ہندوستان

نیپال کے غیر شعوری رویے پر سرحدی علاقے کی عوام کا اظہار تشویش ۔۔۔۔، لوگوں نے کہا، نیپال اپنے ماضی کو بھول کر کسی کے بہکاوے کا شکار ہو گیا ہے

رکسول ۔30/ جون ( محمد سیف اللہ)

اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑوسی ملک نیپال کے ساتھ ہندوستان کے رشتے ماضی کی تاریخوں میں قابل ذکر حد تک مستحکم رہے ہیں اور بیٹی روٹی کے رشتے کو نبھانے اور اس کو مضبوط بنائے رکھنے میں ہمیشہ ہندستان نے بڑے بھائی کی طرح ذمہ دارانہ رول نبھایا ہے حتی کہ اگر تاریخی واقعات پر غور کریں تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جب بھی نیپال کسی بحران کا شکار ہوا اور عالمی برادری نے اس کی طرف توجہ دینے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تو ایسے وقت میں بھی ہندوستان نے ہی اسے سنبھال کے پوری قوت اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی راہ دکھائی جب نیپال راج شاہی کے دور میں تھا تب بھی ہندوستان اس کا قابل رشک دوست بن کر اس کی ہر دشواری کے ساتھ کھڑا رہا پھر جب نیپال کی تاریخ نے کڑوٹ لی اور اس نے جمہوریت کے سائے میں اپنے سفر کی شروعات کی تو اس کے بعد سے لے کر آج تک ہر مرحلے میں ہندوستان بڑی خوبصورتی کے ساتھ مضبوط پڑوسی کا کرادار نبھاتا آرہا ہے،ماضی میں ایک دو واقعات کی وجہ سے دونوں کے رشتوں میں معمولی تلخی ضرور آئی مگر اس تلخی کو زیادہ دنوں تک باقی رکھنے کی بجائے ہندوستان نے خود آگے بڑھ کر نیپال کو سینے سے لگا کر اسے حوصلہ دیا یہی وجہ کہ دونوں ملکوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف ایک دوسرے کےیہاں روزی روٹی کے لئے موجود ہے بلکہ دونوں ملکوں کی عوام میں رشتہ داریاں بھی قابل ذکر ہیں،لیکن ادھر کچھ دنوں سے نیپال ہندوستان کے تمام تر احسانات کو فراموش کرکے جس طرز عمل کے ساتھ آگے کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے وہ نہ صرف مایوس کن ہیں بلکہ اس کے غیر ذمہ دارانہ روئے نے سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور یہ تشویش اس لئے حق بجانب ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں سیتامڑھی اور رکسول سے متصل سرحدی علاقوں میں جس قسم کے ناقابل اعتبار واقعات سامنے آئے ہیں اور جس طرح نیپال کی فوج کے ذریعہ کئی ہندوستانیوں نے اپنی جان کی بازی ہاری ہے وہ سکتے میں ڈالنے والی ہیں،اس کے علاوہ نیپال نے حالیہ دنوں میں اپنے ملک کا نیا نقشہ جاری کرکے ہندوستان کے کئی مقامات پر اپنی جو دعوے داری پیش کی ہے اس سے بھی نیپال کی نیت اور اس کے ارادے کچھ الگ رنگ پیش کر رہے ہیں،ظاہر ہے کہ اس صورت حال کا اگر منفی اثر سامنے آئے گا تو اس سے سب سے زیادہ سرحدی خطے کے لوگ متاثر ہوں گے اور ان کو بنیادی طور پر کئی طرح کے تکلیف دہ حالات کا شکار ہونا پڑے گا یہی وجہ ہے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول اور اس سے جڑے علاقوں کی عوام نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات کی رفتار یہی رہی اور نیپال اپنے اڑیل روئیے پر اسی طرح قائم رہا تو دونوں ملکوں کی عوام کو مشکل حالات سے سابقہ پڑے گا،انہی سب منظرنامے کی حقیقت کو جاننے کے لئے جب اس نمائندہ نے سرحدی علاقے پر آباد دونوں طرف کے لوگوں سے بات کی تو سب کا درد کچھ ایک سا ہی رہا،لوگوں کا ماننا ہے کہ جس نیپال کے لئے ہندوستان نے اب تک کی تاریخ میں بہت کچھ کیا ہے وہ ہی اب اپنے پڑوسی کو گیدڑ بھپکی دے رہا ہے حالانکہ ہندوستان نیپال کی معاشی اور اقتصادی قوت کو مضبوط بنانے میں ہمیشہ ہی کلیدی کردار اس لئے نبھاتا رہا ہے کہ پڑوسی کے ساتھ اس کے تعلقات کی جڑ مضبوط رہے،اسی فکر کے تحت ہندوستان نے بڑے بڑے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنے پر ہمیشہ ہی زور دیا ہے،لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سرحد پر جس طرح کا تناو قائم ہے اس سے ان دونوں ملکوں کے آپسی رشتوں کے ساتھ دونوں ملکوں کی عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہونچے گی اور اس حالت میں عوام کے لئے اپنے رشتہ داروں کے یہاں آمد ورفت کا مسئلہ بھی بگاڑ کے موڑ پر کھڑا ہو جائے گا،ان کا کہنا ہے کہ نیپال چاہے جس کے اشارے پر بھی یہ رویہ اپنا رہا ہو مگر اپنے ماضی کو بھول کر اس نے ہندوستان سے رشتے کو بگاڑنے پر جس طرح خود کو امادہ ہے وہ افسوسناک ہے کیونکہ اس سے تجارت سمیت کئی طرح کے مسائل سامنے آئیں گے،اس لئے نیپال کو اپنی اس حرکت سے باز رہتے ہوئے زمینی وسرحدی تنازع کو جلد ختم کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker