Baseerat Online News Portal

محبت کا شرعی مفہوم اور اس کے فوائد ووسائل

 

عبدالعلیم بن عبدالحفیظ سلفی /سعودی عرب

          محبت ایک فطری جذبہ ہے جو کسی بھی انسان کے دل میں پیدا ہوتاہے ،بلکہ انسان کی زندگی بھی مکمل طریقےسے ابتداء تا انتہا اس کے ساتھ ہی گزرتی ہے ۔ صحیح محبت کے لئے توفیق الہی اصل ہے ، بلکہ اللہ رب العزت نے جب روحوں کو پیدا کیا اسی وقت   انہیں  ایک دوسرے سے محبت کا خوگربنایا ، عائشہ رضی اللہ عنہاکی روایت ہے فرماتی ہیں کہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”الأرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَما تَعَارَفَ منها ائْتَلَفَ، وَما تَنَاكَرَ منها اخْتَلَفَ ” “روحوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہیں، پھر جنہوں نے ان میں سے ایک دوسرے کی پہچان کی تھی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے الفت ومحبت کرتی  ہیں اور جو وہاں الگ تھیں یہاں بھی الگ رہتی ہیں۔”(صحیح بخاری/3336، صحیح مسلم/6376)۔

     اسلامی شریعت نے دیگر امور کے ساتھ ساتھ اس  سے متعلق بھی بہترین رہنمائی کی ہے  ، اور اس کے کچھ اصول وقواعد اور ضوابط بیان کیاہے ۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سلسلے میں ڈھیر ساری روایتیں منقول ہیں  کہ آپ کس طرح اپنی ازواج مطہرات ، اولاد ، اہل بیت ، صحابہ کرام  خصوصا اصحاب بدر اور  بیعت رضوان  میں شریک ہونے والوں   سے محبت کرتے تھے ، اسی طرح  دین کے شعائر خاص طور سے نماز  سے آپ کو کتنی محبت تھی ، نیز آپ خوشبو سے  بھی محبت کرتے تھے۔(دیکھئے:سنن النسائی /3939، مسند احمد/13079)۔

    شریعت کےبیان کردہ محبت کے ضوابط کے علاوہ اساطیری اور خیالی  کہانیوں ، افسانوں  اورڈراموں نے دنیا کے سامنے اس کا جومفہوم پیش کیاہے، ایک متشر د اور منتشر ذہن کے لئے وقتی آسودگی کا سبب تو بن سکتاہے، لیکن سماج کے بیگاڑ اور بربادی کا ایک مضبوط حربہ  بھی ہے  ۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب ایک انفعالی  اور افسانوی جذبہ کو  معاشرتی اور اصلاحی روایات کے برخلاف   حقیقی روپ دےکر پیش کیاجائےگا تو  معاشرے میں خرابی کا پیدا ہونا لازمی ہے ۔ دیکھاجائے تو آج زیادہ تر معاشرہ اسی سبب سے بدکاری و بدفعلی ، ذہنی انتشارا  ور  روایتی بھٹکاؤکا شکار ہے ۔  

          اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرہ  اس فطری   اور  صالح معاشرہ  اور خوشحال زندگی اور کامیاب آخرت کے لئے ضروری وسیلہ اور بہترین  صفت کو اچھی طرح سمجھے   اور صحیح وغلط کا فرق معلوم کرے ، اور اسے یہ بھی پتاہو کہ اسلام کے اندر محبت کو کتنی اہمیت دی گئی ہے ، اور کس قسم کی محبت سے منع کیاگیا ہے ، کیونکہ دیگر عباوت وامورکی طرح محبت بھی عمل اوراستعمال کے اعتبار سے عبادت  واباحت اور وجوب وحرمت  میں تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔

محبت کا معنی   :

محبت کا لغوی معنی :” محبت “یا “حب “یہ بغض کا نقیض ہے ،جس کا مطلب ہوتاہے،   لازم پکڑنا اور ثابت قدم رہنا ۔(تھذیب اللغۃللازھری:4/8، مقاییس اللغۃ:2/26،لسان العرب:1/290)۔   

محبت کے لئے بسا اوقات جب خالص محبت ہو تو ” ود” اور ” مودۃ ” کا استعمال بھی ہوتاہے ،  اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مختلف صیغوں کے ساتھ کئی جگہوں پر  اس کا  استعمال کیاہے ۔ اسی سے “ودود” بنا ہے  جو اللہ رب العزت کے اسماء حسنی میں سے ہے، جس کا مطلب ہوتاہے “بہت محبت کرنے والا”کیونکہ وہ انبیاء وصالحین اور  اپنے نیک بندوں سے بے انتہا محبت کرتاہے ۔

اسی طرح حدیث میں   بہت زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرنے کے سلسلے میں آتاہے :” تزوَّجوا الوَدود ” “خوب محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو”” (سنن ابی داود/2050،سنن النسائی/3227، علامہ البانی نےاسے صحیح قراردیاہے)۔ 

“مودۃ “اور “محبت “میں ایک   دقیق فرق ہے ، جیسے :”محبت” کا تعلق دل  میں استقرارسے ہے ،جبکہ” مودۃ “کا تعلق  اندازوبیان  کے ذریعہ اظہار سے ۔چنانچہ  ہر “ودود” محبت کرنے والا ہوتاہے لیکن ہر محبت کرنے والا” ودود” نہیں ہوتا۔

اسی طرح  محبت ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں طبیعت کا میلا ن اور حکمت دونوں   ہو جبکہ” مودۃ” صرف  طبیعت کا میلان  ہے ۔ جیسے کہاجاتاہے : مجھے فلاں سے محبت ہے  اور اس سے  مودۃ ہے ،  اور  نماز کے سلسلے میں کہاجاتاہے:مجھے نمازسے محبت ہے ،  یہ نہیں کہاجاتاکہ مجھے نماز سے مودت ہے ۔( دیکھئے :الفروق اللغویۃ/ ص 122)۔
اسی طرح مختلف اسالیب میں  کچھ فرق کے ساتھ  محبت کے معنی میں  رغبۃ  ، شوق ،رجاء ، الفت  اور تمنا جیسے الفاظ کا استعمال بھی ہوتاہے ۔ مخلتف مواقع سے قرآن وسنت میں بھی ان الفاظ  اور ان   سے مستفاد معانی کا ذکر موجود ہے ۔  محبت کے لئے  لغات میں تقریبا  ساٹھ ناموں کا ذکر آتاہے (۔(دیکھئے :روضۃ المحبین ونزھۃ المشتاقین لابن القیم / ص : 13 )

محبت کا اصطلاحی معنی :  اہل لغت نے محبت کی مختلف الفاظ میں تعریف کی ہے : جیسے المعجم الوسیط (ص151) کے اندرہے کہ :” محبت خوش کن چیزکی طرف مائل ہونا  ہے”۔

امام راغب نے اس کی تعریف یوں کی ہے:”نفس جس چیز کے اندر اچھائی محسوس کرے اسے محبت کہتے ہیں ” (الذریعۃ الی مکارم الشریعۃ/ص256)۔

اور ھروی کے بقول : ” المحبَّة: تعلق القلب بين الهمة والأنس، فِي البَذْل وَالمنْع على الإِفْرَاد”  ” رووح ونفس کامحبت کرنے والے کی ہمت اورمحبوب کی خالص  انسیت کے مابین معلق ہونا محبت ہے”۔(منازل السائرین/ص88)۔

محبت کی قسمیں  : 

محبت کی بنیادی طورپردو قسمیں ہیں :  خاص محبت ۔ عام  (یا مشترک ) محبت۔

خاص محبت : اس کی دو قسمیں ہیں :  شرعی محبت اور حرام اورناجائز محبت ۔

شرعی محبت کی چند قسمیں ہیں  :

(1)  اللہ تعالی سے محبت : یہ محبت واجب ترین محبت ہے ،کیونکہ یہ دین کی اصل ہے اور اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ، جب کسی کے اندر اللہ کی محبت کامل ہو تو اس کا ایمان مکمل ہوتاہے اور توحید کی تکمیل ہوتی ہے ، اور جس کے اندر اس محبت میں نقص یا خرابی ہو   اس کی توحید بھی ناقص ہوتی ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے: 🙁 وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ * وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ) (سورۃ البقرہ/165) (بعض لوگ ایسے ہیں جو اوروں کو اللہ کا شریک ٹھہراکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے ۔ اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتےہیں)۔

 (2)  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت :  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بھی دین کے واجبات میں سے ہے کیونکہ اس کے بغیربھی دین مکمل نہیں ہوتا ۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” :”لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ماله وولده والناس أجمعين“۔ “تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتاجب تک میں اس کے نزدیک اس کی دولت ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں “۔(صحیح بخاری/15،صحیح مسلم/44)۔

