Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی
جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا * بانی وناظم المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد

تکبیر تحریمہ میں ہاتھ کان کے مقابل رکھے یا کان کی لَو کو چھوئے
سوال: بعض لوگ نماز پڑھنے وقت جب اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو اپنے ہاتھ کو کان کی لو سے بھی لگاتے ہیں، بعض صرف کان کے سامنے ہاتھ رکھنے پر اکتفاء کرتے ہیں، توصحیح عمل کیا ہے؟ (افسر خان، آصف نگر)
جواب: احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو معمول نقل کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ آپ تکبیر تحریمہ کے لئے جب ہاتھ اٹھاتے تو دست مبارک کو کان کے مقابل رکھتے ’’ رفع یدیہ حیال أذنیہ‘‘ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۷۲۸) اور بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کا ہاتھ کان کی لَوکے مقابل رہتا ’’ یرفع ابھامیہ فی الصلاۃ إلی شحمۃ أذنیہ‘‘ ( ابو داؤد، حدیث نمبر: ۷۳۷) اس لئے اصل تو یہ ہے کہ کان کی لو کے مقابل رکھا جائے؛ لیکن اگر کان کی لو کو چھو لیا تب بھی کوئی حرج نہیں اور نماز درست ہو جائے گی۔

معذور کے لئے استنجاء کے بغیر نماز
سوال: میری بیوی کئی سال سے مفلوج ہے، مجھے ہی اس کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، وہ خود سے استنجاء بھی نہیں کر سکتی، جب میں نہیں رہتا ہوں تو گھر کی اور خواتین ان کی مدد کر دیتی ہیں، ایسی صورت میں ان کے لئے استنجاء کا کیا حکم ہوگا؟ (عبدالحمید، شاہین نگر)
جواب: استنجاء سے متعلق اعضاء ایک عورت شوہر کے سامنے کھول سکتی ہے، دوسروں کے سامنے کھولنا جائز نہیں؛ لہٰذا اگر آپ کی اہلیہ ٹشو پیپر کے استعمال کرنے پر قادر ہوں تو پانی کی جگہ اس کا استعمال کر لیں، اور اور اگر ٹیشو استعمال کرنے کے موقف میں نہ ہوں تو جو خواتین موجود ہیں، وہ ان کو وضوء کرا دیں، استنجاء ان کے لئے ضروری نہیں، وہ اس کے بغیر بھی نماز ادا کر سکتی ہے ’’ المرأۃ المریضۃ إذا لم یکن لھا زوج وعجزت عن الوضوء ولھا ابنۃ أو أخت توضئھا ویسقط عنھاالاستنجاء (ہندیہ، الباب السابع فی احکام النجاسات الفصل الثانی فی الاستنجاء:۱؍ ۱۰۵)

جعلی مال کی فراہمی
سوال: آج کل مارکیٹ میں ڈوپلی کیٹ مال کی کثرت ہوگئی ہے، دیکھنے میں وہ اصلی مال سے بھی بہتر معلوم ہوتا ہے، اسی طرح ہر فیلڈ میں چائنا بہت سستا مال تیار کر کے سپلائی کرتا ہے؛ لیکن یہ اندر سے بہت کمزور ہوتا ہے اور اس کی سروس بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، زید نے اوریجنل مال کا آرڈر دیا، یا مثلاََ جاپانی کمپنی کا سامان طلب کیا اور بیچنے والے نے ڈوپلی کیٹ یا چائنیز مال دے دیا، چند دنوں بعد گاہک کو اس کا علم ہوا، ایسی صورت میں اس کے لئے کیا راستہ ہے، کیا وہ بیچنے والے سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے؟(محمدصادق، سکندرآباد)
جواب: دھوکہ دینا گناہ کبیرہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر دھوکہ دینے کو تو منع فرمایا ہی ہے؛لیکن خریدوفروخت میں جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے کو خاص طور پر منع کیا ہے (ترمذی، حدیث نمبر: ۱۳۱۵)؛لیکن اگر کسی شخص نے دھوکہ دے ہی دیا تو اس کی تلافی کی جائز صورت یہ ہے کہ اگر اس سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے تو خریدار کو حق ہے کہ وہ اسے واپس کر دے اور بیچنے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا سامان لے کر خریدار کو اس کو دی ہوئی پوری قیمت لوٹا دے: ولو قبض زیفا بدل جید کان لہ آخر جاھلا بہ….. فلو قائما ردہ اتفاقا ( الدر المختار: ۵؍ ۲۳۳) اور اگر خریدار کے یہاں اس میں کوئی عیب پیدا ہو گیا، یا کوئی ایسی چیز پیدا ہو گئی ہے، جس سے اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں خریدار کو اختیار ہے کہ وہ بیچنے والے سے اس نقصان کا ہر جانہ ، یعنی اس کی وجہ سے اس کی قیمت میں جو کمی ہوئی ہے، اس کو وصول کر لے، سوائے اس کے کہ بیچنے والا اسی نقص کے ساتھ اس کو واپس لینے اور پوری قیمت واپس کرنے کو تیار ہو: ’’ وإذا أحدث عند المشتری عیب واطلع علی عیب کان عند البائع فلہ أن یرجع بالنقصان ولا یرد المبیع‘‘ (الہندیہ: ۳؍۴۱)

