Baseerat Online News Portal

ڈاکٹر کفیل کے ساتھ یوپی کی یوگی حکومت کا رویہ غیر اخلاقی :محمد اسلم،…. آداپور بلاک کے سابق پر مکھ اور کانگریسی لیڈر نے کیا ان کی فوری رہائی کا مطالبہ

رکسول۔9/ جولائی ( محمد سیف اللہ )

انسانوں کی بستی میں رہنے والے لوگوں کے بیچ نظریاتی اختلاف کا ہونا فطری بات ہے لیکن جب یہ اختلاف ذاتی انا اور مذہبی منافرت کے پیٹ سے جنم لے کر سماج میں پھیل جائے تو اس سے ایک قابل ذکر طبقہ متاثر ہوکر بے اطمینانی کا شکار ہو جاتا ہے جس کی ایک صاف مثال ڈاکٹر کفیل کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے کیونکہ انسانوں کی ہمدردی سے سرخیوں میں آنے والا صاف دل انسان اس وقت سیاسی نفرت کی بھینٹ کر چڑھ کر جس طرح بے گناہی کی سزا کے لئے سلاخوں کے پیچھے ہے اس نے پوری انسانیت کو شرمندگی کی آخری منزل تک پہونچا دیا ہے یہ باتیں ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول سے متصل آداپور بلاک کے سابق پرمکھ اور کانگریس کے سرگرم لیڈر محمد اسلم نے اس نمائندہ کو بھیجے اپنے بیان میں کہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل تو وہ انسان ہے جنہوں نے اپنی انسان دوستی کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنے لئے خاص جگہ بناکر شہرت پائی تھی اور جنہوں نے اپنے مثالی کارناموں سے سماج کو ایک مثبت اور قابل فکر پیغام دیا تھا مگر یوگی سرکار ان کے کاموں سے مطمئن ہوکر انہیں ان کے ناقابل فراموش کاموں کے لئے خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے ان سے ذاتی دشمنی نکال رہی ہے،انہوں نے کہا کہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت یوپی حکومت نے ان پر جس طرح شکنجہ کسا ہوا ہے وہ حقوق انسانی کے مطالبے کے خلاف ہے اس لئے میں ان کی جلد رہا ئی کا مطالبہ کرتا ہوں،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل کو اس کے مسلمان ہونے اور این آر سی کے موضوع پر دیئے گئے بیان کی سزا دی جارہی ہے حالانکہ گاندھی کے اس دیش میں ایسے اقدامات کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں اسی طرح نفرت کا کھیل جاری رہا اور بدلے کی سیاست ہوتی رہی تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے اور ہمیں پرسکون معاشرے کے تصور سے بھی خوف آنے لگے گا،قابل ذکر بات یہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پچھلے سال دسمبر میں مبینہ طور پر متنازعہ بیانات دینے کے معاملے میں 29 جنوری کو ڈاکٹر کفیل خان کو گرفتار کیا گیا تھا کفیل کو گزشتہ 10 فروری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی، لیکن آرڈر کے تین دن بعد بھی جیل انتظامیہ نے انہیں رہا نہیں کیا تھا۔اس کے بعد کفیل کے اہل خانہ نے علی گڑھ کی چیف  جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں حکم عدولی کی عرضی دائر کی تھی۔ عدالت نے 13 فروری کو پھر سے رہائی کاآرڈر جاری کیا تھا، مگر اگلی صبح ضلع انتظامیہ  نے کفیل پر این ایس اے کے تحت کارروائی کر دی تھی اس کے بعد سے کفیل متھرا جیل میں بند ہیں،بتادیں کہ ڈاکٹر کفیل خان 2017 میں اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب بی آرڈی میڈیکل کالج، گورکھپور میں 60 سے زیادہ بچوں کی موت ایک ہفتےکے اندر ہو گئی تھی۔ڈاکٹرخان کو 2017 میں گورکھپور کے بابا راگھو داس میڈیکل کالج سے برخاست کر دیا گیا تھا کیونکہ انسفلائٹس سے متاثر کئی بچوں کی موت  ہو گئی تھی۔ ان کو  انسفلائٹس وارڈ میں اپنی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی  کے لیے اور ایک نجی پریکٹس چلانے کے لیے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔حالانکہ، پچھلے سال انہیں عدالت نے سبھی الزاموں  سے بری کر دیا تھا،محمد اسلم نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل بے گناہ ہیں بس انہیں یوگی حکومت نے اپنی کمزوریوں کو چھپانے اور اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ان کے پاوں میں قانون کی زنجیر ڈالی ہوئی ہے،ظاہر ہے کہ یوپی حکومت کے اس طرز عمل کو قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔

You might also like