Baseerat Online News Portal

کوروناوائرس ایک عذاب ہے؛ طبی تدبیروں کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کیجئے: مولانا محمد شبلی القاسمی

کوروناوائرس ایک عذاب ہے؛ طبی تدبیروں کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کیجئے: مولانا محمد شبلی القاسمی

پھلواری شریف)پریس ریلیز؛۲۲؍جولائی)‘‘جب اللہ کی زمین میں اللہ کی نافرمانیاں ، کمزوروں اور مظلوموں پر طاقتوروں کی طر ف سے ظلم و جبر بڑھ جاتا ہے ، نا انصافی عام ہو جاتی ہے اور گناہوں کا سکہ رواں ہو جاتا ہے تو زمین پر اللہ کی ناراضگی کسی نہ کسی وبائ یا قدرتی آفات کی شکل میں نازل ہوتی ہے ۔ یہ وبائیں اور قدرتی آفات انسانوں کی اپنی بد اعمالیوں اور غلط کرتوتو ں کا نتیجہ ہوتی ہیں، درحقیقت انسان اپنے پروردگار کی نافرمانیاں اوراس کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی مخلوق کے ساتھ نا انصافی ، ظلم و استبداد اور حق تلفی کر کے ان آفتوں کو خود ہی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ : ’’جو بھی مصیبتیں تم پر نازل ہوتی ہیں وہ تمہارے اپنے کرتوتوں(بد اعمالیوں)کی وجہ سے ہوتی ہیں حالانکہ بہت سے تمہارے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے (یعنی اس پر کوئی سزا نہیں دیتا)(سورۃ شوریٰ /۳۰)ایک دوسر ی جگہ اللہ نے ارشاد فرمایا :’’اور اگر اللہ انسانوں کے کیے ہوئے ہر گناہ کی پکڑکرنے لگے تو زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہے۔(سورہ فاطر/۴۵)

یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے ایک بیان میں کہیں ، انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس جیسی مہلک وبا میں گرفتار ہے ، ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ لوگ اس بیماری سے متاثر ہوئے ، کئی لاکھ افراد جاں بحق ہوگئے ، کئی لاکھ ابھی بھی موت و حیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں، دنیا ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے، نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے، ہر طرف مایوسی ، سناٹا، خوف وہراس کا ماحول ہے ، جسمانی فاصلہ اور لوگوں سے دوری اس کا علاج قرار پایا ہے۔ بلاشبہ یہ اللہ کا عذاب ہے اور انسانوں کی بد اعمالیوں اور زمین پر پھیلائے جارہے گناہوں کا نتیجہ ہے۔اس وقت ہم سب کو چاہئے کہ اس عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے طبی تدبیروں کو اپنانے کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کریں ، اس کے سامنے روئیں ، گڑگڑائیں اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کریں ، وہی مصیبتوں کو دور کرنے والا اور زندگی کو معمول پر لانے والا ہے ۔

ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اس قدر پریشانیوں اور مصیبتوں میں گرفتار ہو نے کے باوجود ہمارا ذہن اللہ کی طرف مائل نہیں ہوتا ، ہر چیز کی ہم سائنٹفک وجوہات تلاش کرتے پھرتے ہیں لیکن اس خالق کائنات کی طرف ہمارے ذہن و دماغ کی رسائی نہیں ہوتی جو بیماریوں کا بھی پیدا کرنے والا ہے اور ہر جس نے ہر بیماری کا علاج بھی پیدا کیا ہے ۔ایمان والے کی سوچ ہر صورت میں خواہ آرام و آسائش کے مرحلے ہوں یا مصیبت و تنگ دستی کی گھڑی اس کے ذہن و فکر میں خالق حقیقی کا تصور ہونا چاہئے ، آرام و راحت کااظہار حمد و شکر کی صورت میں اور پریشانی اور مصیبت کی گھڑی میں ہمارا رد عمل صبر ، توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے ۔آج کورونا جیسی اس وبا کی گھڑی میں بھی ہمیں اسوۂ نبوی اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور طبی ماہرین کی ہدایتوں پر عمل کرنا چاہئے کہ دنیا دار الاسباب ہے اور یہاں اسباب ظاہری کو اختیار کرنا اور دوا و علاج کی سہولتوں کا استعمال کرنا بھی شریعت کا حکم ہے ، ساتھ ہی ہمیں توبہ و استغفار، صدقات و خیرات اوراوراد و وظائف ، دعائ اور رجوع الی اللہ بھی اختیار کرنا چاہئے ،ایسے حالات میں اللہ کا حکم ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اور صحابہ کا طرز عمل یہی ہے ۔

پیر طریقت مفکر اسلام امیر شریعت بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ و سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے طبی تدبیروں،احتیاط اور سرکاری ہدایتوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو فرائض و واجبات اور سنن ونوافل کے اہتمام کے علاوہ توبہ و استغفار کی کثرت اور اورادو وظائف کی پابندی کرنے اور گناہوں سے سخت پرہیز کرنے کا مشورہ دیا ہے ، حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی ہدایت ہے کہ معنی کے استحضار کے ساتھ روزانہ ایک سو مرتبہ‘‘ أسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَ أتُوْبُ الَیْہِ’’ اور پانچ سو مرتبہ‘‘ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَالَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ’’ پڑھنے کا اہتمام کریں، گناہوں سے سچی توبہ کریں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پورا خیال کریں ، روزانہ ذکر و اوراد کے لیے کم از کم آدھے گھنٹے کا وقت ضرور نکالیں ۔ا ن شائ اللہ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اپنا فضل اور کرم فرمائے گا کہ وہ بے پایاںفضل و کرم والا، اپنے بند وں کی آہ و فغاں کو سننے والا اور فریاد چاہنے والوں کی فریاد رسی کرنے والا ہے۔

ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہو گیا ہے ، یہ مہینہ بہت ہی بابرکت اور حرمت والا ہے ، خاص طور پر اسکا عشرۂ اول (ابتدائی دس دن)بڑی فضیلتوں کا حامل ہے ، یہی حصے ایام حج ہیں ، عید الاضحی اور قربانی جیسی عبادت اس حصہ میں آتی ہے ۔قرآن و حدیث میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان ایام کی قسم کھائی ہے ‘‘قسم ہے فجر کے وقت کی اور دس راتوں(ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کی) کی’’(سورۂ فجر/۱۔۲)اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ‘‘کوئی دن ایسا نہیں جس میں کیے ہوئے اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذی الحجہ کے ان دس دنوں سے زیادہ محبوب ہوں۔’’(بخاری شریف)

اس لیے ان ایام کو خاص طور پر عبادات میں گذاریں اور دعاؤ ں کا اہتمام کریں ، نفل روزے ؛ خاص طور سے یوم عرفہ(نویں ذی الحجہ) کا روزہ رکھیں اور قبولیت کی گھڑیوں میں اللہ سے اس وبا کے خاتمے کے لیے دعا کریں۔

You might also like