Baseerat Online News Portal

ڈاکٹر کفیل خان سمیت کئی ایک مسلم نوجوان پس دیوارزنداں : اور قائدین کی خاموشی بے معنی تیسری/3اور آخری قسط ✍🏻ازقلم: عبد الرحمن چمپارنی

ڈاکٹر کفیل خان سمیت کئی ایک مسلم نوجوان پس دیوارزنداں : اور قائدین کی خاموشی بے معنی
تیسری/3اور آخری قسط
✍🏻ازقلم: عبد الرحمن چمپارنی

*زعماء و قائدین کی خاموشی بے معنی*
اس پر فتن دور میں جب ہر طرف یلغار ہے ، ہر سو افراتفری اور کھلبلی مچی ہوئی ہے ، سی اے اے ، این آر، سی ، این پی آر کے خلاف صدائے حق بلند کرنے والے طلباء کرام گرفتار کئے گئے ، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ، آنسو گیس کے گولے داغے گئے ، آنسو گیس چھوڑ ے گئے ، دینی و علمی دانش گاہیں نشانے پر رہیں ،احتجاجات اور صدائے حق بلند کئے گئے ، ایک سو ایک دن شاہین باغ قائم رہا ، عورتوں کی عصمتیں اور عزتیں لوٹنیں کی کوششیں کی گئیں ، زہریلے بیانا ت دئیے گئے ، اور اشتعال انگیز بیانا ت ہوئے ، اور ہر طرح مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا ، تین دن تک دلی جلتی رہی ، 45؍ سے زائد مسلمانان ہند اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردیا ، کرونا وائرس جیسی خطر نا ک بیماری جب ہندوستان میں جنم لیا تو شاہین باغ ختم جو اجاڑ دیا گیا ، ختم کردیا گیا ، لیکن اس کی انقلابی کوششیں روحانی طور پر قائم ہیں ، کرونا وائرس کے زمانہ میں تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا گیا ، مدارس اسلامیہ بھی شر پسند عناصر کی ناپاک سازشوں کی زد میں آیا ، بہن صفورا زرگر لاک ڈاؤ ن میں پانچ مہینہ کی حاملہ جامعہ کی طالبہ جیل میں تقریبا ً تین مہینہ اپنی کو کھ میں بہادر اور مجاہد ملت کو پالتی رہی ، عوام النا س اور انسانیت کی درد رکھنے والے لوگوں نے آن لائن ، تمام تدبریں اختیار کرتے ہوئے ، صدائے احتجاج بلند کئے ، الحمد اللہ ثم الحمد اللہ ! بہن صفورا زرگر رہا ہوگئی ، اتنے مظالم ہونے کے بعد قائدین امت خاموش تماشائی بنتے رہے ، اور خود کو تنقید کا نشانہ ہوتے رہے ، مگر اپنی آواز کو بلند نہیں کیا ، کبھی میڈیا کے سامنے نہیں آیا ، اور اقلیت ہونے کا دعوی کرکے خاموشی میں مصلحت ڈھونتے رہے ، اس کے پچھے کیا مصلحت ہے ؟ واللہ اعلم بالصواب
پر ابھی بھی یہ سوالات اٹھ رہے ہیں ، کہ کیا اس وقت جب ڈاکٹر کفیل خان نے جیل سے اپنے اہل خانہ کو خط لکھا ہے ،جس میں انہو ں نے یہاں تک درج کردیا ہے کہ
‘‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جیل میں مارد یا جائے ، اور اور قتل کردیا جائے اور یہ افواہ اڑادی جائے اور میڈیا کے سامنے یہ خبرسنا دی جائے کہ ڈاکٹر کفیل خان نے متھر ا جیل میں خود کشی کر لی ہے ، میں اتنا بزد ل نہیں ہو ں ، کہ خود کشی کر لوں ، میرا دھرم اسلام خودکشی کی تعلیم نہیں دیتا ، اگر خدانخواستہ میں مار دیا جاؤ ں تو آپ لو گ انکاؤ نٹر گردانیئے گا ، ’’
اس خط کو پڑھ کر دل کانپ اٹھتا ہے ، پیر زمین سے گھسکنے لگتی ہے ، کیا ہندو کیا مسلم ! سب ڈاکٹر کفیل خان کے رہائی کے لیے اپنی آوازیں بلند کر رہے ہیں ، مگر ہمارے قائدین اب بھی خاموش ہیں ، بس اللہ ہی رحم کرے ، اسی وجہ سے شاہین باغ احتجاج میں نوجوان و طالبات اور مسلم عورتوں نے خود کو قائد اور رہبر سمجھا ،اور ہر فسطائیت طاقت کو زیر کیا ، میڈیا کے انٹرو یو میں علماء یعنی قائدین امت کو قائدماننے سے انکار کیا، *کی حوصلہ وہمت کو سلام vinay duby*
آج ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے نہایت ہی جرأت مندی اور مردا نگی سے بیباکانہ انداز میں یہ اعلان کیا ہے ،او رگذارش بھی کی ہے کہ وکیل حضرات ہوشمندی اور انصاف پسندی سے کام لیں ، اور حقیقت بیانی کرکے ڈاکٹر کفیل کی رہا کرائیں ، اور کہا کہ جو وکیل ایسا کرے گا ، میں بذات خود اسے ایک کروڑ بہ طور انعام کے دوں گا ، میری اتنی وبسا ط نہیں ، البتہ لو گوں سے چندہ کرکے ادا کروں گا ، مبارک بادی اور سلام ہو ا س بندہ ٔ خدا پر ، اللہ اسے ہدایت بخشے آمین ،
*غیروں نے ہماری آنکھیں کھولی*
مزید انہوں نے ہمارے قائدین کے بارے میں کہا : میں پوچھنا چاہتا ہوں مسلمانوں کے مولاناؤ ں سے اور قائدین سے آج آ پ خْاموش کیوں ہیں ، زبان کیوں بندہے ؟ اور قلم کیوں رک گئی بل کہ ٹوٹ گئی ہے ، ؟
*موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریاں*
اب ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ساتھ مذہب سے اوپر اٹھ کر شانہ بہ شانہ ، قدم بہ قدم ہوکر ڈاکٹر کفیل کے رہائی کے لیے جس طر ح ہو سکے ، اپنی آواز بلند کریں ، اور ڈاکٹر کفیل سمیت ہر ا س شخص کے رہائی کے لیے حکومت سے ا پیل کریں ، جو بے قصور ہیں ،
اللہ سے دعا ہے کہ خیر و خوبی کا معاملہ فرمائے اور اسوۂ نبوی ﷺ پر چلنے کی توفیق بخشے ، او رہمیں حوصلہ وہمت کے ساتھ بیباکانہ انداز میں حق اور سچ کا سوپو ٹر بنائے آمین یا رب العالمین

You might also like