Baseerat Online News Portal

رکسول،نرکٹیا اور سگولی کی پل پل بدلتی سیاست سے معمہ بنا منظر نامہ ۔۔۔۔۔۔، راجد لیڈر ڈاکٹر ندیم احمد نے کہا ترقی کے خواب کو حقیقت میں بدلنا ہمارا مشن

رکسول ۔6/ جولائی ( محمد سیف اللہ )

وقت کی رفتار کے ساتھ ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول،سگولی اور نرکٹیا اسمبلی حلقہ کا سیاسی مزاج بھی آسمان پر چڑھتا جا رہا ہے،گذشتہ کل جہاں ایک طرف آرجے ڈی نے اپنی یوم تاسیس کے موقع پر سائکل ریلی کے ذریعہ ڈیزل اور پٹرول کی بڑھتی قیمت کے معاملے میں سرکار کو گھرنے کی کوشش کی اور اس طرح عوام سے اپنی قربت بڑھانے کا بہانا بنایا،تو وہیں ایم آئی ایم نے بھی نئے جوش وامنگ کے ساتھ اپنی دستک دے کر سب کو چونکنے پر مجبور کردیا،رہی بات جے ڈی یو اتحاد کی توان کی جانب سے ایسی کسی سرگرمی کا آغاز کم از کم ابھی تک اس انداز سے نہیں ہوا ہے کہ اس پر کوئی بحث کی جائے البتہ اس اتحاد کے نئے پرانے لیڈران ان جگہوں پر اپنی حاضری درج کراتے دیکھے جانے لگے ہیں جہاں سے ان کے سیاسی حساب کتاب کے برسوں پرانے رشتے جڑے ہوئے ہیں ایسے میں کب کیا ہوگا اور سیاست کا اونٹ کس کڑوٹ بیٹھ کر سکون کی سانس لے گا وہ ایک معمہ بنا ہوا ہے،ظاہر ہے کہ اس کے بارے میں ابھی کوئی پیشین گوئی کرنا جلد بازی بھی ہے اور صحافتی مزاج کے خلاف بھی لیکن پل پل بدلتے حالات پر نظر رکھنے کے بعد اتنا تو صاف ہے کہ ہمیشہ کے برخلاف اس بار سرحدی علاقے میں عجیب وغریب قسم کی سیاسی کھچڑی پکنے والی ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت جتنے منہ اتنی باتیں سننے کو مل رہی ہیں بازاروں میں قدم رکھیں تو وہاں کا ماحول کچھ اور اشارہ کرتا ہے،پارٹیوں میں سفید پوش لیڈروں کے بیچ بیٹھیں تو کہانی کی تصویر کچھ الگ ہوجاتی ہے،کسانوں سے یا سرکاری ٹیچروں سے ملیں تو ان کا رخ بھی بالکل غیر واضح ہے،اس لئے کہ اس وقت سماج کا ہر طبقہ کسی نہ کسی درد کا شکار ہے اور وہ اس بار اس درد سے باہر آنے کی پالیسی کے تحت ایسا فیصلہ کرنے کی حکمت عملی تیار کر رہا ہے جس پر وقت سے پہلے کوئی حتمی مہر نہیں لگائی جاسکتی،اور یہ ساری صورت حال شاید اس لئے ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے جن مدعوں پر انتخابات کے دنوں میں یہاں کے غریبوں،مزدوروں اور کسانوں نے ووٹ کے لئے مشین کے بٹن دبائے تھے وہ پانچ سال گزرنے کے بعد بھی جوں کے توں پڑے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پورا اپوزیشن اپنے اپنے انداز میں سرکار کی ناکامیاں گنانے میں مصروف ہے تاکہ عوام کو یہ بتایا جا سکے کہ آج سے پانچ سال پہلے انہوں نے جو فیصلے کئے تھے اس پر بدلتے وقت میں نظر ثانی کی ضرورت ہے ورنہ یہ سرحدی خطہ جس تیزی کے ساتھ معاشی زوال کی طرف گامزن ہے وہ آنے والے دنوں میں یہاں کی پوری آبادی کا چین وسکون چھین لیں گے،گزشتہ کل راجد کی سائکل ریلی کے موقع پر بھی آرجےڈی لیڈران کا تیور اسی فکر کی ترجمانی کر رہا تھا،شاید اسی کا اثر تھاکہ جب راجد کے سرگرم سیاسی لیڈر ڈاکٹر ندیم احمد نے حکومت کی ناکامیوں پر سوال کرتے ہوئے عوام کو مقامی نمائندوں سے ان کے کام کاج کا حساب مانگنے کا مشورہ دیا تو سینکڑوں ارکان نے پرجوش انداز میں ان کی اس آواز کی حمایت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی زبانی حمایت بڑی سائکل ریلی میں تبدیل ہو گئی،اس تاریخی موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر حالات سے آپ لوگوں نے کچھ سیکھا ہے اور خوشحال مستقبل کی سمت بڑھنا چاہتے ہیں تو میں بلا کسی تکلف کے آپ سے کہونگا کہ آپ اپنے علاقے کی ترقی کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنائیں اور اپنے اندر سیاسی نمائندوں سے سوال پوچھتے رہنے کا حوصلہ پیدا کریں تاکہ اس سرحدی علاقے کو ان تمام مسائل کے چنگل سے بچایا جاسکے جن سے آج تک ہم سب کو نجات نہیں مل سکی ہے،اگر ایسا نہیں ہوا اور ہم نے وقت کے اشاروں کو سمجھنے میں غلطی کی تو ترقی وخوشحالی اس سرحدی خطے کے لئے خواب بن جائے گی ۔

You might also like