جہان بصیرتفکرامروز

بہاراسمبلی الیکشن مودی بنام عظیم اتحاد

مظفر احسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت میڈیا گروپ
تیز سیاسی دھوپ میں تپتا ہندوستان اب ایک ایسے سیکولر سایہ کی تلاش میں ہے ,جہاں وہ تھوڑی دیر کے لئے سستا سکے ,باد سموم کے صر صر جھونکوں نے اس کی کونپلوں کو جھلسا کر رکھ دیا ہے ,چونکہ اس ملک کے ایک سو بیس کڑور سروں کے خواب فروش وزیر اعظم آر ,ایس,ایس,کی چوکھٹ پر اپنی جبیں رگڑ کر اس بات کا ثبوت دینا چاہتا ہے کہ وزیر اعظم بننے کے باوجودمودی اس کا ادنی غلام ہے ,نگاہ ابرو کا محتاج ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنے کو تیار ہے ,سب کا ساتھ سب کا وکاس “کا نعرہ دینے والا وزیر اعظم 56/انچ کا سینہ لئے آر ,ایس ,ایس کے سامنے بھیگی بلی بنا ہوا ہے,ملک ملک گھوم کر اس کا خزانہ خالی کرنے پر تلا ہے ,معیشت تباہی کے دہانے پر سر پٹکتی نظر آتی ہے ,ہوشربا گرانی نے غریب ہندوستا نیوں کے ہوش اڑادیئے ہیں,آج ایک شخص اشیائ￿ خوردنی کی دوکانوں پر جھولا بھر کر پیسہ لے جاتا ہے ,اور واپس ہوتے ہوئے مٹھی میں سامان لاتا ہے ,مسئلہ صرف پیاز کا نہیں ہے ,بلکہ ہروہ چیز جو جاندار کھاتا ہے ,اس کی قیمتیں آسمان چھوتی نظر آتی ہے ,ساہو کاروں کی جیجے کار ہے ,اور کسانوں کے گلے پر ہر دن پھانسی کا پھندہ نظر آتا ہے ,شاید ایسے ہندوستان کا خواب ہمارے پرکھوں نے نہیں دیکھے ہونگے ,کہ دن کے اجالے میں بتی جلے گی ,اور اندھیری رات روشنی کے لئے سسکتی ہوگی ,بھوکے فٹپاتھ پر پیٹ رگڑینگے اور امرا کے کتے کیک چاٹیں گے, ننگا کپڑے کو ترسیں گے اور لباس والا ننگا ناچے گا۔ اس وقت ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہندو انتہا پسند متعصب اور متشدد افراد کا ٹولہ سارے ملک میں سرگرم ہے اور ترشول بانٹتا ہے ,یہ وہ فریب خوردہ لوگ ہیں ,جو عوام کی خدمت کے بجائے مسائل پیدا کرتے ہیں اور اس میں اپنی توانائیاں صرف کرنے کو عیب جاننے کے بجائے ہنرسمجھتے ہیں,دراصل یہ ذہنی مریض ہیں ,اس لئَے یہ کسی کے لئے اچھا نہیں سوچ سکتے ,یہ لوگوں کے درمیان نفرت اور عداوت پھیلانے کے لئے جیتے اور مرتے ہیں,اگر شرپسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے انہیں کوئی نیا ایشو نہ ملتا ہوتو یہ پرانا اور فرسودہ عنوان اٹھا لیتے ہیں,اس کے پیش نظر خیر نہیں بلکہ شر ہوتا ہے خواہ کسی بھی حوالہ سے ہو , جب ملک میں ساکشی مہاراج ,یوگی آدتیہ ناتھ ,امت شاہ جیسی فکروں کو پروان چڑھنے کا موقعہ میسر آئیگا تو یہ ملک سلامتی کے بجائے نفرت کی آگ بھڑ کائے گا ,سلامتی کی بھیک مانگنے والوں کو پھانسی کی سزا سنائی جائیگی ,بے گناہی کی فریاد لے کر آنے والوں پر گناہ ثابت کیا جائیگا,شانتی اور امن کے بجائے نفرت اور ہنسا جنم لیگی ,آگ میں پانی ڈالنے کے بجائے پٹرول چھڑکے جائنگے ,بہنوں کی عصمتوں کی حفاظت کے بجائے ناموس کو تار تار کیا جائیگا ,نوجوانوں کو نوکری کے بجائے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے گا ,دہقاں کے خوشہ گندم کو غریبوں تک پہونچانے کے بجائے اسٹورروم میں سڑنے کے لئے چھوڑ دیا جائیگا ,جب ملک کے حالات ان شاہراہوں سے گذرے گی تو .لک ترقی کے بجائے تنزلی کی کھائی میں جا گرے گی جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگا ,بد مست ہاتھی کی طرح دھاڑنے والا گفتار کا غازی وزیر اعظم ملکی حالات سے بے خبر سنگھ کے تلووں کو چاٹنے میں لگا۔
