Baseerat Online News Portal

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

نثاراحمد حصیر القاسمی
شیخ الحدیث معہد البنات بورہ بنڈہ و جامعۃ النور یوسف گوڑہ
سکریٹری جنرل اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز ۔ حیدرآباد۔
[email protected]
0091-9393128156

اپنے وطن عزیز ہندوستان میں آج مسلمانوں کو حکمراں طبقہ اور اس سے وابستہ انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے عجیب وغریب صورتحال کا سامنا ہے‘ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمراں طاقت کے نشہ میں ہوش وحواس کھو چکے اور سمجھ بیٹھے ہیں کہ ان کا اقتدار لازوال ہے، اس وقت ان کی منطق وہی ہے جو قوم عاد کی تھی ، وہ اس زعم اور غرور میں مبتلا تھے، کہ ’’من اشد منا قوۃ ‘‘ مجھ سے زیادہ طاقتور کون ہوسکتا ہے، میں تو دنیا کی سب سے طاقتور قوم ہوں‘ بھلا مجھے کون مغلوب کرسکتا ہے‘ اس منطق وغلط فہمی کے تحت ہمارے آر ایس ایس کے پروردہ حکمراں نہ صرف مسلمانوں پر ہر طرح کے مظالم روا رکھے ہوئے ہیں بلکہ ہندوستان کے اصل باشندے دلتوں کو بھی نشانہ بنا کر تختہ مشق بنائے ہوئے اور ان کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہیں۔ اب تک ان کے مظالم جسمانی اذیت پہنچانے‘ ذہنی ٹارچر کرنے بے گناہوں کو سلاخوں کے پیچھے زندگی گذارنے پر مجبور کرنے‘ نوجوانوں کا قتل عام کرنے ‘ تعلیم سے انہیں دور رکھنے‘ ان کا انکائونٹر کے نام پر اپنے جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرنے ، گائے اور رام مندر جیسے مسائل کے نام پر ظلم وستم ڈھانے اور دوسرے نمبر کا شہری بنانے تک محدود تھا ، مگر اب انہیں اپنے دین وایمان سے بے دخل کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کوشش کی جارہی ہے اور سارے دستوری وقانونی حقوق کو حرف غلط کی طرح مٹانے کیلئے قوانین بنائے جارہے ہیں ، ان کا منظم منصوبہ ہے کہ مسلمان اپنے ملک میں یا تو اکثریتی طبقہ میں جذب ہو کر اور موچی بھنگی اور اس طرح کے گھٹیا پیشہ سے وابستہ رہ کر زندگی گذاریں یا اپنے وجود وشہریت سے ہاتھ دھو لیں، آج ایک طرف طلاق ثلاثہ ، حلالہ، تعدد ازدواج اور اس طرح کے شرعی قوانین کو تبدیل کرکے اور مسلمانوں کو اپنے عائلی قوانین پر عمل کرنے اور اسلامی ہدایات کے مطابق نکاح وطلاق کے معاملات طے کرنے سے روکا جارہا ہے، اور دوسری طرف انہیں دھمکی دی جارہی ہے، کہ وہ اگر اپنے مذہبی قوانین کو عزیز جانتے اور ملک کے اکثریتی عائلی قوانین کو اپنے اوپر نافذ کئے جانے سے انکار کرتے ہیں تو وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں ، مسلمان ہی نہیںبلکہ جو بھی آج حکمرانوں کے طرز عمل اور ان کے مذہبی جنون اور انتظامی نا اہلی کیخلاف آواز بلند کرتا ہے ، غدار اور قوم وملک کا دشمن قرار دیکر انہیں عقوبت خانوں میں پہنچا دیا جاتا ہے اور اکثریتی طبقہ کے منو واد قاتلوں ‘ سفاکوں ‘ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ جہاں اور جس طرح چاہیں قانون اپنے ہاتھ میں لیکر دستور کی دھجیاں اڑائیں‘ آج حکمرانوں کی سرپرستی میں ان کی تنظیم کے سیوک زمین میں فساد وبگاڑبرپا کرانے ابنائے وطن کے درمیان گہری کھائی اور طویل خلیج پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں تاکہ ملک کے اصل باشندے دلت اور مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور باہر سے اس ملک میں آکر اس پر حکمرانی کرنے والے اونچی ذات کے سیاست داں حکمرانی کرتے رہیں‘ آج ہمارے حکمراں طاقت ووسائل اور اسلام دشمن عالمی طاقتوں کی حمایت وتائید کے نشہ میں مدہوش اور کبر ونخوت میں اس قدر اکڑے ہوئے ہیں کہ ان میں خیر وشر اور ملک کے صلاح وفساد کی تمیز تک باقی نہیں رہی اور نہ یہاں کی تہذیب و روایات کا پاس ولحاظ رہا ہے، ان کا ایک ہی نظریہ ہے کہ ہمارے پاس طاقت ہے، ہمیںمغرب کی پشت پناہی حاصل ہے، اسرائیل ہمارا دوست اور مشیر ومنصوبہ ساز عدالت ہمارے گھر کی لونڈی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمارے جیب میں ہیں۔ اس لئے ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں، ہم سے بھلا کون باز پرس کرسکتا ہے، یہی بات قوم عاد نے کہی تھی جسے تباہی وبربادی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا اور وہ نیست ونابود کردیئے گئے‘ انہوں نے کہا تھا۔
اور عاد نے بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے بہت ہی زیادہ زور آور ہے، وہ آخر تک ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔ سورہ فصلت آیت نمبر 10
اس کبر ونخوت اور غرور واکڑ کا نتیجہ کیا ہوا، خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز وتند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں، اور (یقین مانو ) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیادہ رسوائی والا ہے او ر وہ مدد نہیں کئے جائیںگے۔ (سورہ فصلت: آیت نمبر 16)
اللہ کے اس کلام میں غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کا ایک مقرر کردہ نظام ہے کہ جو اس طرح کے کبروغرور میں مبتلا ہوتا اور اپنے ناقابل تسخیر عظیم طاقت ہونے کا دعویٰ کرتا اور دوسروں کو للکار کر ظلم و ستم اور بدامنی ولا قانونیت کا دروازہ کھولتا ہے اس کا انجام دیر ہو یا سویرہلاکت و بربادی ہے۔ آج پورے ہندوستان میں مذہبی جذبات کو بھڑکاکر، برادران وطن کے درمیان پھوٹ ڈال کر اور مسلمانوں کے خلاف قوانین وضع کرکے ایک سنگین صورتحال پیدا کردی گئی اور خانہ جنگی و انتشار کی فضاء قائم کرکے سیاسی روٹی سینکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو مکمل اعتماد ہے کہ مغرب ہمارے پشت پر ہے اور اسرائیل ہمارا مشیر ہے، ہمارے پاس دولت و طاقت کی کمی نہیں، ملکی بساط ہو یا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہماری آواز سنی جانے والی اور ملک کے مظلوموں کی آواز حلق سے باہر نہیں آسکتی اور نہ اس کا کوئی پرسان حال ہے‘ اس لئے ہمارا کوئی بال بیکانہیں کرسکتا۔مگر ایمان سے عاری ہونے کی وجہ سے وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قوم عاد و ثمود اور فرعون ان سے زیادہ طاقتور اور زیادہ ہتھیار ولائو لشکر والے تھے مگر ان کا انجام کیا ہوا، ہامان و قارون کا حشر کیساہوا، تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت سے آج تک جس نے بھی اپنی طاقت کے نشہ میں بدمست ہوکر بے گناہوں پر مظالم ڈھائے وہ زیادہ دنوں نہیں رہ سکے ایک نہ ایک دن ان کے مظالم کی داستان ختم ہوئی اور وہی ان کیلئے تباہی و بربادی کا سبب بنا، آج نہ ہٹلر باقی ہے نہ سوویت یونین اپنا اتحاد باقی رکھ سکا۔ ظالموں کے حشر و انجام سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ بطور عبرت میں اس جگہ صرف ایک واقعہ ذکر کر دینا مناسب سمجھتاہوں۔
اس وطن عزیز کے اندر شاہ عالم ثانی نے اپنے محسن نجیب الدولہ کے بیٹے ضابطہ خان کے غوث گڑھ پر حملہ کرکے اسے تباہ و برباد کردیا اور ضابطہ خان کی بیوی بچوں کو قیدی بنالیا، ضابطہ خان کے بیٹے غلام قادر روہیلہ کو زنانہ لباس پہناکر وہ اپنے سامنے نچوایا کرتا تھا۔ شاہ عالم بھول گیا کہ یہ اس شخص کا پوتا ہے جس نے مصیبت کے وقت اس کی مدد کی تھی۔ حالات بدلے اور چند سالوں بعد ہی غلام قادر دہلی پر قابض ہوگیا اور اپنی اور اپنے خاندان کی بے عزتی کا انتقام اس طرح لیا کہ سب شہزادیوں کو سرعام نچوایا اور شاہ عالم کو زبردستی یہ منظر دکھلایا تاکہ اسے اپنی پچھلی حرکتیں یاد آئیں، کل شاہ عالم غلام قادر کو نسوانی لباس پہناکر نچوا رہا تھا اور آج ا سکے خاندان کے شہزادے اور شہزادیاں اس کے سامنے ناچ رہے تھے، غلام قادر نے شاہ عالم کی آنکھ بھی نکال لی تھی مگر اس کے بعد ہی اس کی مدد کے لیے مرہٹوں کی فوج سندھیا کی قیادت میں دہلی میں داخل ہوگئی۔ غلام قادر کے سارے وفادار اس کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ گئے، وہ پکڑا گیا اور اسکی آنکھ، کان ، ناک اور زندہ حالت میں اس کے جسم کے گوشت چھیل کراتارے گئے۔
شاہ عالم نے دوسروں پر مظالم ڈھائے اور خود اپنے محسن کے بیٹے پوتوں پر ظلم کیا، اسے اس کے ظلم کی سزا اسی دنیا میں مل گئی ، غلام قادر نے شاہ عالم اور اس کے خاندان والوں پر مظالم ڈھائے تو اسے بھی اس کا بدلہ اسی دنیا میں مل گیا‘ راجیو گاندھی نے بابری مسجد کے تالے کھلواکر شیلا نیاس اور پوجا کی اجازت دے کر مسجد شہید کرنے اور اس کے ملبے پر مندر تعمیر کرنے کہ راہ ہموار کی اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم و نا انصافی کی اس کے انجام سے ہم سب واقف ہیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں تصوراتی خاکے اور خیالی کہانیاں نہیں ہیں ۔ جب بھی کسی کی جانب سے کسی پر ظلم کی انتہاء کردی جاتی ہے تو حالات کروٹ لیتے ہیں اور ظالموں کو انجام بد سے دو چار ضرور ہونا پڑتا ہے ۔
آج ساری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں ، مغرب پرست حکمراں ان کے اشاروں پر مسلمانوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں اور ان کی راحت وسکون کو چھینیہوئے ہیں‘ مسلمان سخت آزمائش کے دور سے گذر رہے ہیں اور ظلم وسفاکی عروج پر ہے ۔ مگر ان ظالموں وسفاکوں کا یہ عروج دائمی ولازوال نہیں ، تاریخ شاہد ہے کہ جنہوں نے بھی عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑا اور ظلم ونا انصافی کا راستہ اختیار کیا تو ہلاکت وبربادی و اور زوال وبکھراؤ ان کا مقدر بن گیا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بجا فرمایا ہے کہ کوئی ملک کوئی اقتدار ، کوئی حکومت اگر عدل وانصاف پر قائم ہے تو کفر وشرک کے باوجود وہ قائم رہ سکتی ہے، مگر کوئی مسلم حکومت واقتدار بھی اگر ظلم و ناانصافی کے راستے پر گامزن ہو تو وہ باقی نہیں رہ سکتی، یعنی اقتدار وحکمرانی کے بقاء کا معیار کفر وایمان نہیں بلکہ عدل وظلم ہے، اگر عدل ہے تو بقاء ہے ، اگرظلم ہے تو زوال یقینی ہے۔
مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت وقت کی سازشوں ، سرگرمیوں اور دین میں مداخلت کی کوششوں کی پر امن مزاحمت کریں ، اپنے شہری وتمام دستوری حقوق کی برقراری کی جدو جہد میں حصہ لیں اور پر امن طریقہ پر اس کے لئے جو بھی ممکن ہو کریں اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنی زبان میں ہم آہنگی پیدا کریں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں ، اللہ پر بھروسہ رکھیں اور ہزار باد مخالف کے باوجود یہ امید رکھیں کہ اللہ کے نزدیک دیر ہے اندھیر نہیں ۔ اللہ ہمارا ناصر ومددگار ہے، بشرطیکہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا او رتمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ (محمد 7)

٭٭٭

You might also like