Baseerat Online News Portal

کورونا وائرس سے مرنے والے کو عام قبرستان میں تدفین سے روکنا غیر انسانی وغیر قانونی عمل : مولانا محمد شبلی القاسمی

کورونا وائرس سے مرنے والے کو عام قبرستان میں تدفین سے روکنا غیر انسانی وغیر قانونی عمل : مولانا محمد شبلی القاسمی
پھلواری شریف) پریس ریلیز؛۲۷؍جولائی)امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے اپنے ایک بیان میں متعدد مقامات پر کورونا وائرس سے مرنے والوں کی عام قبرستان میں تدفین سے روکے جانے کے واقعات پرسخت ناراضگی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس سے مرنے والے بھی انسان ہیں اور وہ بھی اسی طرح احترام کے مستحق ہیں جس طرح دوسرے مرض میں مرنے والے ۔انہیں عام قبرستان میں دفن ہونے سے روکنا انسانیت کی توہین ہے، یہ ایک غیر شرعی ، غیر انسانی اور غیر قانونی عمل ہے۔ یہ مرض کسی کو بھی ہو سکتا ہے،ایسے مریض سے نفرت کی اجازت کسی بھی حال میں نہیں دی جا سکتی۔ ہر مسلک و مکاتب فکر کے علماء کرام نے بار بار متنبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس سے مرنے والوں کی آخری رسومات بھی ادب واحترام سے ادا کی جائیں اورعام مسلمان میت کی طرح ان کو بھی پورے عزت و احترام سے قبرستان میں دفن کیا جائے۔امارت شرعیہ سے بھی کئی بار اس طرح کی اپیل کی گئی ہے، ڈاکٹروں کا بھی کہناہے کہ متاثر انسان کے مرنے کے بعد کورونا وائرس ناکارہ ہو جاتا ہے اور اس سے تجہیز و تکفین میں شامل لوگوں کو یا قبرستان کے آس پاس کے لوگوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے ، اور ایسا واقعہ بھی کہیں نہیں ہواکہ کسی قبرستان میں کورونا وائرس سے متاثر نعش کے دفنانے کے بعد اس علاقہ میں کوروناوائرس پھیل گیا ہو۔ ان سب کے با وجود افسوس ناک بات ہے کہ اب بھی کئی جگہوں سے یہ خبر آرہی ہے کہ قبرستان کے متولی نے یا قبرستان کے ارد گرد کے لوگوں نے ایسی میت کی تدفین میں رکاو ٹ پیدا کی اور انہیں عام قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی۔ خیال رکھنا چاہئے کہ یہ عمل شریعت کے تو خلاف ہے ہی ، قانون کے بھی خلاف ہے اور اخلاقی اعتبار سے بھی غلط ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص میت کو دفن کرنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے ، تو اس کا یہ عمل کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا۔
مولانا موصوف نے مزید کہا کہ ایسے لوگوں کوسوچنا چاہئے کہ اگر ان کے گھر والوں یا عزیزوں یا خود ان کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آجائے تو کیا وہ اس بات کو گوارہ کریں گے کہ ان کی نعش کے ساتھ اسی طرح توہین آمیزبرتاو کیا جائے۔ جو لوگ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثر شخص کا وائرس وہاں کے لوگوں کومتاثر کرے گاان کو اس غلط فہمی کو دور کر لینا چاہئے ، کیوں کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ اور ڈاکٹروں کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مریض کے مرنے کے بعد اس کے جسم میں موجود وائرس ناکارہ ہو جاتا ہے اوراس کا اثرکسی اور کی طرف متعدی نہیں ہو تا ہے۔لہٰذ ا ہر گز ایسی حرکت نہ کی جائے ، اس وقت بڑا افسوس ہوتا ہے اورمعاشرہ کی اخلاقی اور سماجی گراوٹ پر سخت تشویش ہوتی ہے، جب انتظامیہ یا حکومت کے افسران اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ فلاں قبرستان میں اس مرض سے مرنے والوں کو دفن کرنے سے روکا جا رہا ہے۔لہٰذا ہر گز ایسی غلطی نہ کریں اور اسلام کا صحیح کا تصور اپنے اخلاق و اعمال سے پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے،آمین!!

You might also like