Baseerat Online News Portal

ڈاکٹر کفیل خان سمیت کئی ایک مسلم نوجوان پس دیوارزنداں : اور قائدین کی خاموشی بے معنی دوسری قسط/2

ڈاکٹر کفیل خان سمیت کئی ایک مسلم نوجوان پس دیوارزنداں : اور قائدین کی خاموشی بے معنی
دوسری قسط/2
✍🏻ازقلم: عبدالرحمن چمپارنی
*قوم کا ہم درد اور مہربان ومشفق کون* ؟
تھوڑا اس تحریر کو پڑھ کر پھر سوچیے کہ قوم کا مخلص اور ہم درد ، اورا ن پر اپنی جان نچھاور کرنے والاکون ہے ، ؟ وہ حکومت جو آکسیجن کا بندو بست نہ کر سکی یا وہ ڈاکٹر جو اپنی اخراجات سےآکسیجن کا انتظام کرکے روح پراوز کر نے والے نونہالان کی زندگی بخشی ،کئی ایک تصاویر بندہ کے نظروں سے شوشل میڈیا پر گزری ، جو چند سالوں پہلے کی ہے ، جس میں یہ صاف نظر آرہا ہے ، کہ قوم کا مسیحا کون ہے ؟ بارش اور دھوپ کے چھاؤ ں میں ، بہار میں چمکی بخار کے وقت ناؤاور نہایت ہی باریک پل کو عبور کرتے ہوئے گھر گھر جاکر علاج کرنے والا ، گھٹنوں بھر پانی میں چل کر جانے والا اوررا ستے میں ملے ہوئے مریض بچے کا علاج کھڑے کھڑے کرنے والا ، اور والدین کے دل وجگر کو سررو شادمانی بخشنے والا ، وہ مسیحائے قوم کو ن ہے ؟ اور علاج ومعالجہ کرانے والے اکثریت ان ہی لوگوں کی ہے جو ہندوستان میں طبقہ ٔ اکثریت میں شمارہ ہوتے ہیں ، ان سب سوالوں کا جواب صرف اور صرف یہی ملے گا کہ *محسن ڈاکٹر کفیل خان ہیں* ،
ایک بار اور ڈاکٹر کفیل کے اس بیان کو پڑھیے جو انہوں نے پریس کانفر نس میں کہا تھا، جس میں صاف یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، کلین چیٹ ملنے کے بعد دوبارہ پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے ،کہ میں نے پرائیوٹ ٹریننگ نہں کی ہے ، حالانکہ یہ سر اسر غلط بےبنیاد او ر جھوٹ ہے ، اس کے ذریعے مجھ پر دباؤ بنایا جارہاہے ،اور کہتے ہیں ، کہ میں نے کبھی حکومت کو نہیں کہا کہ انہوں نے مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھ پر ظلم کیا ہے ، پھر انہیں اسی طرح کے الزام میں گرفتا ر کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ، دوسال کے گذرنے کے بعد ہائی کورٹ نے جب انہیں رہا کیا تو انہیں سی اے اے کے متعلق احتجاج میں اشتعال انگیز بیان کے الزام میں پھر جیل میں ڈال دیا گیا ،
لیکن یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو ان کے خان اور مسلمان ہونے نے جیل کے سلاخوں کے پچھے طرح طرح سے ہتھکنڈے کے استعمال سے ڈالا ہے ،کیوں کہ جب ہم نظر دوڑاتے تو یہ بات بے غبار ہوجاتی ہے کہ ، دیش کے غداروں کو گولی ماروسالوں کو ، ، بٹن ا س طرح دباؤ کے کرنٹ شاہین باغ تک پہونچے ، یہ شاہین باغ میں احتجاجی لو گ تمہارے گھروں میں گھسیں گے ،اور تمہاری بیوی وبچیوں او ربیٹیوں کے ساتھ ریپ کر یں گے ، اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات کرنے والوں پر کیا کوئی کاروائی ہو ئی ؟ ، کیا دہلی فساد کرانے والا کپل مشرا کو پولیس نے ابھی تک اپنی گرفت میں لیا ،؟ نہیں کیو ں؟ اس لیے کہ وہ مسلمان نہیں ہے
لیکن سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی کے پر امن خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ، اور ہر طرح انہیں اذیتیں پہونچائی گئیں ، آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے ، لاٹھی چارج کی گئیں ، سی اے اے ،این پی آر ، این آر سی ، کے حقائق سے آگاہی اور اپنی حقوق کے لڑائی لڑنے والوں میں ڈاکٹر کفیل خان کو اشتعال انگیز بیان کے الزام میں پس دیوار زنداں کرد یا گیا
*گرفتاری کی کہانی کفیل کی زبانی:*
انقلاب اخبار کے اس خبر کے مطابق جب ان کو سی اے اے کے خلاف علی گڑھ میں ہو رے ا حتجاج میں کی گئی ایک بیان کو اشتعال انگیز ی سے تعبیر کر کے جب انہیں پو لیس نے ممبئی سے گر فتا ر کیا تو انہوں نے میڈیا کے سامنے جو باتیں کہی وہ یہ ہیں :
‘‘ *ڈاکٹر کفیل نے اپنی گرفتاری کو غیر قانونی بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں پھنسایا جارہا ہے ، اور انہیں یوپی پولیس پر قطعی بھروسہ نہیں ہے ، انہوں نےمہاراشٹر حکومت سے اپیل کی کہ انہیں یو پی پولیس کے حوالہ نہ کیا جائے ، اور جو بھی پوچھ گچھ کرنا ہے مہاراشٹر میں ہی کی جائے* ’’
انقلاب اخبار کی رپورٹ : ڈاکٹر کفیل کی گرفتاری کی
‘‘ انقلاب اخبار کے اس رپورٹ کے مطاق یوپی پولیس کے بہ قول ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف 13/ دسمبر کو علی گڑھ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی ، اور وہ تبھی سے فرار تھے ،
*حقیقت بیانی کفیل کی زبانی*
تا ہم ڈاکٹر کفیل کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی ایک احتجاج میں شر کت کے لیے گئے تھے ، جو ممبئی باغ شا ہین باغ کی طر ز پر ہور ہا ہے ،
*پولیس کی بیان بازی ڈاکٹر کفیل کے تقریر کے متعلق*
پولیس کے مطابق ، ڈاکٹر کفیل نے 12؍ دسمبر کوایے ایم یو میں سیکڑوں طلباء کے سامنے اشتعال انگیزتقریر کی تھی ، حالانکہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ان کی جو تقریر سامنے آئی ہے وہ یہ ہیں:
*۱۔ ایک تقریر میں انہوں نے کہا تھا : کہ شہریت ترمیمی قانون سے ملک کے مسلمان دوئم درجے شہری بن کر رہ جائیں گے ، ساتھ ہی این آر سی کے نفاذ کے بعد ان پر ظلم وجبر کا سلسلہ تیز ہوجائے گا* ،
۲۔ *ان کی ایک اور تقریر جسے مورد الزام ٹھرا یا گیا ، وہ یہ ہے کہ ہم ۳۵؍ کروڑ ہیں ، اور ڈرنے کے بجائے ہمیں اپنے حق کی لڑائی خودہی لڑنی ہوگی* ۔
دیکھئے اور پڑھیئے : انقلاب ، نئی دہلی ، ( میرٹھ ) جمعہ ، ۳۱؍ جنوری ، ۲۰۲۰؁ ء ۵؍ جمادی الثانی ۱۴۴۱؁ ھ جلد نمبر ۷ شمارہ نمبر ۳۵۷ صفحہ نمبر ۱
خردمندی ، ہوشمندی اور دانشمندی کے ساتھ ، انصاف کی عینک لگا کر آپ ذرا ان نگارشات کو پڑھیے ، اور غور کیجئے کہ کیا ان بیانا ت میں اشتعال انگیزی اور بر انگیختگی ہے؟ ،صاف طو ر پر ظاہر ہورہا ہے کہ ان بیانا ت میں کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہے , دیش کے غداروں کو گولی ماروسالوں کو ، ، بٹن ا س طرح دباؤ کے کرنٹ شاہین باغ تک پہونچے ، یہ شاہین باغ میں احتجاجی لو گ تمہارے گھروں میں گھسیں گے ،اور تمہاری بیوی وبچیوں او ربیٹیوں کے ساتھ ریپ کر یں گے۔ ڈاکٹر کفیل کے بیانات میں او ر ان اشتعال انگیز نعرو ں میں موازنہ کیجئے کہ کس کا بیان اشتعال انگیز ہے اور کس کا نہیں ؟
ڈاکٹر کفیل کے علاوہ کئی ایک مسلم نوجوان طلبہ وطالبات صدائے حق کے پاداش میں پس دیو ار زنداں ہیں ،
آصف اقبال تنہاؔ ،عشرت جہاں ؔ ، خالدسیفی ؔ ، اور ان گنت ایسے بہت سارے اسماء ہیں ، جو یہا ں نوشت کی گنجائش نہیں رکھتی 👇🏼👇🏼👇🏼(جاری )

You might also like