ہندوستان

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں لائبریری میں گھس کر طلبہ پر تشدد،ہائی کورٹ 6 جولائی کو کرے گا سماعت،پولیس نے خودکوبتایا بے قصور

نئی دہلی، 29 جون (بی این ایس )
دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو کہا کہ وہ پچھلے سال دسمبر میں ترمیم شدہ شہریت ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہروں کے دوران تشدد سے متعلق درخواستوں کی سماعت 6 جولائی کو کرے گا ۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پریتک جالان کی بنچ نے اس معاملے کو 6 جولائی کے لئے درج کیا کیونکہ اس معاملے میں بحث مکمل نہیں ہوئی تھی اور درخواست گزار کے دلائل کو ریکارڈ پر نہیں لیا گیا تھا۔بنچ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کے دوران کہاکہ اس معاملے کو 6 جولائی کے لئے ملتوی کردیا جائے۔ کوڈ 19وبا کی وجہ سے عدالتوں کا کام محدود ہوگیا ہے۔دہلی پولیس کاموقف رکھتے ہوئے سالسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ نبیلہ حسن نامی درخواست گزار نے غیر ذمہ دارانہ درخواست دی ہے۔ حسن نے پولیس سے درخواست گزاروں، طلبہ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رہائشیوں پر وحشیانہ حملے کے الزام میں پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حسن کی درخواست میں یونیورسٹی طلبہ پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مبینہ بے رحمانہ زیادتی اور جارحیت کے خلاف بھی کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مہتا نے کہا کہ چونکہ حسن کا دہلی پولیس کے جواب پر دائر کردہ الحاق ابھی تک عدالت کے ریکارڈ میں پیش نہیں ہوا ہے، اس لئے وہ اگلی سماعت پر اس معاملے پربنچ سے بات کریں گے۔ حسن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ کولن گونجالیوس نے کہا کہ انہوں نے دی گئی درخواست میں کچھ اور چیزیں شامل کرنے کے لئے درخواست دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ دیگر درخواستوں کے ساتھ 6 جولائی کو اس کی سماعت کرے گی۔ دہلی پولیس نے اپنے حلف نامے میں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کرنے والی ان درخواستوں کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ درخواستیں عوامی تحریک کے دائرہ اختیار کا غلط استعمال ہیں کیونکہ یونیورسٹی کیمپس اور اس کے آس پاس کے پرتشدد واقعات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور کچھ لوگوں نے اسے مقامی تعاون سے انجام دینے کی کوشش کی تھی، تشدد کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی مانگ کرتے ہوئے دائر ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ پولیس کی بربریت کا دعوی جھوٹ ہے۔ پولیس نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے وکلاء، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ، اوکھلا کے رہائشی اور جامع مسجد کے امام کی طرف سے دائر درخواستوں کے جواب میں وکلاء امت مہاجن اور رجت نیئر کے توسط سے اپنا حلف نامہ داخل کیاہے۔ درخواست گزاروں نے طلبہ کے علاج و معالجہ، معاوضے اور گرفتاری سے عبوری راحت طلب کی ہے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker