Baseerat Online News Portal

ایم پی :پارٹی کے بہانے ہوتاتھا نابالغ لڑکیوں کا جنسی استحصال، تحقیقات میں ہوسکتے ہیں اہم خلاصے

بھوپال، 13 جولائی (بی این ایس )
کہا جاتا ہے کہ سیاست کے گلیاروں کئی ایسے راز پوشیدہ ہوتے ہیں، جو سامنے آجائیں تو سفید پوشوں کے دامن پرلگے داغ سب کے سامنے آ جائیں اور جب جب بھی ایسا ہوتا ہے تو انسانیت شرمسار ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی کئی ایسے لوگوں کے اصلی چہرے بھی سامنے آجاتے ہیں، جو اقتدار کے گلیاروں میں اپنی رسوخ بنانے کے لئے کچھ بھی کرتے ہیں۔ چاہے وہ افسر ہو یا صحافی۔ مدھیہ پردیش کے صدر مقام بھوپال میں ایسا ہی ایک چہرہ بے نقاب ہوا ہے۔ وہ چہرہ ایک ایسے شخص کا ہے جس کی کرتوت نے صحافت کے پیشے کوشرمسار کردیا۔وہ بھوپال کا مشہور صحافی ہے، جسے حکومت نے ریاستی سطح پر تسلیم کررکھا ہے۔ اس کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے میں چاہے جس کی بھی حکومت رہی ہو، اس کی حیثیت کمی نہیں ہوئی ۔ دارالحکومت میں رہنے کے لئے انہیں حکومت نے دو سرکاری مکانات الاٹ کئے تھے۔ وزیراعلیٰ آفس سے لے کر تمام وزارتوں تک وہ بلا خوف و خطر جایا کرتے تھے۔ سرکاری دفاتر میں پھنسے لوگوں کا کام کرتے تھے۔ اس شخص کا نام پیارے میاں ہے۔ اس کا پیشہ صحافت ہے لیکن اس کی حرکتیں شرمسارکرنے والی ہیں۔
اس کا اصلی چہرہ کبھی بھی لوگوں کے سامنے نہیں آتا اگر ہفتہ و اتوار کی درمیانی شب میں پولیس کو وہ 5 نابالغ لڑکیاں نشے میں جھومتی نہیں ملتیں۔ جنہیںپولیس نے چائلڈ لائن بھیج دیا۔ دراصل گشت کے دوران پولیس نے پانچ لڑکیوں کو سڑک پر چلتے ہوئے پایا۔ تفتیش کے دوران انہوں نے جنسی استحصال کے ایسے معاملہ کا انکشاف کیا، جس کو جان کر سب حیران ہیں۔اس معاملے میں بھوپال پولیس نے اتوار کی شام ایک باضابطہ پریس نوٹ جاری کیا، جس میں لڑکیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات دی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اتوار کی صبح تین بجے پولیس نے راتیبھر تھانہ علاقہ میں 5 نابالغ لڑکیاں پولیس گشتی ٹیم ملی تھیں، وہ نشے میں تھیں، اتنا نشہ آور کہ لڑکیاں کچھ بھی بولنے کی حالت میں نہیں تھیں، چنانچہ انہیں چائلڈ لائن بھیج دیا گیا۔وہ لڑکیاں اتوار کے دن ہوش میں آئیں۔ جب وہ بات کرنے کے قابل ہوئیں تو ان سے چائلڈ لائن کے عہدیداروں نے پوچھ گچھ کی۔ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ شاہ پورہ کے علاقے میں ایک فلیٹ میں سالگرہ کی تقریب میں گئی تھی۔ جہاں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ یہ کام پیارے میاں نامی شخص نے کیا تھا۔مزید یہ کہ نابالغ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ پارٹیوں کے بہانے انہیں فلیٹ میں پہلے بھی کئی بار بلایا گیا ہے، جہاں پیارے میاں نے بھی ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ پارٹی کے بہانے اسے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ بدلے میں بہت سارے روپے بھی دئے گئے تھے۔ لڑکیوں نے انکشاف کیا کہ اس سارے کام میں پیارے میاں کا ساتھ سویٹی وشوکرما نامی ایک خاتون بھی دیتی تھی۔پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم پیارے میاں بھوپال کا مقامی صحافی ہے۔ پولیس نے لڑکیوں کے بیان کی بنیاد پر پیارے میاں اور اس کی ساتھی سویٹی وشوکرما کے خلاف دفعہ 366 (اے)، 376 (2)، 120 (بی) اور پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے بعد ملزم سویٹی شرما کو تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ ملزم پیارے میاں فرار ہوگیا، اس کی تلاش جاری ہے۔
بھوپال کے ڈی آئی جی ارشاد ولی نے ملزم پیارے میاں پر 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ریاست کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے پیارے میاں کو الاٹ کیے گئے دونوں سرکاری مکانات خالی کرنے اور معاملہ کے علم میں آتے ہی ان کی منظوری منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ اس کیس کی تاروں کا تعلق بہت سارے لوگوں سے ہے، جو لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہیں۔ پولیس کی ٹیم لڑکیوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ نیز سویٹی شرما نامی خاتون سے مسلسل پوچھ گچھ کی جارہی ہے، جو پیارے میاں نامی ملزم کی ساتھی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سویٹی لڑکیوں کو نوکری دلانے کے بہانے اسے لالچ دیتی تھی۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کررہی ہے کہ ان پارٹیوں میں کون شرکت کرتا تھا۔ لڑکیوں کو اور کہاں بھیجا گیا تھا؟ اس معاملے میں ایک بڑے انکشاف کی توقع ہے۔

You might also like