Baseerat Online News Portal

سعودی عرب: جن کا اقامہ ختم ہو چکا ان کی ایک ماہ کی فیس معاف

آن لائن نیوزڈیسک
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے ان غیر ملکیوں کی فیس میں ایک ماہ کی معافی کی منظوری دی ہے جن کے اقامے ختم ہیں، اس بات کا بھی خیال رکھا جائے گا کہ حسب ضرورت مزید ایک ماہ کی فیس میں بھی معافی ہوسکتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان بن عبد العزیز نے کورونا بحران سے متاثر ہونے و الے شعبوں، اداروں اور افراد کی مالی امداد میں توسیع کی بھی منظوری دیدی ہے۔
کورونا بحران کے آغاز میں متاثرہ اداروں اور افراد کے لیے جس امداد کی منظوری دی گئی تھی اس میں مزید توسیع کی جائے گی تاکہ اس سے پوری طرح استفادہ کیا جائے۔
حکومتی امداد کی شاہی توسیع میں کہا گیا ہے کہ ’ کورنا بحران کے باعث متاثر ہونے والے نجی شعبوں میں کام کرنے والے سعودی شہریوں کی امداد ’ساند سسٹم‘ کے تحت جاری رہے گی‘۔
’غیر ملکی کارکنوں کے ریکروٹمنٹ اداروں کے جرمانے معاف کیے جائیں گے۔ جن نجی شعبوں کو لائسنس کے مطابق کام نہ کرنے پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا، انہیں بحال کیا جائے گا‘۔
’ تمام نجی شعبوں کے نطاقات پروگرام میں ایک سعودی ملازم کا اضافہ تصور کیا جائے گا۔ شہریوں کی کم سے کم تنخواہ کی پابندی نہ کرنے والے جن اداروں کو کاروبار سے روک دیا گیا تھا انہیں فی الحال بحال کیا جائے گا‘۔
’ تمام درآمدات پر فیس 30 دن کے لیے معطل کی جائے گی تاہم اس کے لیے اداروں کو بینک گارنٹی دینی ہوگی‘۔
قسطوں پر اشیا کی خریداری اور ادائیگی کی درخواستیں قبول کی جائیں گی اور پہلی ادائیگی (فرسٹ پیمنٹ) کی شرط ختم کی جائے گی‘۔
’کسٹم اداروں کی طرف سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وصولی موخر کی جائے گی۔ اسی طرح ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی رقم واپس لینے کی درخواستیں فوری قبول کی جائیں گی جبکہ درخواست کا معائنہ بعد میں ہوگا‘۔
’ٹیکس اور زکوۃ کی رقم ادا نہ کرنے والے اداروں اور افراد سے دو ماہ میں ادائیگی میں رعایت کی جائے گی اور انہیں مزید مہلت دی جائے گی۔ خاص طور پر ان افراد کے ساتھ رعایت کی جائے گی جن پر کرونا بحران کے دوران ادائیگی واجب ہے‘۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے کورونا کے معاشی اثرات کم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 214 بلین ریال کی امداد منظوری دی تھی جس سے نجی شعبے کے ادارے اور افراد مستفید ہوئے ہیں۔
علاوہ ازیں حکومت نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں متعدد وزارتی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو کورونا بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں۔

You might also like