جلد ادائیگی پر قیمت میں کمی
سوال: آج کل بڑی دکانوں میں ایک خاص سہولت دی جاتی ہے کہ جن لوگوں کے یہاں پیسے باقی ہوتے ہیں اور جس تاریخ کو پیسے ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے ایک متعینہ تاریخ کے اندر پیسے ادا کر دئیے جائیں، تو خریدار کو ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے، کمپنیاں بھی بعض اوقات ایسی سہولت دیتی ہیں اور سرکار بھی بجلی وغیرہ کے بقایا کے سلسلہ میں اس طرح کی رعایت دیتی ہے، بعض لوگ تو اس ڈسکاؤنٹ کے منتظر رہتے ہیں، کیا ایسے ڈسکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؟ (بدرا لدین، بنجارہ ہلز)
جواب: اگر کسی علاقہ میں تاجر کی طرف سے ایسی سہولت دینے کا رواج ہو تو اس سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہے، امام ابو حنیفہؒ کے قول پر تو یہ صورت جائز نہیں ہوگی، جس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ ضع وتعجل‘‘ کہا جاتا ہے؛ لیکن امام ابو یوسفؒ کے نزدیک یہ صلح کی ایک جائز شکل ہے، جس میں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتے ہیں، خرید ار وقت ِمقررہ سے پہلے پیسہ ادا کر دیتا ہے اور تاجر قیمت میں کمی کر دیتا ہے؛ لہٰذا اگر کہیں مارکیٹ میں اس طرح کا رواج ہو جائے تو امام ابو یوسفؒ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، علامہ اسبیجابیؒ نے امام ابو یوسفؒ کی یہی رائے نقل کی ہے: ’’ جواز ھذا الصلح مطلقاََ علی قیاس قول أبی یوسف ؛ لأنہ إحسان من المدیون فی القضاء بالتعجیل وإحسان من صاحب الدین فی القضاء بحط بعض حقہ‘‘ ( تکملہ رد المحتار، لمحمد علاء الدین شامی: ۸؍ ۲۵۳)

