Baseerat Online News Portal

بہار اسمبلی الیکشن میں عظیم اتحاد میں جن ادھیکار پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کو بھی شامل کیا جائے: قطب الدین صدیقی

پٹنہ: 7؍جولائی( عنایت اللہ ندوی؍بی این ایس ) ریاست بہار میں چند مہینوں کے بعد اسمبلی انتخابات ہونا ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں اپنے طور پر 2020میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف نظر آرہی ہے اور پارٹیوں کہ ذمہ داران اخبار و دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے پارٹی کے کارکنوں کو حرکت میں لانے اور لوگوں کو اپنے طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ریاست بہار میں تعلیم صحت کی ترقی کے حوالے سے نئے نئے وعدے اور سبز باغ دکھا رہے ہیں ایسے وقت میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2020میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں عظیم اتحاد کی فتح ہوگی یا شکست یہ ایک بڑا سوال ہے اور انتخابات سے قبل جیت ہار کے حوالے سے کچھ کہنا بھی مناسب نہیں لیکن2015اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعتبار سے عظیم اتحاد کی اسی (80) فیصد امید ہے کہ شکست ہوگی اس بڑی کی وجہ یہ ہے کہ 2015 اسمبلی انتخابات میں جنتا دل یونائیٹڈ (جےڈی یو) بھی عظیم اتحاد کا حصہ تھا جبکہ 2020اسمبلی میں جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) عظیم اتحاد کا نہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کا حصہ ہے یہ باتیں جناب قطب الدین صدیقی نے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، مزید انہوں نے کہا کہ قابل غور بات یہ ہے بھی ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اختر الایمان نے بھی بتیس ( 32) سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا اعلان بھی کر دیا ہے اور مجلس اتحاد المسلمین کہ ممبر سازی کا کام بھی زور شور سے جاری ہے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)کو چاہئیے کہ تمام غیر بی جے پی پارٹیاں کو عظیم اتحادکا حصہ بنایا جائے خاص طور پرجن ادھیکار پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کو بھی شامل کیا جائے ورنہ ووٹوں کا تقسیم ہوگا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کا فائدہ ہوگا اور عظیم اتحاد کی ایسی شکست ہوگی جس کا تصور ذہن ودماغ میں بھی نہ ہوگا۔

You might also like