Baseerat Online News Portal

پاکستان : حکومت کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے دینی مدارس کے طلبہ کے امتحانات شروع

آن لائن نیوزڈیسک
وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے 11 جولائی سے ملک بھر کے مدارس میں طلبہ کے امتحانات کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔
کراچی میں وفاق المدارس کے ترجمان طلحہ رحمانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ امتحانات کے حوالے سے فیصلہ وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق المدارس کے تحت امتحانات محدود پیمانے پر منعقد کیے جاتے ہیں اور اس دوران ضابطہ کار کی پابندی کرنا نہایت آسان ہوتا ہے۔ ’دورانِ امتحان طلبہ کو ہال یا صحن میں فاصلے پر بٹھایا جاتا ہے جو سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے احکامات کے عین مطابق ہے۔‘
واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی ماہ سے تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل تقریباً معطل ہے اور محکمہ تعلیم نے بنا امتحان لیے طلبہ کو پروموٹ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، تاہم وفاق المدارس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ امتحان لیے بغیر طالب علموں کو پروموٹ نہیں کر سکتے۔
ناظم اعلیٰ وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان کے لیے طلبہ کا امتحان لینا اس لیے بھی نہایت ضروری ہے کیوں کہ آگے چل کر انہیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ایکولینسی سرٹیفیکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔
’ان سرٹیفیکیٹ کے اجرا کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ طالب علم اپنی تمام اسناد پیش کرے، اگر ہم طلبہ کو بغیر امتحان پروموٹ کر دیں گے تو انہیں سند کیسے دیں گے اور سند نہ ہوئی تو آنے والے برسوں میں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔‘
طلحہ رحمانی کا بھی اس حوالے سے کہنا تھا کہ بغیرامتحان طلبہ کو پروموٹ کرنے کا قانونی جواز موجود نہیں اور اس معاملے میں کبھی بھی قانونی پیچیدگی اور مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس حوالے سے وفاق المدارس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کامیاب طلبہ کو جو اسناد دیتے ہیں اس میں گواہی دی جاتی ہے کہ اس طالب علم نے امتحان دیا اور متعلقہ مضامین میں کامیابی حاصل کی، لیکن اگر یہ امتحان ہوگا ہی نہیں تو سند کیسے جاری کریں گے۔
وفاق المدارس کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ عید الاضحٰی سے پہلے امتحانات کا سلسلہ مکمل کر کے عید کے بعد باقاعدہ تدریسی عمل شروع کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے۔
مولانا محمد حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ ابھی اس حوالے سے اجازت نہیں ملی تاہم وہ پرامید ہیں کہ جب ملک میں دیگر تمام شعبے ضابطہ کار کے تحت کھول دیے گئے ہیں تو پھر تدریس کا شعبہ کیوں بند رکھا جا رہا ہے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی سے جب اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو ان کی وزارت کی جانب سے بتایا گیا کہ تمام مدارس وفاقی حکومت کے تحت آپریٹ کرتے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم میں تعلیم صوبائی حکومت کو دینے کے باوجود مدارس کا انتظام اب بھی وفاقی حکومت کے پاس ہے۔
سعید غنی کے ترجمان زبیر میمن نے اردو نیوز کو بتایا کہ 7 جولائی کو این سی او سی کی میٹنگ میں تعلیمی اداروں کو کھولنے اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم سے مشاورت کی جائے گی۔

You might also like