Baseerat Online News Portal

مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کے تمام پروگرام آن لائن سسٹم سے جڑ گئے،مجلس کی تاریخ میں یہ پہلا قابل تحسین اقدام :مفتی ابوالقاسم نعمانی

دہلی:12؍جولائی (پریس ریلیز)
مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کے تمام پروگرام آن لائن کردیے گئے ۔تمام مساجد میںہونے والے بیانات کا سلسلہ آئن لائن سسٹم سے جوڑ دیاگیا ۔ گذشتہ رات نو بج کر ۳۰ منٹ پر مجلس کے آن لائن سسٹم کا افتتاح دار العلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی اور کل ہند مجلس تحفظ تحفظ ختم نبوت کے استاذ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے کیا ۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام ممبران کا لاک ڈاؤن میں پروگرام کے رک جانے پر مسلسل اصرار تھا کہ عقائد اور علم کلام کے موضوع پر ہونے والے اس پروگرام کوکسی بھی صورت میں جاری رکھا جائے ۔ اس کے لیے مجلس کے ممبران نے باضابطہ ایک سافٹ ویٹر کے ذریعہ اپنے دلچسپی کے پروگرام کو جاری رکھنے میں کامیابی حاصل کرلی ۔دہلی مجلس ہیڈ کواٹر دکھن پوری کے صدر قاری ربیع الحسن اور سکرٹری قاری عارف جمال نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اب تمام ہفتہ واری اجلاس آئن لائن ہواکریںگے جس میں ملک کے ماہرفن علماء سے استفادہ آسان ہوگیا ہے ۔
آئن لائن سسٹم پر جیسے ہی مفتی ابو القاسم صاحب نمودار ہوئے ،تمام شرکاء اجلاس نے خوش آمدید کہہ کر استقبال کیا اور نظامت کے فرائص مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے انجام دیتے ہوئے تلاوت قرآن سے آغاز کیا ۔ مختصراً سسٹم کا تعارف کراتے ہوئے آپ نے بتایا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ کا یہ پہلا دن ہے جس میں زمینی ورک کے سے مکمل طور پرجڑے رہنے کے ساتھ آئن لائن سسٹم سے بھی مجلس کے کام جوڑے جارہے ہیں ۔چونکہ حکومتی قوانین اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے اجتماعات ممکن نہیں رہے اس لیے عقائد کے حفاظت کے لیے اس سسٹم کو اپنا ضروری ہوگیا ہے ۔
مفتی ابو القاسم نے اپنے پر مغز اور مؤثرخطاب میں عقائد کی اہمیت اور موجودہ نظام سے جڑکر کام کرنے کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئیے کہا کہ مجلس کے ممبران کے اصرار اور وقت کے تقاضے کے پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کے تحت آن لائن پروگرام کا انعقاد کیا گیا، نعمانی صاحب نے تیس منٹ تک دوران خطاب کارکنان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اور مولانا شاہ عالم گورکھپوری ، حافظ ابرار ، قاری عارف جمال، قاری ربیع الحسن ، قاضی محمد کامل وغیرہ ذمہ داران کو مبارکباد دیتے ہوئے علم کلام اور عقیدہ کی اہمیت پر کہاکہ عقیدہ اور علم کلام وقت کی اہم ضرورت ہے۔انسان کے اعمال کی قبولیت کا دار و مدار عقیدہ کی صحت پر ہے، ابتدائے اسلام سے عبادات کے نام پر کوئی فرقہ وجود میں نہیں آیا۔نماز، روزہ، زکوۃ اور حج وغیرہ کے نام پر آ ج تک کوئی جماعت وجود میں نہیں آئی، بلکہ ہمیشہ دشمنان اسلام نے عقیدہ اور علم کلام ہی کو بنیاد بنا کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ موضوع نہایت خشک ہے لیکن اس پر کام کرنے والے سب سے زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مہتمم صاحب نے یہ بھی یاد دلایاکہ اساتذۂ دار العلوم کے مشورہ سے جناب مولانا شاہ عالم گورکھپوری صاحب نے’’اسلامی عقائد و معلومات‘‘ کے نام سے عقیدہ کے موضوع پر بہت ہی اہم کتاب تیار کی ہے، جو وقت کی اہم ضرورت ہے، ارباب مدارس کو چاہئے کہ اسے اپنے ابتدائی نصاب اور درجہ حفظ میں شامل کریں،بچوں کو زبانی یاد کرائیں، طلبا میں شوق پیدا کرنے کے لئے تشجیعی اور مسابقاتی پروگرام منعقد کریں۔
دہلی مجلس کے سکریٹری جناب قاری عارف جمال صاحب نے اس کے بعدمختصر بیان میں حاضرین و سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔صدر مجلس قاری ربیع الحسن نے بھی خطاب کیا اور پروگرام کے آرگنائزر مولانا شہباز قاسمی اور دہلی مجلس تحفظ ختم نبوت کی متحرک ممبر حافظ محمد ابرار صاحب ،جناب قاضی کامل صاحب،جناب مفتی محمد صدیق محی الدین صاحب نلگنڈہ اور مفتی اکمل یزدانی بھوپال ،مولانا بادشاہ کیرالہ ،مولانا انصار اللہ قاسمی حیدرآباد ،فرحان دہلی،احمر دہلی نے مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کے ذمہ داران کو مبارک باد دی ۔ تحفظ دین میڈیا کے انچارج قاری ضیاء الرحمن نے بھی اپنی شرکت درج کراتے ہوئے نظام اور پروگرام کو سراہا ۔مرکز التراث الاسلامی دیوبند کے تمام شرکاء اور میڈیا انچاج ماسٹر محمد احمد وغیرہ نے بھی پروگرام کو سنا اور ذمہ داران کو مبارکباد پیش کی ۔

You might also like