے گئے ، بعدازاں حکومتی اعانت سے سری نگر کے دو ایک سینما گھر کھل بھی گئے،بیوٹی پالر بھی رفتہ رفتہ کام کاج کر نے لگے، البتہ مے خانے اب بھی زیادہ تر بند پڑے ہیں ۔ بہتری اور برتری اسی امر میں مضمر ہے کہ وادی ٔ کشمیر بشمول وادی ٔ چناب اور پیر پنچال رینج کے مسلم اکثریتی علاقوں میں شراب خانے کھولنے کے حکم نامے پر نظر ثانی کی جائے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker