Baseerat Online News Portal

پرائیویٹ اسکول مالکان کی منمانی کے خلاف آل انڈیا بیداری کارواں کا احتجاجی جلوس، مارچ سے اگست تک کی فیس معافی کی مانگ

وزیراعلیٰ نتیش کمار، وزیرتعلیم اور اسکول مالکوں کا پتلانذرآتش، گارجین کو استحصال سے نجات ملنے پر ہی ختم ہوگی تحریک : نظر عالم

 

دربھنگہ: 2 جولائی (محمد رفیع ساگر / بی این ایس) پرائیویٹ اسکول کی من مانی اور جبراً فیس وصولی کے خلاف آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے جمعرات کو ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس لال باغ سے پیدل چل کر پونم سنیما روڈ ہوتے ہوئے مرزا پور سے خانقاہ چوک کے راستے ناکا نمبر5 پہنچ کر جلسہ میں تبدیل ہوگیا۔ اس احتجاجی جلوس کی صدارت بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کی۔اس دوران بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار، وزیر تعلیم بہار اور پرائیویٹ اسکول مالکان کا پتلا نذرآتش کر اپنے غصے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر نظرعالم نے کہا کہ کورونا سے انسانی زندگی تباہ ہوتی جارہی ہے اور لوگوں کا ذریعہ معاش ختم ہوتاجارہا ہے ایسے میں ادھر کچھ دنوں سے پرائیویٹ اسکول مالکان تعلیم کے نام پر مافیاگری کرکے کروڑوں روپیہ کماکر بیٹھے ہیں پھر بھی کبھی پریس کانفرنس کرکے تو کبھی میڈیا میں خبر چھپواکر طالب علم کے گارجنیوں پر فیس کے لئے دباؤ بنا کر انہیں ذہنی انتشار میں مبتلا کر رہے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ مسٹرنظرعالم نے بتایا کہ فی الحال ہلکی سی تحریک کی شروعات ہوئی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سبھی پرائیویٹ اسکول مالکان مارچ 2020 سے اگست تک کی ہرطرح کی فیس معاف کرے ساتھ ہی دوبارہ داخلہ کے نام پر جو موٹی رقم کا کھیل ہوتا ہے اسے بھی موخر کیا جائے۔ انہوں نے کرایہ کے مکان میں رہکر تعلیم پانے والے اسٹوڈنٹ کا کرایہ معاف کردینے کی بھی مکان مالک سے گذارش کی ہے۔مسٹر نظر عالم نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس معاملے میں حکومت اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ اسکول یونین نے فوری فیصلہ کرکے بچوں کا فیس معاف نہیں کیا توآگے اسکول مالکان اور حکومت کے خلاف بڑی تحریک چلائی جائے گی اور تب تک یہ تحریک جاری رہے گی جب تک اسکول مافیامن مانی اور غیرقانونی رقم وصولی سے بعض نہیں آجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکول مالکان اساتذہ کے تنخواہ کی ادائیگی کا حوالہ دیکر جو فیس وصولی مہم چلا رہے ہیں وہ اساتذہ کے ساتھ بھی ایک فریب ہے۔اگر اسکول مالکان واقعی ہمدرد ہیں تو اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہ کو ظاہر کرے۔اس موقع پر کارواں کے جنرل سکریٹری مطیع الرحمن، راحت علی(ترجمان)، ہیرا نظامی، وسیم احمد، حسنین بابا،محمدطالب، محمدضیاء الرحمن، ایڈوکیٹ صفی الرحمن، منا بھائی، محمد کلیم، قاری سعید ظفر، زبیرعالم، ارمان، ببلو، سونو کمار، راجن وغیرہ بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔واضح ہوکہ پرائیویٹ کی من مانی اور لوٹ کے خلاف آل انڈیا مسلم بیداری کارواں 7 سالوں سے مسلسل تحریک چلا رہا ہے۔ان کا دعوی ہے کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پرائیویٹ اسکول مالکان کے استحصال سے گارجین کو نجات نہیں مل پاتی ہے۔

You might also like