Baseerat Online News Portal

جرمنی: دوتہائی سرمایہ پردس فیصدانتہائی امیرلوگوں کاقبضہ

جرمن ادارہ برائے اقتصادی تحقیق کے ایک تازہ مطالعاتی جائزے کے نتائج کے مطابق ملک میں مجموعی دولت یا اثاثوں کی شکل میں سرمائے کا دو تہائی حصہ صرف 10 فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس ہے۔

آن لائن نیوزڈیسک
ایک نئی تحقیق کے مطابق جرمنی میں دولت کی غیر مساوی تقسیم کی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ انتہائی امیر باشندے مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں اور ملک میں دو تہائی سرمایہ صرف دس فیصد افراد کے ہاتھ میں ہے۔
جرمنی کے معروف اقتصادی تحقیقی ادارے ڈی آئی ڈبلیو (DIW) کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی (83 ملین) والے ملک میں امراء کا ملکی سرمائے میں حصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جرمن ادارہ برائے اقتصادی تحقیق کے ایک تازہ مطالعاتی جائزے کے نتائج کے مطابق ملک میں مجموعی دولت یا اثاثوں کی شکل میں سرمائے کا دو تہائی حصہ صرف 10 فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس ہے۔
آج ایسے بہت امیر جرمن باشندے ملک میں مجموعی دولت کے تقریبا 67 فیصد حصے کے مالک ہیں۔ قبل ازیں ان کے پاس موجود دولت کی شرح کا اندازہ 59 فیصد لگایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان جرمن امراء میں سے بھی سب سے زیادہ امیر افراد، جن کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی کے صرف ایک فیصد کے برابر ہے، 35 فیصد سرمائے کے مالک ہیں۔ ڈی آئی ڈبلیو کے تخمینوں کے مطابق اس سے پہلے یہ ایک فیصد امیر ترین افراد مجموعی ملکی دولت کے 22 فیصد کے مالک تھے۔

ڈیڑھ فیصد بالغ افراد کم از کم ایک ملین یورو کے مالک
اس جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ جرمنی میں بالغ شہریوں کی کل تعداد میں سے ڈیڑھ فیصد ایسے افراد ہیں، جو کم از کم بھی ایک ملین یورو (1.1 ملین امریکی ڈالر کے برابر) دولت یا اثاثوں کے مالک ہیں۔ غیر منقولہ املاک کی صورت میں ایسے اکثر اثاثے وہ ہوتے ہیں، جو ان کے مالکان کے اپنے استعمال میں نہیں ہوتے۔
اس مطالعاتی جائزے کے لیے 17 سال سے زائد عمر کے ایسے افراد کی آمدنی، کاروبار، مالی اثاثوں، حصص اور لائف انشورنس وغیرہ سے متعلق معلومات جمع کی گئیں، جن کے وہ ذاتی طور پر مالک ہیں۔

زیادہ تر امیر مرد اور بہتر تعلیم یافتہ
اس مطالعاتی جائزے کے نتائج پر مشتمل رپورٹ کے شریک مصنف اور ڈی آئی ڈبلیو کے ماہر اقتصادیات مارکوس گرابکا نے بتایا کہ اس مطالعے سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ جرمنی کے انتہائی امیر شہری زیادہ تر مرد، بہتر تعلیم یافتہ، خود پر انحصار کرنے والے اور مقابلتاﹰ زیادہ عمر کے ایسے افراد ہوتے ہیں، جو اپنی زندگیوں سے مطمئن بھی ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان آٹھ ملین سے زائد بہت امیر شہریوں نے اپنا سرمایہ کئی طرح کے ایسے پیداواری یا کاروباری منصوبوں میں لگا رکھا ہے، جن سے نہ صرف باقی ماندہ کم امیر لوگوں اور روزگار کی منڈی بلکہ ملکی معیشت کو بھی عمومی طور پر بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

You might also like