ملک کے موجودہ پس منظر میں سیکولر ذہنیت کو سنجید گی سے سوچنا ہوگا اور بلا تفریق مذہب وملت قومی یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے ملک کی سالمیت اور اس کی حفاظت کے لئے فکر کرنی ہوگی ,پوری دنیا میں اس ملک کی شناخت جمہوریت اور سیکولرزم کی بنیاد پر ہے ,جہاں ایک طرف مندروں میں گھنٹی بجتی ہے تو دوسری طرف مسجدوں کے میناروں سے آذان کی آوازیں گونجتی ہے ,مندروں سے رامائن اور مسجدوں سے قرآن مقدس کے پڑھنے کی آوازیں آتی ہیں , گرجا گھروں اور گردواروں آنے والی آواز پر کوئی پابندی نہیں ہے , مسلمانوں کے جنازے میں جہاں برادران وطن شریک ہوتے ہیں ,وہیں مسلمان ارتھی کو ہاتھ لگا کر مرگھٹ تک پہونچاتے ہیں ,گنگا جمنی اس تہذیب کی بقا کے لئے تمام سیکولر ذہنیت کو ساتھ مل بیٹھ کر فکر کرنی ہوگی ۔ بہار میں ہونے والا اسمبلی الکشن جس کی تاریخ کا اعلان ہوگیا ہے ,سیکولرزم اور فسطائی طاقتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے ,ایک وہ سیاسی طاقت ہے جو ملک کو دنیاں میں رسوا کرنا چاہتی ہے ,جبکہ دوسری سیاسی جماعت قومی یکجہتی کو فروغ دے کر ہندو مسلم تہذیب کی بقا کے ساتھ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بقا کے لئیبرسر پیکار ہے اور اس کی شناخت کو باقی رکھنا چاہتی ہے ,لیکن دوسری طرف یہ فکر بھی ستاتی نظر آتی ہے کہ وہ لوگ جو کل تک سیکولرزم کی دہائی دیتے نہیں تھکتے تھے ,آج وہ اپنی تھوڑی سے مفاد اور اپنی انا کو تسکین دینے کے لئے بلا واسطہ ایسی طاقتوں کو استحکام بخشنا چاہتے ہیں جو ملک کو د حصوں میں تقسیم کے خواہاں ہیں ,جسے آگ لگا کر خوشی ہوتی ہے ,جو جلتی راکھوں سے اٹھتے دھواں کو دیکھ کر خوش ہوتا ,ٹوٹتی چوریاں اسے تسکین پہونچاتی ہے ,بہتے لہو سے وہ اشنان کا خواہشمند ہے ,سروں کا تاج محل بناکر داد عیش دینا چاہتا ہے , ایسے لوگوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔اس پس منظر میں ملک کی سلامتی اس راز پر مضمر ہے کہ سیکولر طاقتیں پوری توانائی کے ساتھ فسطائی طاقتوں کو کھدیڑ کر بہار سے باہر کریں ,اس موقعہ پر خاص طور سے مسلمانوں کی ذمہ داری کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے اس لئے مسلمانوں کو سنجیدہ فکر کے ساتھ اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے عظیم اتحاد کو کامیاب بنانے کی فکر کرنی ہوگی,آپسی تعلقات ,بھائی برادری ,ذات پات , رشتہ داری خاندان ,مسلک ومشرب یہ ایسی چیزیں ہیں جو کامیاب زندگی کی دہلیز پر راستہ روکنے کو بے تاب ہوتی ہیں , اس لئے ان چیزوں سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
خوابوں کا سوداگر وزیر اعظم نریندر مودی نریندر مودی نے اپنی مریادا کو بالائے طاق رکھ کر مولانا ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمت اللہ علیہ ,امیرشریعت مولانا منت اللہ رحمانی ,قاضی مجاہدالاسلام اور پیروں سنتوں کے بہار کی بولی لگانی شروع کردی ہے ,کھوکھلی ہوتی آواز میں اب پہلے جیسی دم خم نظر نہیں آتی ہے ,جھوٹ ہمشہ دم توڑتا ہے جب کہ سچائی ہمیشہ چہچہاتی نظر آتی ہے , یہ بھی ایک سچ ہے کہ مودی جی اپنے من کی کچھ نہیں کرتے بلکہ سنگھ کے اشاروں پر یہ ناچتے رہتے ہیں ,یہی وجہ ہیکہ انہوں نے بہار الکشن کو اپنے ناک کا مسئلہ بنالیا ہے اور اب بہار الکشن مودی بنام عظیم اتحاد ہوتا جارہا ہے ,ویسے جب سے سوابھیمان ریلی کی کامیابی کی خبر ملی ہے تو تھوڑا دماغ کی گرمی کم ہو ئی ہے۔سیکولرفکروں اور خاص طور پر مسلمانوں کو سوچ کر جمہوریت کی بقا کے اس جنگ میں حصہ لینا ہو گا ,تاکہ ہمارا ملک سلامتی کی راہ گامزن رہ سکے ۔
(مضمون نگاردارالعلوم سبیل الفلا ح جالے دربھنگہ بہار کے استاد ہیں: رابطہ، 9431402672)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker