Baseerat Online News Portal

کیا موتیہاری کی سرزمین پر بنی مہاتماگاندھی یونیورسٹی میں اردو کے لئے جگہ نہیں؟ سینئر صحافی محمد سیف اللہ کا یونیورسٹی انتظامیہ سے دوٹوک سوال

رکسول۔ 10/ جولائی ( پریس ریلیز )

اردو نہ صرف اس ملک کی مشترکہ روایتوں کا حصہ اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے بلکہ ہندوستان کی آزادی اور اس کی تعمیر وترقی میں اس خوبصورت زبان نے جو تاریخی کردار نبھایا ہے اس کو آزادی کے ستر سال گزرنے کے بعد تعصب وتنگ نظری کی بنیاد پر نظر انداز کردینے کی کوشش اس زبان کی حیثیت کو کمزور کرنے اور تاریخ کے ساتھ کھلے مذاق کی طرح ہے یہ باتیں سرحدی علاقے کے باوقار صحافی محمد سیف اللہ نے بابائے قوم مہاتماگاندھی کی نگری کہلانے والی موتیہاری کی سرزمین پر قائم” مہاتماگاندھی سینٹرل یونیورسٹی ” کے شعبوں میں اردو کو جگہ نہیں دیئے جانے کے بعد اپنے شدید رد عمل میں کہیں،انہوں نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی اس زبان کے ساتھ سوتیلا برتاو ہوتا آیا ہے اور اس کے عملی کردار کو مشکوک بنانے کی منظم سازش رچی جاتی رہی ہے مگر اس زبان کے خلاف ملک بھر میں چل رہی سازش کے ساتھ چلتے ہوئے اس یونیورسٹی میں قائم شعبوں کی فہرست سے اردو کو الگ رکھ کر انتظامیہ نے جس تنگ نظری اور تعصب پرستی کا ثبوت دیا ہے اس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر یہ سازش کامیاب ہوگئی تو نہ صرف اس زبان سے محبت رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا مستقبل سوالیہ نشان کے دائرے میں آجائے گا بلکہ اسی طرح دھیرے دھیرے یہ زبان نفرت کی بھینٹ چڑھ کر دم توڑ دے گی،انہوں نے کہا کہ اردو نہ صرف اسی ملک کی گود میں پلی بڑھی ہے بلکہ اس نے ہندوستان کی آزادی اور پھر آزادی کے بعد اس کے گیسو سنوارنے میں بھی کلیدی کردار نبھایا ہے،لیکن اس کے باوجود موتیہاری کہ مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس زبان کے ساتھ جس طرح کا متعصبانہ رویہ اپنایا ہے وہ قابل افسوس اور لائق مذمت ہے،قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی کی منظوری کے بعد پہلی بار 2016 میں جب یونیورسٹی نے مختلف شعبوں میں داخلے کا اعلان جاری کیا تو اس وقت بھی اردو کو زبانوں کی فہرست سے یہ کہ کر الگ رکھا گیا تھا کہ یونیورسٹی کے پاس عمارت کی کمی ہے،مگر آج چار سال کے بعد جب 8جولائی 2020 کو ایک بار پھر یونیورسٹی نے مختلف شعبوں میں داخلے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے تو بھی اردو اس کے شعبوں کی فہرست سے باہر ہے ظاہر ہے کہ انتظامیہ کا یہ طرز عمل کسی سوچی سمجھی سازش کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ صحافی محمد سیف اللہ نے اس موضوع پر سخت نارضگی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے کئی سوال کئے ہیں اور ان سے اس رویہ کا جواب مانگا ہے انہوں نے سوال کیا کہ اگر آج سے چار سال پہلے جگہ کی کمی اردو کے شعبے کی راہ میں رکاوٹ بنی تھی تو پھر چار سال کے دوران اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی اور کیا بس یہی عذر بہار کی دوسری سرکاری زبان کے ساتھ اتنے بڑے ظلم کے لئے جواز فراہم کر سکتا ہے،انہوں نے پوچھا کہ اگر جگہ کی کمی ہی ایک بڑی وجہ تھی تو اردو کو ہی بلی کا بکڑا کیوں بنایا گیا جب کہ چمپارن وہ جگہ ہے جہاں نہ صرف اردو زبان کثرت سے لکھی بولی اور سمجھی جاتی ہے،انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر اردو کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ کے دلوں میں نفرت نہیں ہے تو اس زابان کو شعبوں کی فہرست سے باہر رکھنے کی کوشش کیوں کی گئی جب کہ داخلے کے بعد تعلیم کا کوئی معقول راستہ بھی نکالا جا سکتا تھا انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ حکومت اور مقامی لیڈران کو بھی اس سازش کا جواب دینا چاہئے کیونکہ اس معاملے میں ان کی خاموشی نے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ورنہ زمینی سطح پر منظم تحریک چھیڑ کر اس سازش کے پیچھے کا راز معلوم کیا جائے گا،محمد سیف اللہ نے کہا کہ اس زبان کا سب سے بڑا امتیاز یہ رہا ہے کہ اس نے جہاں”انقلاب زندہ باد” اور “سرفروشی کی تمنا”جیسے نعروں کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف پورے ہندوستانیوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا وہیں امن واخوت اور محبت ورواداری کے پیغام کو عام کرنے،الفت کے دیپ جلانے اور نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کی سمت میں اس زبان نے جو کردار نبھایا اس کی بھی ایک شاندار تاریخ رہی ہے لیکن ان سب کے باوجود آزادی کے ستر سالوں بعد مذہبی ولسانی تنگ خیالی کی بنیاد پر اس شریں زبان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی جو منظم سازشیں رچی جارہی ہیں انہیں کسی بھی صورت درست قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا،کیونکہ یہی وہ زبان ہے جسے نہ صرف بابائے قوم نے اپنی پسند بنایا بلکہ حسرت موہانی،فراق گورکھپوری،مجاز لکھنوی ،اشفاق اللہ خان،منشی پریم چند،منٹو،مولانا آزاد ،علی عباس حسینی، کرشن چندر، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی، پنڈت دیا شنکر نسیم ، پنڈت برج نرائن ، چکبست، پنڈت جگن ناتھ آزاد ،دیا نرائن نگم ، گیان چند جین،گوپی چند نارنگ،رام نرائن موزوں،کالی داس گپتا،مالک رام ، ماسٹر رام چندر،درگا پرساد سمبل اور علامہ اقبال جیسے ہزاروں ادیبوں اور شاعروں نے بھی اس زبان کی انگلی پکڑ کر زندگی کے سفر میں چلنے کا ہنر سیکھا ہے،انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری طور پر اس سمت میں قابل اطمینان پیش رفت کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اردو داں طبقہ کے اندر پھیلی تشویش کو دور کیا جا سکے۔

You might also like