(3)  انبیاء وصالحین اور مؤمنین سے محبت : یہ محبت بھی واجب ہے  اہل طاعت اور نیک لوگوں  کی محبت بھی اللہ کی محبت کو لازم ہے، اور جس کا حکم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیاہے ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” “لا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا…..” تم جنت میں  نہیں جاوَ گے، جب تک ایمان نہ لاوَ گے اور ایماندار نہ بنو گے،جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھو گے۔۔۔۔”( صحیح مسلم /194) ۔  

حرام محبت  :  خاص محبتوں میں سے حرام محبتیں بھی ہیں جیسے معصیت میں کسی سے کوئی محبت کرے یا وہ محبت جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ خاص ہے بعینہ وہی محبت غیر کےساتھ کرے ، بلکہ ان میں سے بعض آدمی کو شرک جیسے گناہ عظیم میں مبتلا کردیتی ہیں ،  جس کا بیان اللہ تعالی نے مذکورہ آیت کریمہ کے اندرکیاہے کہ مشرکین  جس طرح اللہ سے محبت کی جاتی ہے اسی طرح غیراللہ کے لئے کرتےہیں  ، دیکھا جاتاہے کہ وہ غیراللہ کی عبادت کرتےہیں ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتےہیں اور ان سے استغاثہ وفریاد کرتےہیں ، جو اللہ رب العزت کے لئے خاص ہے وہ دراصل محبت اور تعظیم میں  انہیں اللہ کا شریک ٹھہراتےہیں ، ارشاد فرماتاہے:( وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ * وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ) (سورۃ البقرہ/165)  (بعض لوگ ایسے ہیں جو اوروں کو اللہ کا شریک ٹھہراکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں ، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے ۔ اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتےہیں)۔

     اور بعض حرام محبتیں شرک تو نہیں ہوتیں لیکن وہ بھی حرام اور ممنوع ہیں ،  جیسے آل واولاد ، مال ودولت اور تجارت ونوکری سے اتنی محبت کرتاہو کہ انہیں اللہ کے واجب کردہ امور جیسے ہجرت ، جہاداور دیگر فرائض وواجبات  پر ترجیح دے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے : (قُل إِن كانَ آباؤُكُم وَأَبناؤُكُم وَإِخوانُكُم وَأَزواجُكُم وَعَشيرَتُكُم وَأَموالٌ اقتَرَفتُموها وَتِجارَةٌ تَخشَونَ كَسادَها وَمَساكِنُ تَرضَونَها أَحَبَّ إِلَيكُم مِنَ اللَّـهِ وَرَسولِهِ وَجِهادٍ في سَبيلِهِ فَتَرَبَّصوا حَتّى يَأتِيَ اللَّـهُ بِأَمرِهِ وَاللَّـهُ لا يَهدِي القَومَ الفاسِقينَ) (سورۃ التوبۃ/24)  ( آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارےبھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے خاندان اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہواگریہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیزہیں ، تو تم انتظار کروکہ اللہ تعالی اپنا عذاب لے آئے ۔ اور اللہ تعالی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا)۔

عام (یامشترک) محبت :  اس میں کئی طرح کی محبتیں ہیں :

عمومی جائز محبت، جیسے :   کسی آدمی کی کسی  اچھی خصلت سے متاثر ہوکر یا کسی پسندیدہ شیئی سے محبت کرنا۔

 طبعی  وفطری محبت :  مثلا  : آدمی  اپنے نفس کے میلان کے مطابق کرتاہے جیسے : بھوکے کا کھاناسے ،پیاسے کا پانی سے  اور اس کے علاوہ انسان کا  حسب ضرورت وچاہت محبت کرنا ۔

عطف ورحم والی محبت : جیسے باپ اور ماں  کا بیٹے سے وغیرہ وغیرہ ۔

انس والفت والی محبت : جیسے کسی بھی فن وحرفت ، علم ، تجارت یا  سفرمیں شریک لوگوں کے ساتھ   محبت ۔

محبت اور عشق کا فرق :

محبت کے لئے کچھ لوگ “عشق ” کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں ۔

یہ کہاجائے کا کہ “عشق ” محبت کا افسانوی اور خیالی  او ربھٹکا ہو ا نام ہے تو بےجا نہ ہوگا ۔ لفظ عشق  عربی کے عَشِقَ سے بنا ہے جس کا معنی ہوتاہے “اس کا دل ھوی وخواہشات سے متعلق ہوگیا” چنانچہ محبت میں افراط کو  عشق کہاجاتاہے۔  اسی طرح عشق کا مطلب گہری چاہت  اور فرط محبت بھی بیان کیاجاتاہے۔

عشق کی ایک تعریف یہ کی جاتی ہے :”عفت وفحاشی دونوں حالتوں میں  محبت کرنے والے   کا محبوب کے لئے پسندیدگی ”  ۔(دیکھئے :روضۃ المحبین ونزھۃ المشتاقین لابن القیم / ص : 21 )

عشق کی ایک تعریف یہ بھی ہے:” الإغرام بالنساء والإفراط في المحبة” “عورتوں پر فریفتہ ہونا اور محبت میں حد سے گزر جانا”۔ (الفروق اللغویۃ/99 ، المعجم الوسیط ،المصباح المنیر)۔

عشق کی ایک تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ :” عشق ایک وہمی بیماری ہے  جو آدمی اپنی فکر و ذہن کو کسی خوبی کی اچھائی یا استحسان پر مرکوز کرکے اسے  اپنے اوپر طاری کرلیتاہے  “۔

اسی طرح عشق ایک لالچ ہے جو دل میں پیداہوتی ہے  ، اور جوں جوں وہ لالچ مضبوط ہوتی جاتی  ہے اس کی لالچ بڑھتی جاتی ہے ، اور بسا اوقات  وہ غم  اضطراب  کی حد کو پہنچ جاتی ہے  ،اور عاشق  اس کی وجہ سے یاتو خودکشی کرلیتاہے یا مرجاتاہے ، اور کبھی کبھی یہ بھی ہوتاہے کہ اپنے معشوق کو دیکھ کر فرط خوشی سے مرجاتاہے ،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ معشوق کے عیوب سے اندھا ہوتاہے۔(دیکھئے :روضۃ المحبین ونزھۃ المشتاقین لابن القیم / ص : 21-22  ،   نیز ص : 99- 100 )۔ مطلب عشق  انسان کے عقل وخرد کو بھی متاثر کردیتاہے، غالب کا مشہو ر شعر ہے :

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو  –  ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے ۔

عشق نے  غالب  نکما   کر دیا        –       ورنہ ہم بھی آدمی تھے  کام کے۔

اور اکبر الہ آبادی کا شعرہے :

عشق نازک مزاج ہے بے حد  – عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا ۔

اور میرتقی میرکا شعرہے:

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق – جان کا روگ ہے بلا ہے عشق   ۔

لفظ “عشق”نے مشرقی تہذیب کی شفافیت  وپاکیزگی کو  آلودہ کرنے میں بہت بڑا کردار اداکیاہے۔ اسی طرح دین کے نام پر عقائد واعمال کو بگاڑکرصحیح دین  اور صراط مستقیم سے لوگوں کو دور کرنے میں بھی اس کا بہت بڑاہاتھ ہے ۔

 گرچہ  یہ لفظ صدیوں پرانا ہے ،لیکن  معاشرہ ومذہب  اور علوم وفنون پر   بعد کے زمانوں میں  حملہ آور ہواہے ۔

جب سے اس لفظ کو تصوف و فنا کے نام پر دین میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی  اس نے مسلم امہ کے ایک بڑے طبقے کو  فرائض وواجبات اور توحید  وسنت سے  دور کرکے شرک وبدعات اور خرافات معاصی   میں   دھکیل دیاہے ۔

اس لفظ نے پاکیز ہ شاعری کو جب سے اپنے لپیٹے میں لیاہے غزلیات کے نام پر اساطیری  و شہوانی  افسانوں اور کہانیو ں سے  متلبس ہو کراسے جاد‍‌ہ  راہ سے بھٹکا دیاہے ۔

افسانوں  ، ڈرموں اور رومانس وشہوت پر مبنی کہانیو ں کی بنیاد ہی عشق پرہے ۔

نئے دور میں  اس لفظ نے محبت ، مودۃ ، پیار ، الفت ،چاہت ،  انسیت ،خواہش ، پریم، دوستی  اور لو جیسے معروف ومتداول او ر اور عام اصطلاحات میں یک گونہ بے حیا‎ئیوں سے پاک الفاظ اور ان کے مفاہیم  کو بھی مکدر کردیاہے ۔

گویا اس لفظ نے جہاں بھی اپنے قدم جمائے ہیں پورے طورپر  محبت کے اصلی تصور کو بدل دیاہے اور رومانس وشہوت کو عروج عطا کیاہے ۔ حالانکہ اس کے دلدادہ یہ دعوی کرنے سے بھی نہیں چوکتے کہ  اس کا استعمال ان کے یہاں پاک جذبے کے لئے ہوتاہے ، لیکن ان کی بات میں کتنی سچائی ہے اس لفظ کی تعریف اس کے مفہوم  اور مواقع استعمال  سے ہی  پتا چلتاہے۔

اللہ ا و ر اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے لفظ “عشق ” کا استعمال  :

 اللہ اور اس کے  رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اور صلحا ء واولیاء کے  لئے لفظ  عشق کا استعمال  صوفیاء اور قوالوں  کے یہاں عام بات ہے ، بلکہ  ان کے یہاں   یہ لفظ محبت سے زیادہ پرکشش اور متبرک ہے ، اس ضمن میں ان کے یہاں مختلف دلیلیں موجود ہیں، جو یاتو ان کے خود ساختہ ذہن کی اختراع ہے یا پھر بعض روایات سے ماخوذ ،جو کہ سب کی سب باطل من گھڑت اور موضو‏ ع ہیں ۔

اس کے برخلاف  سلف  وخلف میں  محدثین وفقہاء اور علماء اہل سنت کے یہاں اس کی معنوی قباحت کی وجہ سے  اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے  اس کا استعمال  حرام وممنوع ہے ، ذیل میں ہم اس سے متعلق چند دلیلیں پیش کررہے ہیں  :

*  – عشق کی مذکورہ تعریف کی بنیاد پر یہ بات واضح ہے کہ اس کے اندر وہ معانی پائے جاتے ہیں جس کا استعمال  ایک مؤمن  لئے زیب نہیں ، چہ جائے کہ اسے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے استعمال کیاجائے ، اس کے اندر لالچ ، غم ، اضطراب ،وہم ، بیماری ،شہوت ، فحاشی کی چاہت، رومانس،   خود کشی کی خواہش کا پیدا ہونا ، بسا اوقات موت کا سبب بننا اور معشوق کے عیوب    کا نظرنہ آنا  وغیرہ مفاہیم پائے جاتے ہیں جو  عشق کے وہ عناصر ہیں  جو  اللہ  اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کے استعمال سے مانع ہیں ۔

*-   لفظ” محبت” کے اندر پاکیزگی ہے، جبکہ عام بو ل چال میں بھی لفظ “عشق “سے ذہن میں رومانس  متبادر ہوتاہے۔کوئی بھی آدمی پاکیزہ رشتوں کے لئے صرف اور صرف محبت کا استعمال کرتاہے ، کسی بھی صورت میں ان کے لئے عشق کا استعمال نہیں کرسکتا، جیسے ماں ، بہن ، بیٹی ، خالہ ،پھوپھی اور دیگر تمام رشتوں کے لئے ۔ بلکہ رشتوں کے علاو ہ عام لوگوں کے لئے بھی آدمی جب کسی سے اپنی محبت کا اظہار کرتاہے تو یہ کبھی نہیں کہتاکہ “مجھے تم سے عشق ہے “۔ ایک عقلمند اور دیندار آدمی کے لئے یہاں یہ سمجھنا قدرے مشکل نہیں کہ  جو لفظ  عام  وخاص رشتوں میں اوردیگر  تعلقات کے اظہار کے لئے  گھٹیا اور معیوب سمجھا جاتاہو  اللہ اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیسے مناسب ہو سکتاہے “۔

* – قرآن و حدیث کے نصوص میں لفظ “محبت” کا استعمال بارہا ہواہے جبکہ لفظ “عشق ” کہیں بھی مذکور نہیں ہے ، اور اگر کسی روایت میں اس کا ذکر بھی ہے تو وہ موضوع اور من گھڑت ہے ۔جیسے “من عشق فعف فكتم فمات فهو شهيد ” ” جس نے عشق کیا  پھر پاکدامنی اختیار کی اور چھپایا پھر مرگیا تو وہ شہیدہے ۔” (دیکھئے :المنار المنيف:1/ 139 ، سلسلہ ضعیفہ/409 ،ضعیف الجامع/5697،5698)

 * – عشق کے اندر  محبت میں افراط پایاجاتاہے  اور اللہ رب العالمین  کی طرف کسی بھی چیزمیں افراط کی نسبت جائزنہیں ہے ۔

امام ابو العز حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :” عشق   حب مفرط(حد سے زیادہ محبت) ہےجس سے عشق کرنے والے پر ڈر پیداہوتاہے، اللہ رب العزت کو اس سے موصوف نہیں کیاجائےگا  اورنہ ہی بندے کو اپنے رب سے محبت کے لئے “۔(شرح العقیدۃ الطحاویۃ:1/166)  

* – عشق کے اندر شہوت کے ساتھ محبت اور چاہت  کا مفہوم پایا جاتاہے، جو کہ کسی بھی طرح اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مناسب نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پاکیزہ رشتوں کے لئے کبھی  بھی اس کا استعمال نہیں کیاجاتاہے۔

*-  قرآن وحدیث میں جہاں بھی غایت درجہ محبت کا ذکر ہواہے  عشق کے برخلاف “محبت ” کا لفظ ہی مستعمل ہواہے ، جیسے  مؤمنوں کی اللہ سے محبت۔ جس سے  بڑا درجہ  دوسری کسی بھی محبت کی نہیں ہوسکتی ہے ، بلکہ یہ محبت عین عبادت ہے پھر بھی اس کے لئے “حب” کا لفظ ہی اللہ  تبارک وتعالی نے ذکر کیاہے ، ارشاد فرماتاہے:(  وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ)  (سورۃ البقرہ /165)۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں سے اپنی  محبت کا جہاں بھی ذکر کیاہے اسی لفظ کے ساتھ کیاہے، فرماتاہے: ( إن الله يحب المحسنين) ) سورۃ البقرہ/195)  ( اللہ تعالی احسان کرنے والوں سے محبت کرتاہے۔) ( إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ )  (سورۃ البقرہ/222) (اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتاہے ۔)، (إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ)(آل عمران/159)  ( اللہ تعالی توکل کرنے والوں  سے محبت کرتاہے)۔ان کے علاوہ اور بھی آیتیں ہیں جن  میں صرف اور لفظ “محبت” کا ذکرہے۔

* – کسی انسان کی دوسرے سے خواہش اور حد درجہ فریفتگی کی تعبیرمیں بھی  اللہ رب العزت   نے لفظ “محبت”  ہی کا استعمال کیا ہے، عزیز مصر کی بیوی نےجویوسف علیہ السلام جیسے پاکباز نفس کو آمادہ گناہ کرنا چاہا او رآپ نے پاکدامنی کا بے مثال نمونہ پیش کیا  ، اس خبرکو اللہ رب العزت نے   کس اسلوب میں پیش کیا ہے  ملاحظہ کریں 🙁 وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۖ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۖ اِنَّا لَنَرَاهَا فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ) (سورۃ یوسف/30) (اور شہر کی عورتوں میں یہ چرچا ہونے لگا  کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے ، بے شک اس کی محبت  اس کے دل میں بیٹھ گئی ہے، ہم تو اسے صریح گمراہی میں  دیکھتے ہیں۔)

غور کیجئے محبت  ،چاہت او رخواہش و شہوت کے   اس منزل کو موجودہ فریفتگان عشق کے یہاں کیا نام دیا جاسکتاہے  ؟ لیکن رب العزت نے    اس کے لفظی معنوی  اسلو ب اور بیان کو ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک رکھاہے ۔

اسی طرح حدیث کی کتابوں میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مغیث کا اپنی بیوی بریرہ کے لئے فرط محبت کا تذکرہ ہے ، جومغیث  کو چھوڑنا چاہ رہی تھی اور مغیث ان کے پیچھے پیچھے روتے اور آنسو بہاتےہوئے جارہے تھے، ان کی داڑھی آنسو سے ترتھی ،یہ دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : يا عَبَّاسُ، ألَا تَعْجَبُ مِن حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ ، ومِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ” ۔ ” اے عباس آپ کو مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر تعجب نہیں ہے “۔ (صحیح بخاری /5283) ۔

اس فرط محبت کی تعبیر کے لئے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے “محبت” کا لفظ ہی استعمال کیاہے ۔

اللہ کے لئے محبت کے ثمرات وفوائد  :

 شریعت اسلامی میں کسی سے  اللہ کے لئے محبت   مشروع ومطلوب عمل ہے ،بلکہ  بندوں کے لئے یہ ایک ربانی اور الہی عطیہ ہے ۔ اور  صحیح  اور صالح اسلامی معاشرے کی بنیادبھی اسی پر قائم ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس ربانی صفت کے بے شمار فائدے ہیں ، آئیے انہیں فوائد اور ثمرات  کا مختصرا ذکرکرتےہیں  :

* –  محبت والفت اللہ رب العزت کی نعمت ہے : اللہ تعالی  محبت والفت کو اپنی نعمت سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتاہے:( وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا )  (سررۃ آل عمران/103)  (اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے)۔

