اخبارجہاں

امریکی سپریم کورٹ کاحیرت انگیزفیصلہ،اسقاط حمل کے خلاف قانون کوہی کالعدم قراردے دیا

آن لائن نیوزڈیسک
امریکی سپریم کورٹ نے ریاست لوزیانا کے اسقاط حمل سے متعلق ایک قانون کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔اسقاط حمل کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کنزرویٹو سمجھے جانے والے چیف جسٹس جان رابرٹس کا اقدام کچھ لوگوں کے لیے حیران کن تھا جنھوں نے چار لبرل ججوں کے ساتھ مل کر کثرت رائے سے یہ فیصلہ دیا۔
صدر براک اوباما کے دور میں ریاست ٹیکساس کے ایسے ہی ایک قانون کو اس وقت کی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس جان رابرٹس کا کہنا ہے کہ وہ فیصلہ غلط تھا لیکن ایک نظیر قائم ہو چکی ہے۔
قانون کے مطابق اپنے کلینک میں اسقاط حمل کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے ضروری تھا کہ وہ قریبی اسپتالوں میں اپنے مریضوں کو داخل کرنے کی اجازت حاصل کریں۔ ایکٹوسٹس کو اعتراض تھا کہ خواتین کو اس عمل کے بعد کبھی کبھار ہی اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے اور اسے لازم قرار دینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ماؤں کی صحت اور جنم نہ لینے والے بچوں کی زندگی کی قدر گھٹائی ہے۔ بنیادی جمہوری اصولوں کی پاسداری کی بجائے غیر منتخب ججوں نے ریاستی حکومتوں کے اختیارات میں مداخلت کی ہے اور جائز اور محفوظ قواعد کے مقابلے میں اسقاط حمل کے حق میں اپنی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔
چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ سابقہ فیصلوں کی عدالتی نظیر کی روشنی میں ہمارے لیے ضروری ہے کہ اگر خصوصی صورت حال نہ ہو تو تمام مقدمات کو ایک طرح سے دیکھیں۔ لوزیانا کا قانون اسقاط حمل کروانے والوں پر اسی طرح بوجھ بڑھاتا ہے جیسے ٹیکساس کا قانون کرتا تھا۔ چنانچہ لوزیانا کا قانون ہماری نظیروں کے مطابق قائم نہیں رہ سکتا۔یہ فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ قدامت پرست امریکہ میں اسقاط حمل کے حق کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ نئے کنزرویٹو جج سپریم کورٹ کے دوسرے ججوں کو اسقاط حمل پر پابندیاں لگوانے کے لیے راضی کر لیں گے اور انجام کار 1973 کے اس فیصلے کو بھی بدلا جا سکے گا جس میں اسقاط حمل کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے جج اسٹیفن برائر نے لکھا کہ ججوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ لوزیانا کا قانون غیر آئینی ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اسقاط حمل کی مخالفت کی وجہ سے بعض اسپتالوں نے یہ عمل کرنے والے ڈاکٹروں کے مریضوں کو داخلے کی اجازت سے انکار کیا۔
ماہرین صحت کا خیال ہے کہ امریکہ میں ایک سال میں 8 لاکھ کے لگ بھگ اسقاط حمل کے کیسز کیے جاتے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں میں کم ہوئی ہے کیونکہ 1978 سے 1997 تک اس کا اوسط 10 لاکھ تھا اور ایک مرحلے پر 14 لاکھ تک پہنچ گیا تھا۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker