Baseerat Online News Portal

کسی کی پہچان علم سے نہیں،بلکہ ادب سے ہوتی ہے:امتیاز ندوی

حاجی پور:12؍جولائی (عبدالواحد؍بی این ایس)علم اک لازوال دولت ہے علم ایک روشنی ہے جس میں انسان اپنا سفر اجالے کے سہارے طے کرتا ہے اور منزل مقصود تک پہونچنے کی پوری کوشش کرتا ہے اور ساتھ ہی تربیت اس کا روح ہوتا ہے جس سے انسان ادبی دنیا الگ پہچان بناتاہے اور مقبولیت حاصل کر کرتا ہے اورمعاشرہ میں پہچانا جاتا ہے یہ باتیں عبدالقیوم انصاری اردو لائبریری شاہ پور خرد کے جنرل سیکرٹری امتیاز ندوی جامعہ ملیہ اسلامیہ نئ دلی نے ایک گفتگو میں نمائندہ سے بتایا انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کی کمی کو تربیت اچھی طرح ڈھانپ لیتی ہے۔لیکن تربیت کی کمی کو تعلیم کبھی پورا نہیں کر سکتی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی کی پہچان علم سے نہیں بلکہ ادب سے ہوتی ہے کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی تھا لیکن تاریخ شاہد ہے کہ بے ادبی کی وجہ سے راندے دربار ہوگیا اور لعنت کا ہار گلے میں پڑگیا جو قیامت تک اس کے گلے میں بے ادبی کا طوق لٹکتا رہے گا ایسی صورت میں دور حاضرہ میں مسلم معاشرے میں ہر فرد کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے نہیں تو اچھائی کی جگہ برائی سرچڑھ کر بولنے کے لئے تیار ہے پھر آپ اور آپ کا معاشرہ آپ کے سامنے ہے اور فیصلہ بھی آپ ہی کو کرنا ہوگا کہ آپ کو آپ کے اہلِ خانہ کو باادب بننا ہے کہ بے ادب اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ مسلم معاشرے میں علم والےکی اللہ نے کمی نہیں رکھی آبادی کی اسی ۸۰ فیصدی لوگ علم والے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ معاشرے میں لوگ اچھی تربیت اور اچھے آدابِ سے کوسوں دور نظر آتے ہیں جس سے معاشرتی زندگی اچھے ہونے کے بجائے دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں اور نئی نسل پر اس کے اثرات سماج میں آئے دن برے مل رہے ہیں اس کا واحد سبب دینی تعلیم سے معاشرے کے بچے کو دور ہوچانا تربیت کے ساتھ پرورش نہ ہونا، سماجی اخلاقی آداب سے دور ہوجانا، جس کا نتیجہ آپ کے آنکھوں کے سامنے ہے باپ بیٹے سے بیزار،بیٹا باپ سے بیزار،ماں بیٹی سے بیزار،بیٹی ماں سے بیزار،میاں بیوی سے بیزار،بیوی میاں سے بیزار حتیٰ کہ ہر شخص ایک دوسرے سے بیزار ہیں آخر ایسا کیوں؟ ہر روز معاشرے میں اک نئ بات دیکھنے کو اور سننے کو ملتے ہیں آخر ایسا کیوں؟ اس کے ذمہ دار کون ؟ ہم یا آپ مرے بزرگوں عزیز بھائیوں اور دوستوں ،مری ماں اور بہنوں ہم کب سوچیں گے؟ہم کب خواب غفلت سے اٹھیں گے؟ہم کب فکر مند ہوں گے؟ کیا جگنے اور جگانے کا وقت نہیں ہوا ہے کیا؟اگر نہیں ہوا ہے تو پھر
وہ اندھیرا ہی بھلا تھا جو قدم راہ پہ تھا * روشنی کھینچ کے لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں
ہم اپنے سماج کے رہنماؤں،دانشوروں،سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنے معاشرے کو مغربی تہذیب کے دلدل سے نکال کر مشرقی تہذیب کے چادر سے سماج کو ڈھانپنے کی کوشش کریں تاکہ ہمارا معاشرہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ بن سکے تو آئیے
ہم سب قسم کھائیں اور عزم کے ساتھ عہد کریں کہ اپنے بچے کو اچھی تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت اور اچھے آدابِ سے مزین کریں گے آپ جانتے ہیں کہ غلط روش سے منازل کو بود بڑھتا ہے میری تربیت کا نتیجہ ہی ہے کہ آج معاشرے میں بوڑھی نگاہیں نمناک ہورہی ہے اور افسوس کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ
بوڑھی نگاہیں دیکھ کر نمناک ہوگئیں
جب غیر سا قریب سے لختِ جگر گیا
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہی میری پرورش اور تربیت کا ثمرہ ہے کہ بڑھاپے میں اولاد سے سہارے کے بجائے رونا پڑے غور و فکر کے ساتھ ساتھ محاسبہ کریں کہ ہم سے کہاں پہ غلطی ہورہی ہے اس کا سد باب کیسے ہو تاریخ شاہد ہے کہ جو شخص خود محاسبہ نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہو پاتا ہے جو قوم اپنے قوم کے لئے محاسبہ نہیں کرتا وہ قوم ترقی نہیں کر پاتا اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے کے بچے کوعصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے اپنے بچے کو اس طرح مزین کریں کہ ہم،ہمارا سماج اور معاشرہ فخر کرے اور کہنے پر مجبور ہو کہ
مدت گزر گئی ہے مچلتا ہے آج بھی
سینے میں میرے دل یہ دھڑکتا ہے آج بھی
جس نے لہو کے بوند سے لکھا تھا انقلاب
مرنے کے باوجود وہ زندہ ہے آج بھی

You might also like