Baseerat Online News Portal

مسلمان اپنی سیاسی پہچان بنانے کے بجائے حاشئے پر آگئے ،خودساختہ سیکولر پارٹیوں نے فرقہ پرستی کا خوف دکھا کرہمیشہ ووٹ بنک کے طور پر استعمال کیا: نظرعالم

جالے:10؍جولائی (رفیع ساگر؍بی این ایس)متھلانچل کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے مسلمانوں کی سیاسی حالات کا جائزہ لینے بعد آل انڈیامسلم بیداری کارواں کی ٹیم نے جمعہ کو جاری ایک پریس ریلیز میں کئی اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو خودساختہ سیکولر سیکولر پارٹیوں نے فرقہ پرستی کا خوف دکھا کر صرف ووٹ بنک کے طور پر استعمال کیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنی سیاسی پہچان بنانے کے بجائے حاشئے پر آگئے ہیں۔ٹیم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جن مسلم لیڈروں کو اپنا نمائندہ بنا کر پیش کیا گیا ان سے بھی کوئی خاطر خواہ سیاسی فائدہ نہیں مل پایا۔ انہیں پارٹیاں اور حکومتیں مکھوٹہ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے ریاست کی نتیش حکومت پر کچھ زیادہ ہی چال بازی سے کام لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ذات فرقے میں بانٹ کر ہرمحاذ پر کمزور کر دیا گیا ہے۔ مسلمانوں میں پسماندہ اور غیر پسماندہ سیاسی کارڈ کھیل کر ہماری اتحاد کو منتشر کیا جا رہا ہے جس سے مسلمانوں کو بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار کے اس ناپاک منصوبے کو ایک مضبوط اتحاد سے ناکام بنانے پر زور دیا۔مسٹر نظر عالم نے سوال اٹھایا کہ جو پارٹیاں ہماری حصے داری قبول کریں گی انہیں مسلمانوں کے مضبوط اتحاد کا فائدہ ملے گا۔انہوں نے مسلمانوں کی آبادی کے برابر ٹکٹ بٹوارے میں حصہ داری کی مانگ رکھی ہے۔ مسٹرعالم نے کہا کہ نتیش کمار پچھلے کچھ سالوں سے مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کررہے ہیں اس سے مسلمانوں کا سیاسی فلاح ہونے والا نہیں ہے۔اب ہمیں بیدار ہونا پڑے گا۔انہوں نے مسلمانوں سے سیاسی پارٹیوں کے ناپاک سازش کا حصہ نہیں بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حالت میں پسماندہ و غیرپسماندہ کے نام پر سیاست کرنے کا موقع نہیں دیں اس سے ہمارا اتحاد بکھر جائے گا اور حکومتیں اپنی سیاسی روٹی سینکنے میں پھر ایک بار کامیاب ہوجائے گی۔نظرعالم نے بہار اقلیتی کمیشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے مکھیا نتیش کمار بتائیں اُن کی حکومت میں اقلیتوں کے نام پر اقلیتوں کا استحصال، اقلیتوں کے اندر خوف و حراس کا ماحول، مدرسہ بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم انصاری کے ذریعہ لگاتار بورڈ میں بدعنوانی،مدارس اساتذہ کی تنخواہ ادائیگی پر روک، مآب لنچنگ کے نام پر بے قصور مسلمانوں کا قتل عام، تعلیم کے نام پر وظیفہ کی رقم میں گھوٹالہ، مسلمانوں کی ترقیاتی کاموں پر اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کیا رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو صرف جذباتی غلام بنا کر رکھا گیا ہے۔اگر ریاستی حکومت کے ارادے نیک ہوتے تو مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب میں حصے داری ملتی اور ان کی سیاسی پوزیشن بہتر رہتی۔

You might also like