Baseerat Online News Portal

سیاست سے دور رہ کر جینے والی قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دی جاتی ہے :سیف اللہ… ،ہمیں اپنے شاندار مستقبل کے لئے نئی نسل کے اندر سیاسی شعور پیدا کرنا ہوگا

رکسول۔13/جولائی ( پریس ریلیز )

پوری دنیا سمیت ہمارا ملک ان دنوں بھلے ہی کرونا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہو لیکن اس وقت ملک کے اندر جس طرح کی سیاسی صورت حال کو جنم دے کر آزادی وطن کے لئے دی گئی مسلمانوں کی قربانیوں پر چادر ڈالنے کی کو شش ہو رہی ہے اگر اس کے منفی نتائج کو وقت رہتے محسوس نہ کیا گیا اور ہم نے ان حالات سے سبق لیتے ہوئے چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کی فکری غلامی سے آزاد کر کے اپنی سیاسی قوت کو پروان چڑھانے اور ملک کے سیاسی منظرنامے میں اپنی حصہ داری کو مضبوط کرنے کے لئے ذمہ دارانہ اقدامات نہ کئے تو نہ صرف مسلمانوں کی پوری تاریخ تبدیل کر کے اس پر بے اعتمادی کی چادر اوڑھا دی جائے گی بلکہ مستقبل میں بھی ہمیں قدم قدم پر کئی طرح کے دشوار کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا یہ باتیں سینئر صحافی محمد سیف اللہ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہیں انہوں نے ہندوستان کی آزادی اور اس کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں کی ناقابل فراموش جد وجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ آزادی کا ہر باب مسلمانوں کی قربانیوں کا گواہ ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں جد وجہد آزادی کا کوئی بھی باب مسلمانوں کی قربانیوں کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا مگر آزادی کے ستر سالوں بعد آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی جو تعلیمی،معاشی اور اقتصادی صورت حال ہے اس پر ماتم کو جی چاہتا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو وقت کی رفتار کے ساتھ جن حالات کا سامنا ہے اور انہیں جس سازشی نظرئیے کے تحت زندگی کے مختلف میدانوں میں پیچھے دھکیلنے کی مہم چلائی جارہی ہے وہ ملک کی کئی نسلوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی تردد نہیں کہ آج مسلمانوں کو صرف سماجی،اقتصادی اور تعلیمی شعبے میں ہی شدید دباؤ کا سامنا نہیں ہے بلکہ ملک کی سیاست میں ان کوحاشیے پر ڈالنے کے بھی بڑے پیمانے پر منصوبے تیار کئے جارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پارلیامنٹ سے اسمبلیوں تک سیاسی نمائندگی میں اس وقت وہ سب سے نیچے ہیں اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیم میں وہ پہلے کے مقابلے کافی پیچھے ہو گئے ہیں ان کی معاشی حالت بھی افسوس ناک حد تک کمزور ہو چکی ہے ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں ٹھوس منصوبہ کے سہارے ہی اپنے کھوئے ہوئے ماضی کو واپس لاکر بدلتے دور کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑا رہا جا سکتا ہے اس لئے ہمیں اپنی موجودہ نسل کے اند خود اعتمادی کے ساتھ انہیں اقتصادی میدان میں اترنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی اور انہیں سیاست کے اصولوں سے واقف کراتے ہوئے اس میدان میں قابل اطمینان حصہ داری کے لئے تیار کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے ہماری قوت ارادی متاثر ہوتی ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو مایوسی سے باہر نکال کر انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں کلیدی رول ادا کرنے کے لئے ذہنی وفکری طور پر تیار کریں،محمد سیف اللہ نے کہا کہ سیاسی میدانوں سے الگ ہوکر دوسرے کے رحم وکرم پر جیتے رہنے کی سوچ رکھنے والی قوم تاریخ کے پنوں سے کھرچ کر مٹادی جاتی ہے،ان کا نہ تو وجود باقی رہ پاتا ہے اور نہ ہی یہ سیاسی غلطی انہیں سنبھل کر آگے بڑھنے کا ہنر سکھاتی ہے اس لئے ہمیں احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنی حیثیت ثابت کرنی ہوگی اور ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ کسی بھی قوم یا جماعت کی آزادی کے بجھتے ہوئے چراغ کو آنسوں سے نہیں بچایا جاتا بلکہ اس کی حفاظت کے لئے ٹھوس طریقے اپنانے ہوتے ہیں اس لئے آج ہمیں بھی اپنے ملک کی جمہوریت اور اس کی آزادی کے چراغ کو بچائے رکھنے کے لئے قابل اطمینان پیش رفت کرنی ہوگی اور فرقہ پرست طاقتوں کے سارے ناپاک عزائم کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑا رہنا ہوگا ورنہ مستقبل میں سوائے اظہار مایوسی کے ہمارے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا ۔

You might also like