Baseerat Online News Portal

جموں وکشمیر کی سرکاری زبان اردو سے ہندی کرنے کولے کرہائی کورٹ میں مفادعامہ کا مقدمہ دائر ، عدالت نے حکومت سے 4 ہفتوں میں مانگاجواب

جموں،14جولائی(بی این ایس )
جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں ریاست کی سرکاری زبان کو اردو سے ہندی کرنے کیلئے ایک مفادعامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس پٹیشن پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے اب حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔جموں و کشمیر کومرکزی علاقہ بنے اب تقریبا 1 سال ہونے جا رہا ہے اور اس ایک سال کے دوران ریاست میں بہت سارے قوانین اور انتظامات بدل چکے ہیں۔ اس کے تحت جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائرکرکے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاست کی سرکاری زبان کو اردو سے ہندی میں تبدیل کیا جائے۔درخواست گزار کے وکیلوں کے مطابق تنظیم نو ایکٹ کی دفعہ 47 میں کہا گیا تھا کہ اب ریاست میں انگریزی، ہندی یا کسی دوسری مقامی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ وکلاء کے مطابق حکومت گذشتہ ایک سال سے اس بارے میں خاموش ہے اور اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیلوں کا دعویٰ ہے کہ اسی سے ہارکراب انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔ درخواست گزار کے وکیل آدتیہ شرما کے مطابق ہندی کو آئین ہند کے آرٹیکل 343 کے تحت ہندوستان کی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے۔ان کے مطابق ریاست میں تنظیم نو ایکٹ کے نفاذ کے بعد ہندی کو ایک جھنڈے کی طرح ریاست کی سرکاری زبان کا درجہ دینا چاہئے۔ آدتیہ کے مطابق اب جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے حکومت سے 4 ہفتوں میں جواب مانگاہے۔

You might also like