Baseerat Online News Portal

سعودی عرب: کفیل کی مرضی کے بغیر کفالت کی تبدیلی کیسے کریں؟

آن لائن نیوزڈیسک
سعودی عرب میں غیر ملکیوں کے لیے رہائشی پرمٹ کا حصول لازمی ہے جسے ’اقامہ ‘ کہا جاتا ہے۔ رہائشی پرمٹ یا اقامہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی مقامی شخص کی سپانسر شپ حاصل کی جاتی ہے جسے ’کفالت ‘ کہتے ہیں۔
اقامہ قوانین کی مختلف شرائط ہیں تاہم بنیادی طور پر اقامہ یا رہائشی پرمٹ کو 2 کیٹگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ’انفرادی‘ اور ’کمپنی‘ کے ملازمین۔
انفرادی میں گھریلو ملازمین آتے ہیں مثلاً گھریلو ڈرائیور، ملازمہ، چوکیدار، مزارع ، ذاتی ٹیوٹر، نرس وغیرہ یعنی ایسے پیشے جو کسی شہری کی ذاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مخصوص ہوں انفرادی پیشے کہلاتے ہیں۔
انفرادی کفالت کے تحت جو ملازمین آتے ہیں ان کے معاملات براہ راست محکمہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے تابع ہوتے ہیں ‘انفرادی ملازمین وزارت افرادی قوت جس کا سابقہ نام وزارت محنت کے تحت نہیں آتے اس لیے گھریلو ملازمین کی اقامہ فیس بھی کم ہوتی ہے۔
انفرادی پیشے کے ملازمین کے لیے قوانین بھی مختلف ہوتے ہیں۔ سعودی وزارت افرادی قوت کی جانب سے گھریلو ملازمین فراہم کرنے والی متعدد کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں جو لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق روزانہ یا ماہانہ بنیاد پر ملازمین مہیا کرتی ہیں۔
گھریلو ملازمین کے اقاموں کی تجدید اور دیگر معاملات کیونکہ براہ راست محکمہ پاسپورٹ کی زیر نگرانی آتے ہیں اس لیے ان کے قوانین بھی قدرے مختلف ہیں۔
اس حوالے سے اردو نیوز کے ایک قاری کا سوال ہے کہ ’ میں ایک ہاؤس ڈرائیور ہوں اورمیرے اقامے کی بھی کئی ماہ سے تجدید نہیں ہوئی، کیا میں بغیر کفیل کی منظوری کے دوسری جگہ کفالت تبدیل کرا سکتا ہوں‘۔
جواب: گھریلو ملازمین کے امور براہ راست جوازات کی زیرنگرانی ہوتے ہیں اس لیے ان پر لیبر آفس کے قوانین لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ انفرادی کفالت کے ملازمین کے لیے کفالت تبدیلی کے معاملات جوازات میں مکمل کیے جاتے ہیں۔
جہاں تک آپ کا سوال ہے کہ کفیل کی مرضی کے بغیر کفالت کی تبدیلی تو اس حوالے سے جوازات کے ذمہ دار سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کارکن کو تنخواہ اور واجبات ادا نہیں کیے جاتے تو اس صورت میں وہ باقاعدہ لیبر کورٹ میں شکایت درج کراسکتا ہے جہاں فوری طور پر اس کی شکایت پر کارروائی کی جائے گی تاہم کفالت کی تبدیلی اس لیے کفیل کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں وزارت افرادی قوت کے قوانین کا عمل نہیں جبکہ جوازات کے قانون کے مطابق گھریلو ملازمین کے لیے کفالت کی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ سابق کفیل کی جانب سے این او سی حاصل کیا جائے جس کے بعد ہی کفالت تبدیل کرائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب کمپنی کے ملازمین اگریہ ثابت کرسکیں کہ انہیں 3 ماہ تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں تو وزارت افرادی قوت کے حکم پر ان کی کفالت کی تبدیلی کفیل کی منظوری کے بغیر کی جا سکتی ہے۔
گھریلو ملازمین فراہم کرنے والی کمپنیوں کی زیر کفالت ملازمین کی جانب سے بھی اس قسم کے سوالات موصول ہوئے ہیں۔
ایک قاری کا کہنا ہے کہ ’میں کچھ عرصے سے نجی کمپنی میں ڈرائیور کے طور پرکام کرتا ہوں، کمپنی افرادی قوت سپلائی کرتی ہے کمپنی کی جانب سے ہمیں ماہانہ 800 ریال ملتے ہیں جبکہ کمپنی جن لوگوں کو ہمیں کنٹریکٹ پر فراہم کرتی ہے وہ ان سے 2800 ریال ماہانہ وصول کرتے ہیں، کیا میں اپنی کمپنی سے تنازل لے کر اس شخص کے پاس اپنا اقامہ ٹرانسفر کرا سکتا ہوں جہاں خدمات انجام دے رہا ہوں؟
جواب: مذکورہ صورت میں یہ ممکن نہیں ہوگا کیونکہ آپ کا اقامہ کمپنی کا ہے اور وہ وزارت افرادی قوت کی زیر نگرانی صادر ہوتا ہے۔ وزارت کے قانون کے مطابق کمپنی کے اقامے پر آنے والے انفرادی کفیل کے پاس اپنا اقامہ تبدیل نہیں کرا سکتے۔
انفرادی کفیل کے لیے لازمی ہے کہ انفرادی اقامہ ہی حاصل کیا جائے بصورت دیگر آپ کو اپنی کمپنی سے استعفیٰ دے کر خروج نہائی فائنل ایگزٹ پر جانا ہو گا، بعد میں جس انفرادی کفیل کے پاس آپ کام کر رہے ہیں اس کے اقامہ پر مملکت آسکتے ہیں تاہم یہ بھی اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ اگر آپ کی کمپنی خروج نہائی کے وقت اس قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کرتی کہ آپ مخصوص مدت تک مملکت نہیں آسکتے۔
اگرچہ اس کا امکان کم ہی ہوتا ہے وہ بھی اس صورت میں ہوتا ہے کہ اگر کمپنی کی انتظامیہ سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا ہواور معاملہ پولیس و عدالت میں گیا ہو،اس صورت میں کمپنی کی جانب سے پابندی لگائے جانے کا امکان ہوتا ہے۔

You might also like