مضامین ومقالات

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی !

عالم نقوی
کیا آج اس کے لیے چنگیزی سے بہتر کوئی لفظ ہو سکتا ہے جو ہمارے چاروں طرف ہو رہا ہے ؟ اور وقت کے یہ سارے چنگیز عوام کی حکمرانی ہی کے نام پر تو عوام پر مسلط ہیں !! یہ نہ کتابی بادشاہ ہیں نہ شہنشاہ ۔نہ فوجی ڈکٹیٹر !! یہ سب کے سب،الا ماشاء ا للہ ،ایک دو یا چند کے سوا سب اسی نظام جمہوریت ہی کے سہارے تو ہمارے سروں پر مسلط ہیں ۔رشید کوثر فاروقی نے غلط نہیں کہا تھا کہ :پہلے اک بادشہ کا رونا تھا ۔اب تو جنگل ہے شہر یاروں کا ! ان ظالموں اور لٹیروں کو عوام ہی نے تو اپنے سروں پر بٹھایا ہے اب ہمیں صرف کانگریس یا آر ایس ایس سے نجات نہیں اِس نظام ،اِس سِسٹَم سے مکتی چاہیے جو جھوٹے وعدوں کی بنیاد پر لُٹیروں اور ڈکیتوں ،کمینوں اور ظالموں کو ہمارے سروں پر مسلط کر دیتا ہے ۔ لیکن اس کا ایک سبب اور بھی ہے جو اکثر ہمارے ذہنوں سے محو رہتا ہے کہ کمینہ صفت ظالموں کا اقتدار ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ ہو تا ہے ۔اس لیے ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ نظام کی تبدیلی کی کوششوں سے پہلے ہم خود کو بدلنے کی کوشش کریں ۔خود احتسابی اور خود سازی کے بغیر حالات اور نظام کی تبدیلی ناممکن ہے ۔ آج وطن عزیز میں ہماری حالت اگر دلتوں سے بد تر ہو چکی ہے تو اس کے مختلف اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ جب ہم صاحب اختیار و اقتدار تھے تو ہم نے ان دلتوں کی دگر گوں حالت کو بدلنے کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ ہم نے اپنے سات آٹھ سو سالہ اقتدار کے دوران اِن برہمنیت گزیدہ مستضعفین کو نہ اپنے گلے سے لگایا ،نہ اُن پر بند تعلیم کے دروازے کھولے ،نہ ان کی سماجی اور معاشی پسماندگی دو ر کرنے کی کوشش کی نہ اُن تک دینِ فطرت کے آفاقی پیغامَِ اُخوت کو پہنچایا ۔اِس کے بر خلاف ہم نے اُنہی نام نہاد ُسوَرنوں سے دوستیاں کیں اور رشتے قائم کیے جو ہزاروں سال سے لاکھوں بندگانِ خدا کو اَچھوت اور دَلِت بنا کر رکھتے آئے تھے ۔ یہاںتک کہ جب کبھی وہ خود سے ہمارے پاس آئے اور ہم سے یہ کہا کہ ہم آپ کا دین قبول کرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ آپ ہمیںاتنا یقین دلا دیں کہ پھر آپ ہمارے بیٹوں اور بیٹیوں سے رشتے بھی قائم کریں گے تو ہم نے اُسی برہمنی حقارت کے ساتھ انہیں ذلیل کر کے اپنی محفل سے اُٹھا دیا ۔ سو آج ہم اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں لیکن اب بھی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ۔
شمیم حنفی نے کسی دانشور کا یہ قول اپنی ایک تحریر میں نقل کیا ہے کہ ۔۔ہم سب (آج)ایک گناہگار معاشرے کے افراد ہیں اور ہمارا احساس گناہ (تک) ختم ہو چکا ہے اس سے زیادہ المیہ اور کیا ہوگا کہ ہمیں اپنے انحطاط اور بے راہ روی کا اندازہ تک نہیں ۔۔ہمارے عہد نے تہذیب ،معاشرت یہاں تک کہ ادب اور اخلاق تک کی قدروں کو بدل کے رکھ دیا ہے ۔انسانی حافظے کے تمام توانا لفظ اپنی روح کھو بیٹھے ہیں ،اصطلاحیں بے معنی ہو چکی ہیں ۔کچھ دنوں پہلے ارون دھتی رائے نے کہا تھا کہ ہمارے عہد کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر پیشہ ورانہ ،اور غیر اصطلاحی قسم کی سیدھی سادی اور عام فہم زبان میں اپنے معاملات کا بیان کیا جائے ۔۔ہم ارون دھتی رائے سے متفق ہیں کیونکہ مسائل اسی وقت پیدا ہوتے ہیں اور کبھی کبھی مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں جب حق میں باطل اور باطل میں حق کی ملاوٹ کی جاتی ہے ۔جب الفاظ سے اُن کے حقیقی معنی چھین کر انہیں نئے ما بعد جدید معنوں کا چولا پہنا دیا جاتا ہے ۔جب آزادی ،مساوات ،انصاف اور رواداری کو اُنہی ،نام نہاد ما بعد جدید اُصولوں کے تحت اُن کے حقیقی اور عام فہم معنوں کے بجائے ،من گھڑنت اور پُر فریب معنوں میں استعمال کیا جا تا ہے ۔ قرائن بتاتے ہیں کہ ہمارے نئے حکمراں بھارت میں امریکہ اور آسٹریلیا کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں ، یعنی وہی کرنا چاہتے ہیں جو سفید فام یورپی صہیونی عیسائی نسل پرستوں WASPنے امریکہ اور آسٹریلیا کے لاکھوں کروڑوں سیاہ فاموں اور آدی باسیوں،مول نواسیوں ABORIGINES کے ساتھ کیا تھا ۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب دیش اور دنیا کے مسلمان بھی اپنی کرنی کی بدولت اُن کی زد پر ہیں۔ اب بھارت ہی نہیں پوری دنیا کا بھلا صرف اور صرف دین فطرت کی طرف واپسی میں ہے کہ صرف وہی خالق کائنات کی پیدا کی ہوئی تمام مخلوقات کی ضرورتوں پر محیط ہے ۔ خاندانی ،سماجی ،تعلیمی ،اقتصادی اور سیاسی ہر طرح کے نظام کے لیے اب دین فطرت سے بہتر اور کوئی آپشن نہیں ۔ بھارت سمیت دنیا کا مستقبل قریب بھلے ہی تمام مستضعفین فی ا لا رض کے لیے بری خبر لے کر آرہا ہو لیکن ہمارے صادق و امین نبی ﷺ کا قول ہے دنیا کا مستقبل بعید ،بہر حال روشن ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ۔۔یہ دنیا آخری زمانے میں عدل و انصاف سے اُسی طرح بھرنے والی ہے جس طرح وہ اس وقت ظلم و جور اور قتل و غارت سے بھری ہوئی ہوگی ۔ ۔!لیکن سوال یہ ہے کہ اس مہلت عمل کا استعمال ہم کس طرح کر رہے ہیں ؟
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker