Baseerat Online News Portal

سیاہ فام امریکیوں کی ہلاکت پربولے صدرٹرمپ،سفیدفام بھی تومرتے ہیں

صدر ٹرمپ نے کہا، ’’کتنا خوف ناک سوال ہے۔ سیفد فام شہری بھی تو مارے جاتے ہیں، بلکہ زیادہ تعداد میں۔‘‘

آن لائن نیوزڈیسک
امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا، ’’کتنا خوف ناک سوال ہے۔ سیفد فام شہری بھی تو مارے جاتے ہیں، بلکہ زیادہ تعداد میں۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ انٹرویو سی بی ایس نیوز کو دے رہے تھے، جو منگل چودہ جولائی کی رات نشر کیا گیا۔ اس انٹرویو کے دوران ایک سوال میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ امریکا میں آج بھی افریقی نژاد شہری پولیس کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں؟
اس پر صدر ٹرمپ نے فوری طور پر کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں تو سفید فام امریکی شہری بھی مارے جاتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے تو اس سوال پر ہی تنقید کی اور کہا، ”کیا خوف ناک سوال ہے!‘‘ اس کے بعد انہوں نے کہا، ”سفید فام بھی تو مارے جاتے ہیں۔ بلکہ زیادہ۔ سفید فام زیادہ بڑی تعداد میں۔‘‘
اس موضوع پر خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ امریکا میں سفید فام شہری بھی پولیس کے ہاتھوں مارے تو جاتے ہیں، لیکن سیاہ فام امریکیوں میں ایسی ہلاکتوں کی تعداد ملکی آبادی میں ان کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔

آبادی میں تناسب اور ہلاکتوں کی شرح
امریکا میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے شہریوں کی اموات سے متعلق ملکی سطح پر کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ایک شماریاتی تجزیے کے مطابق یہ درست ہے کہ پولیس کے ہاتھوں مرنے والے شہریوں میں ‘بلیک کے مقابلے میں وائٹ‘ ہلاکتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔
امریکا کی مجموعی آبادی میں سفید فام شہریوں کا تناسب 60 فیصد ہے جبکہ سیاہ فام یا افریقی نژاد باشندوں کا تناسب صرف 13 فیصد بنتا ہے۔
اس کے برعکس 2015ء سے لے کر آج تک پولیس کے ہاتھوں مجموعی طور پر جو 5400 امریکی شہری مارے گئے، ان میں سے 45 فیصد سفید فام اور 23 فیصد سیاہ فام تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاہ فام امریکیوں میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کی شرح فیصد سفید فام شہریوں کی ہلاکتوں کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔

سیاہ فام امریکیوں میں ایسی اموات کا امکان تین گنا زیادہ
ہارورڈ یونیورسٹی کی طرف سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے ایک مطالعاتی جائزے کے نتائج کے مطابق امریکا میں سیاہ فام شہریوں کے پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کا امکان سفید فام شہریو‌ں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جس پر امریکا سمیت کئی ممالک میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکتوں اور غیر اعلانیہ نسل پرستی کے خلاف ‘بلیک لائیوز مَیٹر‘ نامی تحریک کے دوران آواز اٹھائی گئی تھی۔
ان وسیع تر احتجاجی مظاہروں کی وجہ چند ہفتے قبل مینیسوٹا میں جارج فلوئڈ نامی ایک ایسے سیاہ فام شہری کی ہلاکت بنی تھی، جس کا سبب پولیس اہلکار ہی بنے تھے۔ جارج فلوئڈ غیر مسلح تھا اور وہ پولیس اہلکاروں سے بار بار یہ کہتے ہوئے منتیں کرتا رہا تھا، ”میں سانس نہیں لے پا رہا۔‘‘
Black Lives Matter نامی اس احتجاجی تحریک کے دوران صدر ٹرمپ پر یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے منظم نسل پرستی اور پولیس کی بربریت کے خلاف کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا تھا۔

You might also like