Baseerat Online News Portal

صدی کے اختتام تک دنیاکی آبادی 2؍ارب کم ہوجائے گی،عالمی آبادی سے متعلق نئی تحقیق میں انکشاف

آن لائن نیوزڈیسک
ایک نئی تحقیق کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک دنیا کی آبادی میں تقریباً دو ارب تک کی کمی ہوسکتی ہے اور ایسا ہونے پر عالمی سطح پر سیاسی طاقتوں کا نقشہ بھی بدل جائیگا۔
اس وقت دنیا میں تقریباً سات ارب 80 کروڑ انسانوں کی آبادی ہے اور امکان ہے 2046 تک یہ آبادی نو ارب 70 کروڑ تک پہنچ جائیگی۔ لیکن اس صدی کے اختتام اس میں کمی ہوگی اور یہ تقریبا آٹھ ارب 80 کروڑ تک ہی رہ جائیگی۔ آبادی میں یہ کمی اقوام متحدہ کی پیش گوئی سے بھی تقریبا ًدو ارب کم ہے۔
آبادی سے متعلق یہ نئی تحقیق بدھ 15 جولائی کو برطانوی میڈیکل جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہوئی ہیں۔
نئی تحقیق کے مطابق سن 2100 تک دنیا کے 195 ممالک میں سے 183 ممالک میں، اگر تارکین وطن کی آمد کو چھوڑ دیا جائے، تو ان کی آبادی کی سطح کو برقرار رکھنے کے جو شرح درکار ہے وہ کافی کم ہوجائیگی۔ اس کے مطابق 23 ممالک کی آبادی ان کی موجودہ شرح سے نصف ہوجائیگی جبکہ 34 ممالک کو 25 سے 50 فیصد تک آبادی کی شرح میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ برس پیش گوئی کی تھی کہ سن 2100 تک دنیا کی آبادی دس ارب نوے کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں انسانوں کی فرٹیلیٹی یعنی تولیدی زرخیزی کی شرح میں کمی آرہی ہے اور ان کی آبادی کا بیشتر حصہ عمر دراز ہوجائے گا۔
دی لانسیٹ کا کہنا ہے کہ اقوام متحد نے آبادی سے متعلق اپنے ریسرچ ماڈل میں، ‘’’پالیسیز یا فرٹیلیٹی اور اموات کے دیگر عوامل سے منسلک متبادل منظرناموں کو شامل نہیں کیا۔‘‘ محققین کا کہنا ہے کہ ایک بار آبادی میں کمی کا سلسلہ شروع ہوگیاتو اس کو روک پانا بہت مشکل ہوگا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن سے وابستہ عالمی ماہرین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ تولیدی صلاحیت کی شرح میں کمی اور عمر دراز آبادی کے نتیجے میں دنیا اس بات کی توقع کر سکتی ہے کہ اس سے عالمی سطح پر سیاسی طاقت کا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔
سنہ 2100 تک جاپان، اٹلی، تھائی لینڈ، پرتگال جنوبی کوریا اور پولینڈ جیسے 20 سے زائد ممالک توقع کرسکتے ہیں کہ ان کی آبادی میں کمی آئے گی اور وہ کم ہو کر نصف ہوسکتی ہے۔ چین کی آبادی اس وقت ایک ارب چالیس کروڑ ہے جو آئندہ 80 برس میں گھٹ کر 70 کروڑ تک رہ جائے گی۔ لیکن اس کے برعکس سب سہارا کے افریقی ممالک میں تقریبا ًتین ارب کا اضافہ ہوگا، جس میں نائجیریا کی آبادی تقریباً 80 کروڑ تک پہنچ جائے گی اور شاید وہ آبادی کے لحاظ سے بھارت (سوا ارب) کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہوگا۔
اس تحقیق سے وابستہ واشنگٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرسٹوفر مری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش گوئی ماحولیات کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ان کا کہنا تھا، ‘’’غذائی اشیاء کی پیداوار کا دباؤ کم ہوگا جس سے کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی اور ساتھ ہی سب سہارا کے افریقی ممالک کی معیشت کے لیے بھی ایک بہتر موقع ہوگا۔‘‘
ان کا کہنا تھا، ‘’’لیکن افریقی ممالک کے علاوہ بیشتر ملکوں میں افرادی قوت (ورک فورس) میں کمی آئے گی اور آبادی میں کمی کا الٹا اثر یہ ہوگا کہ اس سے معیشت پر زبردست منفی اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘ اس تحقیق میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ امیر اور بہتر معیشت والے ممالک میں آبادی کے تناسب برقرار رکھنے کے لیے امیگریشن سے متعلق نرم قوانین اور جو خاندان بچے پیدا کرنے چاہتے ہیں ان کے لیے سوشل سپورٹ کا نظام کارآمد ہوسکتا ہے۔
مری کا کہنا تھا، ‘’’کم ہوتی آبادی کے تناظر میں تاہم، ایک بہت ہی حقیقی خطرہ اس بات کا ہے کہ کچھ ممالک ایسی پالیسیوں پر غور کر سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی کو اس حد تک محدود کردیں کہ جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔‘‘

You might also like