Baseerat Online News Portal

تبلیغی جماعت:غیرملکیوں کوبلیک لسٹ میں ڈالنے کامعاملہ: 24 جولائی کو سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت

نئی دہلی، 13 جولائی (بی این ایس )
سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میںشامل ہونے کی وجہ سے 35 ممالک سے تعلق رکھنے والے 2700 سے زیادہ غیر ملکی شہریوں کو دس سال کے لئے بلیک لسٹ کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست پر 24 جولائی کوسماعت ہوگی۔ جسٹس اے ایم کھان ولکر کی سربراہی میں بنچ کے روبرو یہ معاملہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت کے لئے سامنے آیا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ سے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ بنچ نے مہتا کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسے 24 جولائی کے لئے درج کیا۔ تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون سمیت 34 غیر ملکی شہریوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں درخواست دائر کی ہے۔ اس سے قبل 2 جولائی کو سماعت کے دوران مرکز نے ان درخواستوں کو خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔ مرکز نے دعوی کیا کہ اس نے 2765 غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے اور انہیں ہر ایک کیس کی بنیاد پر بلیک لسٹ میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ مرکز نے اس معاملے میں عدالت میں دائر حلف نامے میں کہا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق 11 ریاستوں نے تبلیغی جماعت کے غیر ملکی ممبران کے خلاف 205 ایف آئی آر درج کی ہیں اور اب تک 2765 غیر ملکیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے 2679 غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کردئے گئے ہیں۔ ان میں نواوسی آئی کارڈ ہولڈر شامل ہیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ بقیہ 86 میں نیپال کے شہری شامل ہیں جن کو ویزا کی ضرورت نہیں ہے۔مرکز نے یہ بھی کہا کہ تبلیغی جماعت کے غیر ملکی ممبروں کی تلاش میں 1906 لک آؤٹ سرکولر جاری کئے گئے تھے، جب کہ یہ سرکلر جاری ہونے یا پھر بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی کاروائی سے قبل ہی 227 غیر ملکی ہندوستان سے لوٹ گئے تھے۔ عدالت نے 29 جون کو وزارت داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ تھائی لینڈ کے سات ماہ کی حاملہ شہری سمیت 34 غیر ملکی شہریوں کی درخواستوں پر اپنا موقف واضح کرے۔

You might also like