  * – اللہ رب العزت   اہل ایمان اور عمل صالح  کرنے والوں کے درمیان محبت پیدا کردیتاہے ، ارشاد فرماتاہے 🙁 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا ) (سورۃ مریم/96)  (بے شک جو ایمان لائے ہیں اورجنہوں نے نیک اعمال کئے ہیں ان کے لئے رحمن محبت پیدا کردےگا)۔ مفسرین اس کی تفسیر کرتےہوئے لکھتےہیں کہ ” اللہ ان سے محبت کرتاہے اور اپنے مؤمن بندوں کے نزدیک  ان کو محبوب بنا دیتاہے)۔ (دیکھئے : معالم التنزیل للبغوی:5/257)۔

* – محبت بندے کو دنیا میں مقبول بنادیتی ہے : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:” إنَّ اللَّهَ إذا أحَبَّ عَبْدًا دَعا جِبْرِيلَ فقالَإنِّي أُحِبُّ فُلانًا فأحِبَّهُ، قالَفيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنادِي في السَّماءِ فيَقولُإنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلانًا فأحِبُّوهُ، فيُحِبُّهُ أهْلُ السَّماءِ، قالَ ثُمَّ يُوضَعُ له القَبُولُ ۔۔۔۔ “۔ ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ :” اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو”، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام تمام اہل آسمان کو پکار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے تم سب لوگ اس سے محبت رکھو، چنانچہ تمام آسمان والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد روئے زمین  میں اس کی مقبولیت نازل کردی جاتی ہے ۔۔۔۔” (صحیح بخاری/3209 ،صحیح مسلم/2637)۔

* – محبت ایمان کی تکمیل ہے  : ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” مَن أحبَّ للَّهِ وأبغضَ للَّهِ ، وأعطى للَّهِ ومنعَ للَّهِ فقدِ استَكْملَ الإيمانَ ” ” جس نے (اہل ایمان سے) اللہ  کی رضاکے لئے محبت کیا اور (اہل معصیت سے) اللہ  کی رضاکے لئے نفرت کیا، اور اللہ  کی رضاکے لئے خرچ کیا اور کسی کو اللہ  کی رضاکےلئے منع کر دیاتو اس نے (اپنا)  ایمان مکمل کرلیا”( سنن ابی داود/4681، الطبرانی /7613 ، شیخ البانی نے اسے صحیح قراردیاہے، دیکھئے : سلسلہ صحیحہ /380)۔

* – محبت ایمان کی مٹھاس ہے  : ایمان کی مٹھاس  پانے والے لوگوں میں سے  وہ آدمی بھی ہے جو اللہ کی رضاکے لئے کسی سے محبت کرتاہے  ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” ثلاثٌ من كن فيه وجد حلاوة الإيمان أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يقذف في النار”۔ “تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔” ( صحیح بخاری/16، صحیح مسلم/174)۔

* – محبت کرنے والا قابل رشک ہوتاہے: قیامت کے دن اللہ کے لئے دو محبت کرنے والوں پر رشک کیاجائےگا ، معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”اللہ تعالی فرماتاہے:المتحابُّون في جلالي لهم منابرُ مِن نور يغبطُهم النبيون والشهداء” میری عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن نور کے ایسے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے”۔(سنن الترمذی /2390، علامہ البانی نے اسے صحیح کہاہے)۔

* –  لوگوں سے محبت کرنے والا اللہ کا محبوب ہوتاہے : اللہ کی محبت بھی اللہ کے لئے دو محبت کرنے والوں کو ہی ملتی ہے ، معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اللہ تعالی فرماتاہے : وجَبَتْ مَحَبَّتِي للمُتَحابِّينَ فِيَّ ۔۔۔۔۔” ” میری رضاکے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے میری محبت واجب ہوگئی”۔ ( مسند احمد/22030، مؤطا الامام مالک :2/953، علامہ البانی نے صحیح الترغیب /2581 کے اندر اس کی تصحیح کی ہے)۔

محبت کرنے والے کو قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا : اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کو قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا  ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” إنَّ اللَّهَ يقولُ يَومَ القِيامَةِ: أيْنَ المُتَحابُّونَ بجَلالِي، اليومَ أُظِلُّهُمْ في ظِلِّي يَومَ لا ظِلَّ إلَّا ظِلِّي”” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری بزرگی اور اطاعت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے آج کے دن کہ میں ان کو اپنے سایہ میں رکھوں گا۔ اور آج کے دن کوئی سایہ نہیں ہے سوائے میرے سایہ کے۔” (صحیح مسلم /2566)۔ اسی طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ان سات لوگوں کا ذکرہے جن کو  سایہ نصیب ہوگا ،ان میں سے  اللہ کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والےبھی ہوں گے ۔(صحیح بخاری/660، صحیح مسلم/1031)۔

محبت  اور اطاعت :

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے کہ  اللہ تبارک وتعالی نے کسی سے محبت کا معیارللہ فی اللہ رکھا ہے ، یعنی اگر کسی سے محبت یا نفرت کرے تو صرف اور صرف اللہ کی رضا وخوشنودی کو پیش نظررکھے، اس محبت کے ساتھ  کوئی بھی دنیاوی غرض یا شہوت وناجائزاشتیاق  نہ یہ کہ اس محبت کی روح کو ماردیتاہے بلکہ بسا اوقات اللہ رب العزت کی ناراضگی اور سزا وعذاب کا سبب  بھی بنتا ہے۔

اسی طرح محبت کے لئے اطاعت  ضروری ہے ، اگر کوئی  اللہ اور  اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوے دارہے تو ان کی نافرمانی سے بچنا اور  ان کی اطاعت کرنا فرض ہے ، اس کے بغیرکوئی نہ صحیح محبت کرنے والا ہوسکتاہے اور نہ ہی مؤمن ، اللہ  تعالی فرماتاہے 🙁 قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي) (سورہ آل عمران /31)  (کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتو میری اطاعت واتباع کرو)۔

 اسی طرح اگر کوئی  اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے سے محبت کرتاہو  تو ان کی اطاعت صرف معروف اور بھلائی کے کاموں میں ہی کرنی ہے ،   اللہ تعالی کی معصیت میں ان کی اطاعت   سے بچنا ضروری ہے ،  علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:لا طاعة في معصية، إنما الطاعة في المعروف ” ۔ ” اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت  جائز نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے” (صحیح بخاری/7257،4340 ، صحیح مسلم /1840)۔

محبت کے شرعی وسائل :

آپسی محبت کے لئے شریعت نے کچھ ایسے اعمال ووسائل کی طرف رہنمائی کی ہے جنہیں اپنا کر آدمی کسی کی محبت  پاسکتاہے ، جن میں سے چند کا ذکر مناسب ہے :

* – سلام کو عام کرنا :  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” لا تدخلون الجنَّة حتَّى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتَّى تحابُّوا، أولا أدلُّكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم؟ أفشوا السَّلام بينكم”(جنت میں ا س وقت تک  نہیں جاؤگے جب تک  ایمان نہ لے آؤگے، اور ایماندار نہ بنو گے۔ جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھو گے، اور میں تم کو وہ چیز نہ بتلا دوں جب تم اس کو کرو گےتو آپس میں محبت کرنے لگوگے؟ ، سلام کو آپس میں رائج کرو۔) (صحیح مسلم/54)۔

* –    ہدیہ :  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” تَهادَوا تحابُّوا” (ایک دوسرے کو ہدیہ دو  آپس میں محبت بڑھےگی “۔(الادب المفرد للامام البخاری/594 ، مسند ابو یعلی /6148، علامہ البانی نے صحیح الجامع/3004 کے اندراسے حسن کہاہے)۔

* – جس سے محبت کرتاہے اسے بتادے : انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھاکہ ایک آدمی کا  (وہاں سے ) گذرہوا ،تو بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا : اے اللہ کے رسول میں  اس آدمی سے محبت کرتاہوں ، تو اللہ کےرسول نے پوچھا :” کیا  تم نے اسے (اس کے بارے میں “) بتایاہے  ؟” تو اس نے کہا نہیں ۔ تو آپ نے فرمایا :” جاؤ اور اس کو بتادو”۔(صحیح ابن حبان /571، علامہ البانی نے سلسلہ صحیحہ کے اندر اسے صحیح کہاہے)۔

* – اسی طرح  کسی کے ساتھ احسان ،  بہترین اخلاق  کے ساتھ پیش آنا ، مشکلوں میں مدد، اللہ کے لئے نصیحت ، مریض کی عیادت ، کسی کی موت پر تعزیت ،کسی بھی سماجی کام میں  خلوص سے شرکت وغیرہ وغیرہ یہ سب محبت کے عام ہونے کے وسائل میں سے ہیں ۔

 اللہ رب العزت ہمارے دلوں مییں اللہ ورسول اور نیک لوگوں کی  محبت پیدا کردے اسی طرح اعمال صالحہ کے لئے الفت اور ان کی  توفیق عنایت فرمائے ۔ صلى الله على خير خلقه وسلم۔  (اللهم آمين)

*******

You might also like