لا وارث بچہ کی پرورش کرنے والے کی طرف نسبت
سوال: آج کل بعض خواتین غربت کی وجہ سے یا ناجائز اولاد کی بدنامی سے بچنے کے لئے ہسپتال میں اپنا بچہ چھوڑ کر چلی جاتی ہیں، ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچہ کو کہیں پھینک دیتی ہیں، حکومت ایسے بچوں کو ان لوگوں کو دے دیتی ہے، جو بچوں کی پرورش کے خواہش مند ہوتے ہیں، کیا ایسی صورت میں پرورش کے لئے حاصل کرنے والا شخص باپ کی حیثیت سے اپنا نام لکھ سکتا ہے؛ کیوں کہ اسکول میں تعلیم اور مختلف دوسری سرکاری کارروائیوں کے لئے باپ کا نام لکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے، کیا ایسی صورت میں بچہ کی پرورش کرنے والا باپ کے خانہ میں اپنا نام لکھ سکتا ہے؟ (ڈاکٹر محامد خان، ممبئی)
جواب: اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اولاد اور والدین کا رشتہ ایک فطری رشتہ ہے، یہ زبان کے بول سے قائم نہیں ہو سکتا؛ لہٰذا ایسے لا وارث بچے کی پرورش کرنا اور اس کی کفالت کی ذمہ داری لینا تو ایک مستحسن عمل ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ لیکن اس بچہ کی اپنے آپ کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے، خود قرآن کریم میں اس کی صراحت موجود ہے (احزاب:۵) البتہ جیسے چھوٹے بچوں کو از راہ شفقت بیٹا کہہ دیا جاتا ہے، جس کا مقصد حقیقی طور پر کسی کو بیٹا قرار دینا نہیں ہوتا ہے، اسی طرح اگر قانونی ضرورت کے تحت بیٹا کہہ دیا جائے یا لکھ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہے :’’ وظھر الآیۃ حرمۃ تعمد دعوۃ الانسان لغیر أبیہ ولعل ذلک فیما إذا کانت الدعوۃ علی الوجہ الذی کان فی الجاھلیۃ، وأما إذا لم تکن کذلک کما إذا یقول الکبیر للصغیر علی سبیل التحسن والشفقۃ یا ابنی وکثیرا ما یقع ذلک فالظاھر عدم الحرمۃ (أحکام القرآن لتھانوی:۳؍۲۹۲)

قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کا حل
سوال: کئی خریدار سامان تو دس دنوں ادھار کہہ کر لیتے ہیں؛ لیکن ادا کرنے میں بہت تاخیر کر دیتے ہیں، کیا ہم ایسا کہہ سکتے ہیں کہ اگر تیس دنوں میں ادا کروگے تو ہزار روپئے قیمت ہوگی اور پچاس دنوں میں ادا کروگے تو پندرہ سو روپئے ، یا کیا ان سے تاخیر پر جرمانہ لے سکتے ہیں؟ (محمد حسان، سورت)
جواب: الف: اس طرح قیمت متعین کرنا کہ تیس دن میں ادائیگی ہو تو ہزارروپئے اور پچاس دن میں ادائیگی ہو تو پندرہ سو ، درست نہیں، دونوں میں سے ایک صورت متعین ہو جانا ضروری ہے، ایسا ہو سکتا ہے کہ پچاس دن کے لحاظ سے قیمت متعین کی جائے اور جلدی ادا کرنے کی صورت میں قیمت کم کرنے کی بات تو طے نہ ہو؛ لیکن اگر قبل از وقت قیمت ادا کر دے تو بیچنے والا خود اپنی طرف سے قیمت میںکمی کر دے۔
ب: خریدار قیمت ادا کرنے میں تاخیر کرے تو اس سے کچھ زائد رقم لینا جائز نہیں ہے، یہ سود میں شامل ہے اور حرام ہے؛ البتہ خریدار پر دباؤ قائم رکھنے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے کہ سامان دیتے وقت اس سے ایک وعدہ فارم پر دستخط کرائے جائیں کہ اگر اس نے وقت پر پیسے ادا نہیں کئے تو اتنی رقم کارِ خیر کے لئے صدقہ کرے گا، اور یہ رقم بیچنے والے کو حوالہ کرے گا، اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ التزام‘‘ کہتے ہیں، امام مالکؒ کے یہاں اگر کوئی آدمی اپنے ذمہ کوئی چیز لازم کر لے تو وہ اس پر واجب ہو جاتی ہے، آج کل ادائیگی میں تاخیر اور ٹال مٹول کا حل اسلامی فائنانس کے ماہرین نے یہی نکالا ہے؛ البتہ کارِ خیر کی مد میں ان سے جو رقم وصول کی جائے، بیچنے والے کے لئے اس کو اپنے مصرف میں استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا، حرام ہوگا اور واجب ہے کہ وہ اس کو اسی مصرف میں خرچ کرے۔ واللہ اعلم
٭ ٭ ٭

You might also like