Baseerat Online News Portal

مجرموں کے پولس انکاؤنٹر سے ہمارے عدالتی نظام کو زبردست دھچکا لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔، وکاس دوبے کے انکاونٹر پر سرحدی علاقے کی عوام کا واضح ردعمل

رکسول ۔14/ جولائی ( محمد سیف اللہ )

کانپور پولس ٹیم پر حملہ کرکے کئی پولس اہلکاروں کو شہید کردینے والا خطرناک دہشت گرد وکاس دوبے اگر چہ ڈرامائی انداز میں اپنے انجام کو پہنچا دیا گیا اور یوپی پولس اس کے انکاونٹر کو اپنی بڑی کامیابی کا نام دے کر ایک دوسرے کا پیٹھ تھپتھپانے میں جٹی ہوئی ہے مگر اس بڑے معاملے کے بعد جس طرح پورا ملک اور یہاں کا قانون محکمہ سکتے میں ہے اور عوامی سطح پر اس معاملے میں جس انداز سے بحث وتبصرے اور سوالوں کا سلسلہ شروع ہے اس نے نہ صرف ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے بلکہ اس واقعے نے اپنے پیچھے اتنے سارے سوال چھوڑ دیئے ہیں کہ ان کا جواب آئے بنا نہ تو ہم کسی اطمینان بخش نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ ایک سو تیس کڑور ہندوستانی عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے عدالتی نظام سے یوپی پولس کا اعتماد اتنا کمزور ہوچکا تھا کہ اسے وکاس دوبے کو قانون کے حوالے کرنے کی بجائے ہمیشہ کے لئے خاموشی کی نیند سلا دینا اسے زیادہ سکون کا باعث لگا اور کیا اس انکاونٹر سے ان شہید پولس اہل کاروں کو انصاف مل پائے گا جن کو وکاس دوبے کی موجودگی میں جرائم پیشہ لوگوں کی ٹیم نے گولیوں سے چھلنی کردیا تھا،یا پھر وکاس دوبے کے خونی کھیل کی ساری کہانیاں انکاونٹر کے ساتھ اس لئے جلد بازی میں دفن کر دی گئیں کہ اگر کانپور پہنچ کر عدالتی کارروائی کے بعد اس کی زبان کھلتی تو ایسے کئی سفید پوش اپنے گھناونے کردار کے ساتھ سامنے آجاتے جن کی سرپرستی ونگرانی نے کمزور گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک بے نام شخص کو جرم کی دنیا کا ایسا جانا پہچانا نام بنادیا کہ درجنوں مقدمات کے باوجود وہ اپنے سیاسی اثر ورسوخ اور دولت کی بنیاد پر آزاد گھوم کر جرائم کی نئی نئی داستانیں لکھتا رہا،چنانچہ آج جب اس نمائندہ نے ان ہی سب سوالوں کو لے کر ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول اور اس سے متصل علاقوں کے مختلف سیاسی وسماجی نمائندوں سے بات کی اور ان کا اس بارے میں رد عمل جاننا چاہا تو جہاں ایک طرف لوگوں میں اس بات کو لے کر اطمینان تھا کہ آٹھ پولس اہلکاروں کے خونی قاتل کا کھیل ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا وہیں ان کو یہ سوال بھی پریشان کرتا نظر آیا کہ کیا اتنے بڑے مجرم کے جرم کی سزا کے لئے پولس نے انکاونٹر کا جو راستہ اپنایا وہ درست تھا؟ کیا انہیں زندہ رکھ کر ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاسکتی تھی تاکہ اس کے گناہ میں شریک لوگوں کے چہرے بھی سامنے آسکیں اور وہ سچ چھپایا جاتا رہا ہے،لوگوں کا ماننا تھا کہ ہم ہندوستان کے جس جمہوری دستور کے سائے میں اپنی زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں وہاں کا قانون ہمیں اس طرح کے اقدام کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اس سے بھلے ہی ظاہری طور پر ایک مجرم مار دیا جاتا ہے مگر اس سے جرم کے باب کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے برخلاف اندر ہی اندر اس کی جڑیں اور ہی زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں،لوگوں نے کہا کہ جس ڈرامائی انداز میں اتنے بڑے مجرم کا انکاونٹر کیا گیا اس سے ہمارے قانونی اداروں کے کردار پر کاری ضرب لگی ہے اور میں سمجھتا ہوں کی اگر اسی طرح بدلہ لینے کے نظریئے سے انکاونٹر کی روایت پروان چڑھتی رہی تو ملک بد امنی کی راہ پر چل کر اپنی منفرد شناخت سے ہاتھ دھو بیٹھے گا،انہوں نے کہا کہ ہم پولس کی اس کارروائی کا کیا مطلب نکالیں سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ جینے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے اور ہمارا جمہوری آئین بڑے سے بڑے مجرم کو بھی قانونی مدد لینے کا جواز فراہم کرتا ہے جسے ہم اپنے آئین کی سب سے بڑی خصوصیت کا نام دے سکتے ہیں ایسی صورت حال میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی بھی مجرم کی سزا کے لئے انکاونٹر کا راستہ ایک طرح سے غیر مناسب لگتا ہے اس لئے ایسے اقدامات پر نہ صرف روک لگنی چاہئے بلکہ ایسے کاموں کا حصہ بننے والے افسران سے جواب بھی طلب کیا جانا چاہئے تاکہ قانون کی بالا دستی قائم رہ سکے اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم کچھ پاکر بھی بہت کچھ کھو دیں گے۔

You might also like