مضامین ومقالات

تحریک آزادی کے خلاف تھا یہ خاندان!

بقلم :محمد شاہد انور بانکوی
مرکز التراث الاسلامی دیوبند
7417032707
۲۶؍ جنوری یوم جمہوریہ کے موقع پرجشن آزادی کی تقریبات پورے ملک میں بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں،مدرسہ ہو یا اسکول ،کالج ہو یا یونیورسٹی ، سبھی جگہ جنگ آزادی کے لئے قربانی دینے والے مجاہدین کے کارناموں کو تقریر وڈرامہ اور مختلف رنگا رنگ پروگراموں کے ذریعہ آزادی کی فضا میں چین وسکون کی سانس لینے والے انسانوں کو بتایا جاتا ہے کہ آزادی کے حصول میںہمارے پیش روں کی کیاقربانیاں ہیں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس تحریک آزادی میں تقریبا سبھی طبقات ومذاہب کے لوگشریک رہے تھے مگرافسوس صدر افسوس! اسی ہندوستان میں ایک خاندان ایسا بھی ہے جو اس تحریک آزادی کا ہی مخالف تھا اورجنگ آزادی کی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے انگریزوں کی حمایت میں ہر طرح کا تعاون کر رہا تھا۔آج جب کہ ہر طرف جشن یوم جمہوریہ کی تقریبات بڑی شان وشوکت سے منائی جارہی ہے اور شہدائے وطن کے جذبہ کو سلام پیش کیا جا رہا ہے تو اس موقع سے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس خاندان کے چہرے سے بھی دبیز پردہ ہٹاؤں جس خاندان نے اس تحریک کو کمزور کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی تاکہ نسل نو کویہ بھی معلوم رہے کہ کس خاندان نے ہندوستانیوں سے غداری کرتے ہوئے انگریزوں کی حمایت کی ہے ؟
ان غداران وطن میں سے ایک نام قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کے ایک خاندان کا بہت نمایاں ہے ،جس خاندان کا ایک فرد مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے جس نے انگریزوں سے اپنی اور اپنے خاندان کی خیرخواہی اور وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی کتاب’’ کتاب البریہ‘‘ میں لکھا ہے :
’’میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے ، میرے والد مرزاغلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھے، ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر انگریز ی سرکار کو مدد دی تھی، یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریز ی کو مدد دی تھی۔۔۔۔۔پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور وہ سرکار انگریز ی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا (روحانی خزائن ،جلد۱۳ص۴)
ایک مرتبہ مرزا قادیانی نے انگریز ی حکومت میںایک درخواست پیش کی جس میں اپنے اوراپنی جماعت کے لئے خاص توجہ وعنایت کا مطالبہ کیا اور انگریز حکومت سے اپنے خاندان کی خیرخواہی اور وفاداری کا اقرار کرتے ہوئے لکھتا ہے :
’’یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربے سے ایک وفادا ر ، جانثار خاندان ثابت کرچکی اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چھٹیات میں یہ گواہی دی جبکہ وہ قدیم سے سرکار انگریز ی کی خیر خواہ اور خدمت گزار ہے، اس خود کا شتہ پودے کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق وتوجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو عنایت او ر مہربانی کی نظر سے دیکھیں‘‘(مجموعہ اشتہارات ، جلدسوم ص۲۱)
مرزا قادیانی کی اس درخواست کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ قادیانی گروہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودہ ہے اور انگریزی حکومت کے سایہ تلے یہ پروان چڑھا ہے ؟
سلطنت انگریزی کو اس کی تائید وحمایت میںاس قدر کتب ورسائل کی تالیف واشاعت کا یقین دلاتا ہے جس سے پچاس الماریاں بھرجائیںملاحظہ فرمائیںمرزا کی تحریر:
میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کرئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں ۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصراور شام اور کابل اور روم تک پہونچا دیا ہے ۔ میری کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ، انکے دلوں سے معدوم ہوجائیں۔
(روحانی خزائن جلد۱۵؍ ص ۱۵۵)
سیالکوٹ کچہری میں ملازمت کے دوران انگریزوں کی جانب سے جو ہری جھنڈی دکھائی گئی اور خفیہ ملاقاتوں کے ذریعہ منثی جی کو مذہبی تخریب کاری پر آمادہ کرلیا تو اب منثی جی نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور قادیان واپس آکر دین اسلام کی خدمت کا ڈھونگ رچا اور جا بجا مذہبی مناظرے اور تصنیف وتالیف کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ ایک مصلح اور دین کا خادم ہے لیکن پس پردہ وہ ا نگریزوں سے ہوچکے معاہدے کی تکمیل کے لئے کام کررہا تھا ،چنانچہ اس نے سب سے پہلے نظریہ جہاد کو ختم کرنے کے لئے من گھڑت اور بے بنیاد الہامات کا سہارا لیکر جہاد کو منسوخ قراد دیا ،وہ لکھتا ہے :
اب چھوڑ دو جہاد کا ائے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ وقتال
اب آگیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(روحانی خزائن :جلد۱۷؍ص۷۷،۷۸)
دوسری جگہ مرزا قادیانی نے جہاد کی منسوخی کا اعلان کچھ اس طر ح کیا ہے :
’’میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیوں کہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار ہے ‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد۳؍ص۱۹)
جنگ آزادی میں شریک افراد کو فحش گالی دینے سے بھی نہیں باز رہا چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’ شہادت القرآن ‘‘ میں لکھتا ہے :
بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں ؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے ، اس سے جہاد کیسا ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے ۔
(روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۸۰)
یہ ہیں مرزا قادیانی اور اس کے خاندان کی اصلی روپ ،جسے جشن آزادی کے موقع پر بیان کیا جانا ضروری ہے تاکہ ہندوستانیوں کو اس کے کالے کرتوت سے واقفیت ہو اور اس کے مکروفریب سے بچیں ۔
مرزا قادیانی کے ذریعہ وجود میں آئی جماعت ’’قادیانیت ‘‘درحقیقت نبوت محمدی اور اسلام سے بغاوت کا نام ہے اور جو قوم اور گروہ اپنے مذہب سے بغاوت کرلے وہ اپنے ملک سے وفاداری کا ثبوت کیا پیش کریں گے وہ ہرگز ملک وملت کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے ،اسلئے ہندوستانی بھائیوں سے گزارش ہے کہ جنگ آزادی کے مخالف یہ غدار خاندان اور اس کی ہم نوا جماعتیں چاہے جس رنگ وروپ میں ہوں ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور امن وشانتی کے لئے خطرہ ہیں اس سے خود بھی ہوشیار رہیں اور دوسروں کو بھی ہوشیار رہنے کی تلقین کریں۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker