Baseerat Online News Portal

مذہبی اداروں  سے وابستہ  علماء اور خدام فاقہ کشی کی راہ پر!

تحریر:سرفرازاحمد قاسمی (حیدرآباد )

برائے رابطہ :8099695186

کوروناوائرس اور لاک  ڈاؤن   نے  مختلف شعبہ حیات سے تعلق  رکھنے  والوں  کو   متاثر کیاہے اوراسکی وجہ سے جیسے زندگی تھم سی گئی ہے،سماج اور معاشرے میں کچھ ایسے لوگ  بھی ہیں  جوان چیزوں  سےشدید متاثر ہوئے  ہیں،غریب مزدور  کےعلاوہ کچھ اور لوگ  بھی اسی سماج کا حصہ ہیں جنکو ان دنوں  انتہائی  مشکلات  اور تکالیف کاسامناہے،وہ طبقہ   معاشرے کےخواص لوگوں  کاہے،لاک ڈاؤن  اوروائرس نے جس طرح لوگوں  کی زندگیاں   تبدیل کی ہیں    اسکااحساس توسبھی کو ہے،مگر کچھ لوگ  وہ  ہیں  جنھیں گذربسرکےلئے اب فاقہ کشی اور بھکمری کاسہارالیناپڑھ رہاہے،اوران دنوں  اس طبقے کی حالت انتہائی  افسوسناک  بنی ہوئی ہے،وہ لوگ  اس سےشدیدمتاثرہوئےہیں،  مذہبی اداروں   میں خدمت انجام دینے والا یہ طبقہ جنھیں” علمائے دین” اور “خدام دین “کہاجاتاہے ،دنیوی  ضروریات پوری کرنےکے لئےانکی تنخواہیں اتنی بھی نہیں ہوتی ،جوایک معمولی مزدور  کی ہوتی ہے،جس   سے ایک “دنیوی  مزدور “اپنی روزمرہ  کی ضرور ت  پوری کرتاہے،یوں سمجھئے کہ ایک مزدور  روزانہ  جتنا کماکراپنی زندگی گزارتاہے ،اتنا ان مذہبی اداروں  میں تعلیم دینے والے اور خدمت  کرنےوالوں کو “اجرت”یا”مشاہرہ”بھی نہیں ملتاجس سے یہ اپنی دنیوی  ضروریات  پوری کرسکیں،پھرسوال یہ ہےکہ ایسے میں اس طبقے کی زندگی بہتر کیسے ہوگی؟اورجب انکی ضروریات  پوری نہیں ہونگی تو پھر یہ لوگ  دین کی خدمت پورے انہماک  اوریکسوئی سے کیسے کریں گے؟کیایہ  بات ممکن ہے کہ  دینی اور مذہبی اداروں  میں  خدمت کرنےوالے انکے خدام  پریشان ہوں اور دین کی خدمت ہوتی رہے؟
یہ لوگ  مارے مارے پھریں  اور مدارس ومساجد کو باصلاحیت   اساتذہ اور ائمہ   ملتے رہیں؟ اس طبقے کی  جوحالت ان دنوں  بنی ہوئی ہے کیاسماج کے لوگوں  کواس پرتوجہ  دینے کی ضرورت  نہیں ہے؟کیا صاحب استطاعت  مسلمانوں  نے کبھی اس پہلو پرسنجیدگی سے غوروفکر کیا؟ کیا یہ طبقہ  قابل   رحم اور ہماری توجہ کامحتاج نہیں ہے،تقربیا 5 ماہ  سے انکی  معمولی  آمدنی کاسلسلہ بھی بالکل مسدود  ہے،لیکن خرچ تو رکنے والانہیں، پھریہ   طبقہ کیسے ان حالات  کاسامناکرےگا؟کبھی  ہم نےسوچا؟ملک بھر کے مختلف علاقوں  سے جوخبریں  انکے تعلق  سےموصول ہورہی ہے یہ بڑی تشویشناک  ہیں ،ایک بڑاطبقہ  بھکمری اور فاقہ کشی کاشکارہے،اور یہ فاقے مسلسل ہورہے ہیں،اسکی وجہ  یہ ہے کہ یہ لوگ  جن اداروں  میں  خدمت کرتے تھے ان میں  سے  بہت سےادارے ہیں  جنھوں  نے اپنا”تاناشاہی فرمان”جاری کردیاکہ جب تک   لاک ڈاؤن  ختم نہیں ہوتا تب تک کسی بھی  ملازم اور خدام کو تنخواہیں  نہیں ملیں گی،اور بعض اداروں  کے ظالم  وجابر ذمہ داروں  نے تو  ادارے کےتمام  اسٹاف  کی ملازمت تک ختم  کرنے کا”ظالمانہ فرمان “جاری کردیا،ایسے میں انکے ساتھ  جوحالات پیشں آرہے ہونگے  وہ یقیناً  ناقابل بیان  ہے،بعض  اداروں  نے نصف  تنخواہیں  دینے کااعلان کیاہے یہ تو پھر بھی غنیمت ہے،لیکن جن اداروں  نے انکی ملازمت ختم کردی یاانھیں تنخواہیں  دینے سے انکارکردیا کیا   اسطرح کا فیصلہ مناسب اور منصفانہ  ہے؟آج کے اس  مادیت پرستی کے دور میں  انسان  کا سب سے بڑا مسئلہ “معاشی مسئلہ “ہے اگر یہ حل  ہوجاتاہے تو پھر  دنیاکا سارامعاملہ حل ہے ،لیکن اگر یہ حل نہیں ہو پاتا تو پھر کوئی  بھی کام چاہے وہ دینی ہو یادنیوی  ہرگز حل نہیں ہوسکتا،”دینی خدام “اور “مذہبی  حضرات”آج کل جن حالات کا سامنا کررہےہیں  یہ بہرحال بڑی آزمائش  ہے،ایسے وقت میں  کامیابی  کےلئے ثابت قدمی ضروری ہے،قرآن  کریم میں کئی جگہ  اس مضمون  کو ذکرکیا گیاہے،اور یہ بتلایا گیاہے کہ مختلف طریقے سےہم تمہیں  آزمائش  میں ڈالیں گے اورتمہاراامتحان لیں گے،سورہ بقرہ  میں ایک جگہ ارشاد ہےکہ “اور البتہ  ہم آزمائیں  گے تمکو تھوڑے   سے ڈرسے،اور بھوک سے اورجان ومال  اور پھلوں  کے نقصانوں کے ذریعے،آپ ایسے صابرین  کو بشارت  سنادیجئے”ایک دوسری  جگہ میں ارشاد ربانی ہے”کیا لوگ  یہ سمجھتے ہیں کہ  وہ اتنا کہہ کر چھوٹ جائیں گے  کہ ہم ایمان  لائے اور انکو آزمایا نہیں جائےگا،اور ہم نے آزمایا ان  سے پہلے لوگوں  کوبھی،پس اللہ تعالیٰ  اسکے ذریعے جان لیگا سچے لوگوں  کو اورجھوٹے لوگوں کو کہ کون سچاہے اور کون جھوٹا ہے”(سورہ عنکبوت )صاحب معارف القرآن   اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں  کہ “اہل ایمان   خصوصاً  انبیاء  وصلحاء کو دنیامیں  مختلف قسم کی آزمائشوں  سے گزرنا  پڑتاہے،پھر انجام کار  فتح اور کامیابی  انکی ہوتی ہے،یہ آزمائشیں   مخالفین  کبھی کفار وفجار کی دشمنی  اورانکی طرف سے  ایذاؤں کے ذریعے  ہوتی ہیں،جیساکہ اکثر انبیاء   اورخاتم الانبیاء  ﷺ  کو اورآپؐ کے اصحاب کو پیش آیاہے،جسکے بےشمار واقعات  سیرت اور تاریخ کی کتابوں  میں مذکور  ہیں،اور کبھی یہ آزمائش  امراض  اور دوسری قسم کی تکلیفوں  کے ذریعے   ہوتی ہے،جیساکہ  حضرت  ایوبؑ کو پیش آیا،اور بعض کےلیے یہ سب قسمیں جمع بھی کردی جاتی  ہیں”(جلد6صفحہ 674)اسکے علاوہ   بھی اورکئی جگہ اس طرح کی آیت موجود  ہے ،جسکامطلب یہ ہےکہ اہل ایمان  کی قدم قدم پرآزمائشیں اورامتحانات  ہونگے،اسلئے یہ موقع بڑاصبرآزماہے،اور ایسے وقت میں ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے،اورگذشتہ پانچ  ماہ  سے مسلسل  ہم جن حالات کاسامناکررہے ہیں  یہ بہر حال اسی   امتحان   کاحصہ ہے اور ایسے وقت میں صبر کی بہت زیادہ ضرورت  ہوتی ہے،یہ وقت  ہمیں  یہ موقع بھی فراہم کرتاہےکہ   آدمی  دین کی خدمت  کےلئے  کمربستہ تو رہے لیکن “معاشی مسئلہ” کےلئے   کوئی دوسرا راستہ  اختیار کرکے اور اس پرغوروفکر کرے،اب سوال یہ ہے کہ دوسرا کونسا راستہ اختیار  کیاجائے؟کچھ لوگوں  کایہ بھی کہناہے کہ علماء  اور دینی خدام  تجارت  وغیرہ  کیوں  نہیں کرتے؟ مساجد اورمدارس سےآنے والی  معمولی  تنخواہوں  پرہی  کیوں  بھروسہ کرتے ہیں؟اور کیوں  اسطرح مدارس کے ذمہ داران  اور مساجد کمیٹیوں  کی غلامی کرتے ہیں؟بات مدارس  کی ہو یاپھر مساجد کمیٹیوں  کی  ،یہ ایک حقیقت  ہے کہ مساجد کے ذمہ داران  اور مدارس  کےمہتمم  جب  اساتذہ اور ائمہ کاتقرر کرتے ہیں تو گو یاوہ  اس امام اوراستاذ کوغلام سمجھتے ہیں،اور وہ  یہ سمجھتے ہیں کہ  ہم انھیں معمولی  تنخواہ  دیکر ان پراحسان کررہے ہیں،اسلئے ان پر  طرح طرح کی پابندی لگادی جاتی ہے،مثلا24  گھنٹے  مدارس  کے ہاسٹل یامساجد کے کمرے میں رہناہوگا کوئی دوسرا کام اور کوئی  دوسری  مصروفیت  آپ اختیار نہیں کرسکتے،وغیرہ  وغیرہ   اب ایسے میں  جب کہ 24گھنٹے انکو “بندھک”رکھ لیا جاتاہے  پھر یہ  لوگ دوسرا کام  کیسے کریں؟تجارت وغیرہ   کا خیال کیسے پیدا ہوگا؟ایسے موقع پر ہمیں اپنے اکابرین  کی سیرت کا مطالعہ  کرناہوگا،اور یہ دیکھنا ہوگا کہ  وہ  لوگ  بھی تو دین کی خدمت کرتے تھے  آخراسکا طریقہ کیا تھا؟مولانا اسلم شیخو پوری صاحبؒ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ “بعض علماء  کسب بالید اور محنت مزدوری  کو  باعث سمجھتے ہیں،اور عوام کاذہن بھی کچھ ایسا بن گیاہے کہ  انکےلئے یہ بات کسی عجوبے  سے کم نہیں کہ  عالم دین ہو اور محنت مزدوری   یاتجارت وغیرہ کرے،جبکہ علماء تو علماء ،انبیاء  کرام   ؑ نے مختلف پیشے اختیارکئے،اور اپنے دست وبازوسے اپنےلئے معاش کاانتظام کیا،حضرت  آدمؑ کھیتی باڑی کرتے تھے،اورکپڑے بننے کاکام بھی  آپ ہی سے شروع  ہوا،دراہم اوراشرفیاں بھی حضرت  آدمؑ نے بنائیں،حضرت  نوحؑ نجاری  یعنی بڑھئی  کاکام کرتے تھے،حضرت  ادریس ؑ  ٹیلر کا کام کرتے تھے،حضرت  ہودؑاور حضرت  صالحؑ  تاجر تھے،حضرت  ابراھیم  اور حضرت  لوط  علیہماالسلام   نے کھیتی باڑی کا پیشہ اختیارکیا،حضرت شعیب ؑ جانورپالتے تھے اورانکادودھ اور اون  وغیرہ  فروخت  کرتے تھے،حضرت  موسیٰ ؑ کا پیشہ گلہ بانی تھا،حضرت  داؤدؑ زرہ بناتے تھے،حضرت  سلیمان ؑ  عظیم سلطنت کے بادشاہ  ہونے کے باوجود   اپنی گزر  بسرکےلئےٹوکریاں اورزنبیلیں بناتےتھے،سرکاردوعالمﷺ نے اجرت لیکر بکریاں  بھی چرائیں اورتجارت بھی کی،انبیاء  کرام  نے جوان مختلف پیشوں  کواختیار کیاتو اصل میں اللہ تعالی نے خود انکو اسکی تلقین کی،اسلئے کہ انبیائے  کرام  کوئی  کام اللہ تعالی کے حکم  اوراجازت کے بغیر نہیں کرتے،اس میں ایک حکمت تو یہ نظر آتی ہے کہ  حلال روزی کاکمانا ہرعام اورخواص پرلازم ہے،دوسری یہ کہ امتیوں  کو ترغیب دینا ہےکہ  وہ بھی کوئی نہ کوئی پیشہ ضرور اختیارکریں،اورکسب معاش کی کوئی جائز صورت نکالیں،تیسری یہ کہ  کوئی  ان مقتداؤں کو یہ طعنہ  نہ دے کہ بھک منگے اوردوسروں  کے ٹکڑوں  پرنظر  رکھنے والے ہیں،چوتھی یہ کہ کوئی  اللہ کابندہ   کسی بھی جائز پیشے  والے کوحقارت سے نہ دیکھے،اور نہ ہی اسے کاشتکار ہونے،یانجاراورٹیلر ہونے،یاچرواہااورمزدور ہونےکاطعنہ دے،اسلئے کہ اس طعنے کااثر بالواسطہ   اللہ تعالی کے ان منتخب   اوربرگزیدہ بندوں  تک  بھی پہونچ سکتاہے،جنھوں نے ان پیشوں  کواختیار کرکے شرف فضیلت  بخشا،
اسکے علاوہ  علمائے  سلف کے حالات  کامطالعہ  کریں تو ثابت ہوتاہے کہ وہ کسی قسم کی  معاشی جدوجہد   کواپنےلئے باعث عار نہیں سمجھتے تھے،امام ابوحنیفہؒ ،حضرت  عبداللہ بن مبارکؒ اورامام داؤدبن ابی ہندؒ کپڑے کے تاجرتھے،امام بخاریؒ  کےاستاذ  حسن بن ربیع کوفیؒ بوریئے بیچتے تھے،انکالقب ہی بواری پڑگیا،امام ابن جوزیؒ تانبے کی تجارت کرتے تھے،حافظ الحدیث ابن رومیہؒ دوائیں  بیچتے تھے،ابولفضل دمشقیؒ نجار تھے،امام ابن خاضیہؒ،ابوسعیدنحویؒ اورابن طاہؒرکتابت کرتے تھے،فقہ حنفی کی مشہور  کتاب “مختصر القدوری  “کےمصنف کانام  قدوری اسلئے پڑگیاکہ  وہ ہنڈی بناتے تھے،عربی زبان میں ہنڈی کوقدرکہاجاتاہے،کسی صاحب علم کوکسب بالیدسے عار ہوبھی کیسے سکتی ہے؟جبکہ رزق حلال کمانے کےبےشمار فضائل  احادیث  میں وارد ہیں،اوردنیابھرکے دانشوروں  نے اسکی اہمیت اور عظمت  کوواضح کیاہے”(خزینہ ص85)
اس طویل اقتباس کو نقل کرنے کامقصد یہاں یہ ہے کہ ہمارے دورکے علماء  اور دینی خدام کو دینی  خدمت کے ساتھ کوئی اور حلال پیشہ بھی اختیار  کرناچاہئے جس سے زندگی کی ضروریات  پوری ہوسکیں اوررزق حلال نصیب ہوسکے،جس دن علماء  کرام اس  کو اختیار  کرلیں گے اس دن سے انشاءاللہ  مساجد کمیٹیوں  کی داداگری اورمدارس کےذمہ دارن کی  فرعونیت  ختم ہوجائےگی،پھروہ اساتذہ اورائمہ کرام کوغلام نہیں بناسکیں  گے،اور تنگی وپسماندگی  سے  زندگی کی رفتار بہت تیز ہوجائےگی،لہذا ضروری  ہےکہ حالات  کودرست کرنے ہم اس میدان  میں  پوری توانائی  کےساتھ داخل ہوں،مجدد تھانویؒ  ایک  جگہ فرماتے ہیں کہ “علوم  دینیہ کی تدریس  ذرائع  معاش میں داخل نہیں”(رزق حلال پردنیاو آخرت میں حیرت انگیز  واقعات )ایک دوسری جگہ حضرت تھانویؒ  فرماتے ہیں کہ  صنعت وحرفت  یعنی دستکاری  وپیشہ سے  معاش حاصل کرنے میں  بہت آسانی وسلامتی ہے،عربی تکمیل کرنے والوں  کےلئے  چند صورتیں   معاش کی مناسب ہیں،1اسکو ل میں نوکری کرلینا 2 مطب کرنا3مفیدرسالے یاحواشی  تصنیف کرکے یادرسی کتابیں چھپواکرانکی تجارت کرنا،4کاپی نویسی کرنا،5کسی مطبع میں تصحیح  کی نوکری کرنا،اوران تمام صورتوں  میں  فارغ اوقات میں  مطالعہ وتدریس کاشغل رکھنا،یاکسی اسلامی مدرسے میں مدرسی کرنا”(تجدیدتعلیم)
خلاصہ اس تحریر کایہ ہے کہ دینی اور مذہبی خدمات انجام دینے والے خدام کو ذمہ داران مساجد اورمدارس کی جانب سے فراخدلی کامظاہرہ کرناچاہیے،کم ازکم اتنی سیلری تو انھیں ملنی ہی چاہئے جس سے وہ اپنے اوراپنے اہل عیال کی ضروریات زندگی پوری کرسکیں،اسکی ایک صورت یہ بھی ہے چھوٹی موٹی تجارت میں انھیں لگادیں اور ضرورت کے سامان ان کے پاس سے ہی خریدیں،اسطرح انکی ضروریات بھی پوری ہونگی اور وہ اداروں کے ذمہ داران کےلئے “بوجھ” بھی نہیں ہوں گے۔اس طرح آپ کاتعاون بھی انھیں ملتارہےگا اورمساجد ومدارس کی ذمہ داریاں بھی پوری ہوتی رہیں گی،جن اداروں میں اچھی خاصی بجٹ ہے،اور گنجائش ہوتو اداروں کے ذمہ دارن اور مساجد کے کمیٹی کے لوگ اگر تعاون اورہیلف نہ کرسکیں تو پھر کم ازکم قرض حسنہ کے طورپر ہی کچھ رقم انھیں فراہم کریں تاکہ یہ لوگ فاقہ کشی اور بھکمری جیسی چیزوں سےمحفوظ رہیں،اوراسلامی تعلیمات کااہم جز”ہمدردی “و خیرخواہی ” پرعمل ہوتارہے،اگر باصلاحیت علماء نے مساجد ومدارس سے بالکلیہ رخ پھیرلیااور دنیوی معاملات میں دلچسپی شروع کردی تو مدارس اچھے اورباصلاحیت اساتذہ،ائمہ سے محروم ہوجائیں گےکیوںکہ مجبوری انسان سے بہت کچھ کروادیتی ہے،اسلئے علماء ودینی خدام کی خبرگیری وانکے حالات سے واقفیت رکھنی چاہئے ورنہ آنےدن ہمیں مشکلات کاسامناکرناپڑسکتاہے،ضرورت کے بقدردنیا کے حصول سے شریعت اسلامیہ بھی منع نہیں کرتی ہے،بلکہ اسکی ترغیب دیتی ہے کہ ضرورت کے بقدر دنیاکے حصول کویقینی بنایاجائےاورکسی کامحتاج نہ رہاجائے اپنے ہاتھ سے حلال کمانابھی ایک اہم فریضہ قراردیاہے،کئی سال قبل شہر حیدرآباد کےاطراف میں ایک دل دہلانےوالاواقعہ رونماہوا جسکوسنکربدن پرکپکپی طاری ہوجاتی ہے،وہاں نئی آبادی قائم ہوئی تھی ،جہاں کچھ گھر وہاں مسلمانوں کے تھے ،نماز وغیرہ کی ادائیگی کےلئےایک مسجدکسی نےتعمیرکرادی،اس مسجد کی صفائی ستھرائی اوراذان ونماز کےلئے ایک حافظ کی خدمت حاصل کی گئی،لیکن چونکہ وہاں مسلمان کی آبادی کم تھی اسلئے انکی قلیل تنخواہ متعین کی گئی،اوررہنےکےلئےایک کمرہ جومسجد سےمتصل تھاوہ انکو دیدیاگیا،کچھ ماہ گزرنے کے وہ پریشان رہنےلگے،نمازوغیرہ سے فارغ ہوکر وہ مسجد کےباہر آکر بیٹھ جاتے اور مغموم حالت میں کچھ گہری فکر میں ڈوب جاتے،کچھ دنوں تک توکسی کومعلوم نہ ہوا لیکن اسی مسجدکے سامنے ایک عیسائی پادری کاگھر تھا،جہاں حافظ صاحب آکرروزانہ بیٹھتے تھے وہ پادری انھیں دکھائی دیتاتھا،وہ سمجھ گیاکہ” حافظ صاحب”کچھ زیادہ ٹینشن میں ہیں،اور کچھ بڑی پریشانی انھیں لاحق ہے،چنانچہ وہ حافظ صاحب کےپاس آیا اور وجہ پوچھنےلگا،لیکن دوتین دنوں تک تو وہ پادری کےسوال کوٹالتے رہے،لیکن ایک دن اپنی پریشانی انکےسامنےظاہرکردی،کہ میرے گھر میں فلاں فلاں پریشانی ہے میرےپاس ایک پیسے تک نہیں ہیں،اور مسجدسےایک دومہینےسے سیلری بھی نہیں ملی،پادری نےان سےپوچھاآپ کی تنخواہ کتنی ہےانھوں نےکہاڈھائی ہزار،پادری تعجب کرنےلگا،کیااس معمولی رقم میں آپ کاگذربسر ہوجاتاہے؟پادری نےپوچھا،حافظ صاحب نے کوئی جواب نہ دیا،پادری نے پھران سےمخاطب ہوکرکہااگرہمارے یہاں آپ ہوتے توکم ازکم آپ کی سیلری پچیس ہزار ہوتی،یہ سنکر وہ افسوس کرنےلگے،رفتہ رفتہ اس پادری سے انکے تعلقات بڑھتے گئے اور بالآخر یہ افسوس ناک واقعہ یہ پیش آیاکہ حافظ صاحب نعوذباللہ مرتد ہوگئے،ہم لوگوں کوجب اس افسوسناک سانحے کی خبرملی اورہم لوگ علماء کےایک وفدکےساتھ وہاں پہونچے تو وہ اس جگہ سے غائب ہوچکےتھے،کافی جدوجہدکےبعد بھی انکاکوئی سراغ نہ مل سکا،اس واقعہ پرغورکیجئے اور سوچئے کہ آخرانھوں نےاتنابڑاقدم کیوں اٹھایا؟کس چیزنےانھیں اسکےلئےمجبورکیا؟اورکون ہےاسکاذمہ دار؟کتنی افسوسناک بات ہےاللہ تعالی ہم سبکے ایمان کی حفاظت فرمائے ،ذراآپ بھی سوچئےکہ مجبوری اور تنگ دستی انسان کوکہاں تک لےجاتی ہے؟عیسائی لوگ آج بھی اپنےمذہب کی خدمت اورنشرواشاعت پراپنی کمائی کا80 فیصد خرچ کرتے ہیں،یہی وجہ ہےکہ انکے یہاں فنڈ ہوتاہےاور جگہ جگہ انکی عبادت گاہیں بھی،اسکے علاوہ وہ اپنے مذہبی لوگوں کولاکھوں روپےسیلری بھی دیتے ہیں،کیاہم بھی ایساکرتے ہیں؟انکاایک امتیاز یہ بھی ہے کہ یہ لوگ پورے دنیامیں اسوقت خدمت خلق کواپنامشن بنائےہوئے ہیں،یہ چند گزارشات عرض کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ ہم سبکو صحیح سمجھ کی توفیق عطافرمائے ۔ہوناتویہ چاہئےتھاکہ ہمارے مذہبی خدام معاشی مسلئے سےبےفکر ہوکردین ومذہب کی اشاعت کافریضہ یکسوئی کےساتھ انجام دیتے کاش۔۔
شاید کہ اترجائے ترے دل میں میری بات

(مضمون نگار،کل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک حیدرآباد کے جنرل سکریٹری ہیں)
[email protected]

You might also like