ہندوستان

اگر والمیکی ڈیم کو نہیں بچایا گیا تو بہار تباہ کن سیلاب کی زد میں آجائے گا ۔۔۔۔۔، حکومت کی لاپرواہی سے سرحدی خطے کی عوام میں خوف کا ماحول قائم

رکسول۔ 29/ جون ( محمد سیف اللہ)

ایک طرف جہاں بہار میں عوام کو بنیادی سہولیات کے فقدان اور زندگی کے تمام شعبوں میں جاری لوٹ کھسوٹ ،بندر بانٹ اور کالا بازاری کی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا ہے وہیں برسات کا موسم شروع ہوتے ہی پورے بہار پر جس تیزی کے ساتھ سیلاب کے بادل منڈلانے لگے ہیں اس سے ہند نیپال کی سرحد یا سمندر کے کنارے رہنے والے لاکھوں افراد میں افراتفری کا ماحول شروع ہو گیاہے خاص طور پر حالیہ دنوں چین اور نیپال سے ہندوستان کے بگڑتے رشتے کی جو تصویریں میڈیا کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں اس نے نہ صرف پورے بہار کی عوام کے چہروں پر تشویش کی لکیریں ڈال دی ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اگر اس صورت حال کا کوئی قابل اطمینان حل نہیں تلاش کیا گیا اور زمینی وآبائی مسائل کو مل بیٹھ کر دور کرنے کی پیش رفت نہ ہوئی تو پورا ملک عجیب وغریب بحران کا شکار ہو جائے گا کیونکہ اطلاع کے مطابق نیپال ہمالیہ کی چوٹی سے نکل کر ہندوستان میں داخل ہونے والی دو مشہور ندی گنڈک اور والمیکی پر بنے ڈیم کی خستہ حالی کے حوالے سے جو خبریں آرہی ہیں اور جس طرح پانی کے بڑھتے دباو کے سبب اس کے ٹوٹنے کی اطلاعات ہیں اگر ان پر یقین کیا جائے تو حالات کافی چونکانے والے ہیں اس لئے کہ اگر ایسا کچھ ہوا تو بہار کا ایک بڑا حصہ اس کی زد میں آکر ناقابل یقین نقصان کا سامنا کرنے پر مجبور ہوجائے گا،بتادیں کہ والمیکی ندی پر بنے ڈیم میں 36 کھمبے لگے ہوئے ہیں جن میں سے 18 نیپال کی سرحد میں جبکہ 18انڈیا کے حدود میں ہیں اور شروع سے ہی اس ڈیم کی نگرانی انڈیا کے انجینئرس کرتے رہے ہیں ماضی میں کئی دفعہ اس ڈیم میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی جس کو ہندوستان نے اپنی نگرانی میں درست کرایا تھا مگر ادھر نیپال کے ساتھ جاری زمینی تنازع کے بعد نیپال نے اپنا جو نیا نقشہ جاری کیا ہے اس کی بنیاد پر اس نے ہندوستان کے حصے میں بنے ڈیم پر بھی اپنی دعوے داری پیش کر دی ہے اور اس وجہ سے اس نے نہ صرف ہندوستانی انجینئروں کو کام سے روک کر واپس کر دیا ہے بلکہ اس کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے حدود کا حصہ ہے اس لئے اب اس کہ درستگی کی ذمہ داری ہماری ہے اگر ہمارے پاس سہولت ہوگی تو درست کریں گے ورنہ اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے گا ظاہر ہے کہ نیپال کے اس غیر اصولی وغیر ذمہ دارانہ رویہ کے بعد ہر طرف خطرات کی دستک شروع ہو گئی ہے،کیونکہ بہار حکومت ان تمام حالات کے باوجود خاموشی کی نیند سوئی ہے اس نے ابھی تک نہ تو ان حالات سے نمٹنے کے لئے ابھی تک کوئی منصوبہ بندی کی ہے اور نہ عوام کو ان حالات سے بچانے کے لئے اس کے پاس کوئی قابل اطمینان فارمولہ نظر آرہا ہے،یاد دلادیں کہ 1959 میں بھارت اور نیپال کے مابین معاہدے کے بعدوالمیکی نگر میں بیراج (ڈیم) تعمیر کی مہم شروع ہوئی تھی اور اسی منصوبندی کے تحت 4 مئی 1964 کو ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ، پنڈت جواہر لال نہرو نے نیپال کے بادشاہ مہیندر ویر وکرم شاہ کی موجودگی میں والمیکی نگر بیراج (ڈیم) کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس وقت ان کی بیٹی اندرا گاندھی بھی ان کے ساتھ تھیں،جو بعد میں ہندوستان کی وزیر اعظم بنی تھیں،رپورٹ کے مطابق نیپال اپنا نیا نقشہ جاری کرکے ہندوستان کے ساتھ زمینی تنازع کو مزید الجھائے رکھنے پر توجہ دے رہا جس کی وجہ سے وہ ہندوستان سے اپنے تمام پرانے رشتوں کو فراموش کرتے ہوئے ہٹ دھڑمی پر امادہ یے اور اس کی پیش رفتوں سے کئی طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ نیپال کی ندیوں سے آنے والا پانی ہر سال جنوبی بہار کے لیے بہت بڑی تباہی لے کر آتا ہے۔اس لیےہندوستان نے نیپال کی سرحد سے ملحق بہار کے مشرقی چمپارن میں  گنڈک ندی پر والمیکی نگر کا یہ ڈیم تعمیر کرایا تھا جسے تقریباً ہرسال مرمت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس بار نیپال نے مرمت کی اجازت دینے انکار کر دیا ہے،حالانکہ اطلاعات کے مطابق ندی میں پانی کا دباو روز بروز بڑھنے کی وجہ سے اس ڈیم کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے،شاید اسی وجہ سے ہندوستان نیپال انتظامیہ سے مسلسل بات کے ذریعہ اس صورت حال کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا لیکن نیپال نے خاموشی سادھ رکھی ہے،خیر اب ہوگا کیا اس پر تو کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر جس طرح کے منظر نامے ہماے سامنے ہیں وہ کافی بھیانک ہیں اس لئے اگر والمیکی نگر ڈیم ٹوٹ گیا تو بڑے نقصان کا بوجھ ڈھونے کے لئے بہار کی عوام کو تیار رہنا ہوگا۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker