Baseerat Online News Portal

کوروناوائرس: مشرق وسطی میں لیبر مارکیٹ شدید متاثر

آ ن لائن نیوزڈیسک
کورونا وائرس کی وبا نے مشرق وسطی میں لیبر مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کے پاس اپنا سامان باندھ کر روانہ ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔
گلف ٹیلنٹ کے تجزیہ کار نے عرب نیوز کو بتایا کہ 2019 سے ملازمت سے متعلق سرگرمی میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
’کویت میں معیشت کی تنزلی کے باعث حکومت کی طر ف سے کمپنیوں کو افرادی قوت میں کمی پر مجبور کیے جانے سے توقع ہے کہ 15 لاکھ غیر ملکی کارکنان 2020 کے آخر تک ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔‘
کویتی اسمبلی کے سپیکر مرزوق الغانم نے کہا کہ ’ ایسے تارکین جو ناخواندہ یا صرف پڑھ اور لکھ سکتے ہیں ملک کی ترجیح نہیں تھے۔‘
جدوی انویسٹمنٹ کمپنی کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ’ سعودی عرب میں اس سال 12 لاکھ غیر ملکی کارکنان کے مملکت چھوڑنے کی توقع کی جارہی ہے۔‘
مصر ٹوڈے نے چیمبر آف کامرس میں تارکین سے متعلق ایمپلائمنٹ یونٹ کے سربراہ حمدی امام کے حوالے سے بتایا کہ ’مصر میں ایک اندازے کے مطابق عرب ممالک میں کام کرنے والے 50 لاکھ مصریوں میں سے دس لاکھ خصوصی خلیجی ملکوں سے 2020 کے آخر تک نکال دیے جائتیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے جہاں 30 لاکھ مصری کام کر رہے ہیں متعدد میگا پراجیکٹس معطل کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کویت میں بہت سے مصریوں کے پاس ملازمت کے معاہدے نہیں ہوتے کیونکہ وہ بے قاعدہ کارکن ہیں اورایکسپائر رہائشی پرمٹ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔
گلف ٹیلنٹ تجزیہ کار کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ تنخواہوں میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے درخواست دہندگان کورونا کی وبا سے پہلے سے کہیں کم تنخواہوں کی توقع کر رہے ہیں۔ فروری 2020 میں ملازمت کے متلاشی افراد توقع رکھتے تھے کہ اگلی ملازمت میں اپنی سابقہ ​​جاب سے اوسطا 14 فیصد زیادہ تنخواہ ملے گی لیکن آج کی مارکیٹ میں متوقع اوسط تنخواہ محض 2 فیصد زیادہ ہے۔‘
گلف ٹیلنٹ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون میں متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے مواقع قدرے بڑھے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مارچ میں سکولوں کے بند ہونے سے پہلے کی سطح سے کم ہیں۔
ٹائمز آف عمان کے مطابق فروری کے بعد سے سلطنت کے نیشنلائزیشن منصوبے کے تحت عمانی باشندوں کو تیکنیکی عہدوں پر رکھنے کی تجویز کے باعث شعبہ صحت کے اداروں میں کام کرنے والےغیر ملکیوں کی ملازمتیں خطرے میں ہیں۔
لیکن متحدہ عرب امارات میں میڈیکل پروفیشنلز کی طلب میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ سے پہلے کے مقابلے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ درخواست دہندگان کو فروری کے مقابلے میں اپریل میں اٹھارہ فیصد زیادہ انٹرویوز کی کالز موصول ہوئی ہیں۔
گلف ٹیلنٹ کے تجزیہ کارسے جب 2020 کے آخر تک لیبر مارکیٹ کے بارے میں رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’کورونا کی وبا اور تیل کی کم قیمتوں دونوں کی موجودگی کے باعث خطے کے بیشتر ممالک میں کساد بازاری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ملازمتوں میں مزید کمی جاری رہےگی۔‘

You might also like