جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس سے سوال

تمہارے جذبات ، جذبات ہیں اور مسلمانوں کے جذبات؟
شکیل رشید(فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی) 
’تمہارا خون خون ہے ہمارا خون پانی ہے ‘!
ایک پرانی کلاسک فلم ’ یہودی‘ کا یہ سہراب مودی کا مکالمہ اپنے دور میں بڑا ہی مشہور ہوا تھا۔ آج یہ مکالمہ یاد آنے کی وجہ مذہبی بنیادوں پر کیا گیا مہاراشٹر کی دیویندر فڈنویس کی سرکا رکا ایک فیصلہ ہے ۔۔۔ فیصلہ یہ کہ ممبئی سے لے کر میرا بھائیندر تک جین دھرم کے مذہبی تہوار ’پریوشن‘ کے موقع پر چار دنوں تک چھوٹے اور بڑے کے گوشت کے ساتھ ہی مرغی کے گوشت کی مارکیٹ اور مچھلی فروشی کا بازار بند رکھا جائے گا ۔۔۔ حالانکہ مذکورہ فیصلہ میرا بھائیندرمیونسپل کارپوریشن اور ممبئی میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے کیا ہے لیکن اصل میں یہ فیصلہ ریاستی سرکار کا ہی ہے کیونکہ کارپوریشن کی باگ ڈور حکومت کے ہی ہاتھ میں ہوتی ہے اور انتظامیہ اپنے اعمال وافعال کی جوابدہ ریاستی سرکار کو ہی ہوتی ہے ۔ باالفاظ دیگر یہ کہ دونوں ہی کارپوریشنوں کے سرکاری افسروں نے چار دنوں تک چھوٹے ، بڑے اور مرغی کے گوشت اور مچھلی کی مارکیٹ کو بند رکھنے کا فیصلہ ریاستی حکومت ہی کے اشارے پر کیا ہے۔۔ بھلے ہی ریاستی حکومت یہ کہے کہ ’ ہمارا اس فیصلے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ‘ لینا دینا اسی کا ہے ۔
ہمارا مذہب ’ دین اسلام‘ ہر مذہب کے احترام کی تلقین کرتا ہے لہٰذا ہم جین دھرم کے کسی تہوار پر نکتہ چینی یا تنقید کرکے اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی قطعی نہیں کریں گے ۔ جینی ’ عدم تشدد‘ کے قائل ہیں اور ان کے مذہب میں ’ جیئوہتیا‘ کو ’پاپ‘ بلکہ ’مہاپاپ‘ سمجھا جاتا ہے اس لئے وہ کسی بھی جانور کا گوشت نہیں کھاتے اور ہم مسلمانوں کو ہی نہیں اس ملک کے تمام ہی شہریوں کو چاہیئے کہ ان کے مذہبی جذبات کا خیال رکھیں اور ان کے سامنے کوئی ِذبیحہ نہ کریں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ہندوستانی جو’گوشت‘ کھاتے ہیں یا ’ مچھلی‘ کھاتے ہیں انہیں کوئی ،بشمول حکومت ،کیسے گوشت مچھلی کھانے سے روک سکتا ہے ؟ آئینی طور پر یہ تمام شہریوں کا حق ہے کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں کھائیں، اس پر کوئی پابندی نہیں لگاسکتا ۔۔۔ لیکن ہویہ رہا ہے کہ کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسی پابندی لگادی جاتی ہے جو ملک کے دوسرے تمام شہریوں کو متاثر کرتی ہے ۔ ان کے Food Habit یعنی کھانے پینے کی ریت اور رواج کو متاثر کرتی ہے اور ان سے ان کے کھانے پینے کے بنیادی حق کو چھین لیتی ہے۔
جین دھرم کے ماننے والے اگر ’ گوشت اور مچھلی‘ کھانے کو دھارمک طو رپر غلط سمجھتے ہیں تو سمجھیں لیکن وہ کیسے ایک جمہوری اور سیکولر ملک میں ’غیر جینیوں‘ کو بھی اپنے دھرم کےعین مطابق عمل پر مجبور کرسکتے ہیں! لیکن ہویہی رہا ہے، قصور جینیوں کا بھی ہے اور سرکار کا بھی ہے ۔ پہلے ’ پریوشن‘ پر ایک سے دو روز مارکیٹ بند رہتی تھی ، پھر بند کو چار روز میں تبدیل کردیا گیا ۔۔ لیکن اب جین یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ اسے آٹھ روز میں تبدیل کردیا جائے یعنی گوشت اور مچھلی کے بازار پورا ایک ہفتہ بند رکھے جائیں ! میرا بھائیندر میں تو پہلے ۱۸؍ دنوں تک مارکیٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، جسے بعد میں دس دن میں اور اب چار دن میں تبدیل کردیا گیا ۔۔۔
اب یہ سارا معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرچکا ہے ۔ بی جے پی پوری طرح سے جینیوں کے حق میں ہے ،اسی کی حکومت ہے ، اس لئے ہر فیصلہ جین دھرم کے ماننے والوں کی مرضی کے مطابق ہورہا ہے ۔ حالانکہ شیوسینا ،منسے اور کانگریس اوراین سی پی اس کی مخالفت کررہی ہیں۔۔۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ ’ معاملہ مذہبی جذبات‘ کا ہے پر سوال یہ ہے کہ جین دھرم کے ماننے والوں کے ہی مذہبی جذبات کا خیال کیوں رکھا جارہا ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ سرکار تو ہندو دھرم کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کا بھی خیال رکھ رہی ہے ، اس نے اسی لئے گائے کی پوری نسل کے ذبیحہ پر پابندی عائد کردی ہے لہٰذا اب ہم اس طرح دریافت کریں گے کہ اگر جین اور ہندو دھرم کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھا جارہا ہے جو کہ رکھا جانا چاہئیے کہ ہر سرکار کا یہ فرض ہے ، تو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا خیال کیوں نہیں رکھا جارہا ہے ؟ 
عیدالاضحیٰ قریب ہے ، قربانی صاحب ِ نصاب مسلمانوں پر فرض ہے ۔ گائے چونکہ ہندوؤں کے نزدیک مقد س ہے اس لئے مسلمان اس کی ویسے ہی قربانی نہیں کرتے ، مگر کیوں انہیں بیل اور بچھڑے کی قربانی سے روکا جارہا ہے ؟ اسے افسوس ناک ہی کہا جائے گا کہ ریاستی سرکار کی نظر میں جین اور ہندؤں کے مذہبی جذبات ، جذبات ہیں اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات ، جذبات نہیں ہیں۔۔۔ یہ سرکار جینیوں کو خوش کرنے کے لئے کئی روز تک گوشت مچھلی کا بازار بند کرکے اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کو جن میں ہندؤں کا کولی سماج بھی شامل ہے ، کمائی سے محروم رکھ سکتی ہے اور اعلیٰ ذات کے ہندؤں کو خوش کرنے کے لئے نچلی ذات کے ہندؤں کے بیل فروشی کے کاروبار کو متاثر کرسکتی ہے ، لیکن یہ سرکار مسلمانوں کو بیلوں اور بچھڑوں کی قربانی کی کسی صوت میں اجازت نہیں دے سکتی ۔ بھلے ہی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگے یا وہ قربانی ہی نہ کرپائے ۔ فڈنویس جی مذکورہ فلمی مکالمہ ایک سوال کے طور پر آپ ہی کے لئے ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker