Baseerat Online News Portal

بکرا تو کٹے گا !!!!  نوراللہ نور 

بکرا تو کٹے گا !!!!

 

نوراللہ نور

 

لاک ڈاؤن میں مسلسل گھروں میں محصور رہنے کی وجہ سے طبیعت اوب گیی ہے اور مزاج ترو تازگی کی متمنی ہے اور بقرعید بھی آگیی ہے تو اس سے بہتر اور موزوں کیا ہوگا فرحت و انبساط کے لئے مگر رنجیدگی کا امر یہ ہے کہ مودی جی کہ رہے ہیں کہ جس طرح آپ نے عید گھر پر پڑھی ہے ویسے ہی بقرعید بھی رسما منا لیں مان لیتے یہ بات بھی مودی جی کی کیونکہ اب تک ملک کے مفاد میں سنتے آرہے ہیں مگر اب مزید امتحان کا دل متحمل نہیں اس لیے مودی جی اس بار کؤی سمجھوتا نہیں اس بار تو بکرا کٹے گا لاک ڈاؤن میں پڑوسیوں نے تو حال دریافت کیا نہیں مگر چونکہ اب نمود نمائش بھی لوگ کر یں گے تو اس میں بیچارے نادار و مسکین کا بھلا ہو جائے گا وہ بھی اپنی زبان کا ذایقہ بدل سکتے ہیں اور اپنے پڑوسی کے دیے ہوئے عطیہ سے تھوڑا وہ بھی خوش ہو جائیں گے ویسے بھی مودی جی آپ لوگ تو لاک ڈاؤن میں چوری چھپے “نلا ” نہاری” کھا ہی رہے ہیں تو اس موقع سے ذرا ہمیں بھی استفادہ کا موقع دیں آپ بھی اپنے تمام حواریوں کے ساتھ آسکتے ہیں دل سے مدعو کریں گے جتنے بھی انواع ہونگے سب کا التزام کریں گے اور اگر آپ نے کہا کہ ہم نہیں کھاتے تو پاکستانی بریانی کھاتے ہوئے تصویر سب کو دکھا دونگا خیر آپ آؤ یا نہیں اجازت دو یا نہیں اس بار تو بکرا کٹے گا ۔۔

مودی جی ہمیں ملک کے حالات سے آگہی ہے اور درپیش خطرات کا بھی علم ہے تبھی تو دیکھیے ہم نے عید گھر پر پڑھی بڑی رات بھی ہم نے دل پر پتھر رکھ کر یوں ہی گھروں پر عبادت میں گزاری اور ہماری احتیاط کا عالم یہ ہیکہ ہماری مسجدیں ہنوز مقفل ہے ہم آیندہ بھی ملک اور ملک باسیوں کی ترقی اور ان کے تحفظ کے لئے آپ کے ہمدوش رہیں گے مگر اس بار بکرا ضرور کٹے گا مودی جی ہمارے اصرار پر آپ کہیں گے کہ لوگوں کی جان خطرے میں ڈال کر خوشیاں منانا چاہتے ہو یہاں پورا ملک میں کورونا کی تعداد مزید بڑھتی جارہی ہے اور تمہیں نلا نہاری سیخ کباب اور بھنے ہوئے گوشت کی فکر ہے کیا کریں پی ایم سر لوگوں کی جان خطرے میں ڈال کر سرکار بنای جا سکتی ہے ؛ لوگوں کی فکر کیے بغیر ایم ایل ای کی خرید و فرخت ہو سکتی ہے تو ہم تو اپنے گھروں میں پورے احتیاط سے عید کیوں نہیں منا سکتے مودی جی اب اس بار کؤی کمپرو مایس نہیں سارے آیٹم بنیں گے اب ہمارے برادران وطن کہینگے کہ ایسی ماحول میں بقرعید منانا کہاں کی دانشمندی ہے تو ان کا بھی جواب ہے میرے پاس کہ ابھی تو انلاک ہو گیا ہے مگر آپ لوگوں نے لاک ڈاؤن میں ہی قانون کو بالاے طاق رکھتے ہوئے کیرل اور بہار میں یاترا نکالی تھی اس وقت بھی تو لوگوں کی جان کو خطرہ تھا اور ہاں یہ “جیو ہتھیا” ہے بول کر رخنہ اندازی مت کرو کیونکہ یہاں پر انسان کی ہتھیا ہو تو ذرا بھی تامل نہیں ہوتا ؛ روز لاکھوں کے میٹ سپلائی ہوتے ہیں اس وقت کسی کو درد نہیں ہوتا ہے مگر جیسے ہی بقرعید آی کہ جیو ہتھیا پر مصنوعی اشکیں بہانے لگتے ہیں خیر جب آپ اپنے تہورا مناسکتے ہیں تو ہم بقرعید کیوں نہیں ؟

نازک حالات ہیں ہم اپنے دعوے پر مصر نہ ہوتے مگر جب اتنی ہے نازک حالات ہے تو پردھان منتری جی ایودھیا کیوں جارہے ہیں جب ایک لمبے عرصے تک انتظار کیا گیا ہے دو مہینے اور کیوں نہیں ؟ آخر اسی وقت ہی نرمان ہی کیوں ضروری ہے جب آپ کے جانے سے تین گھنٹے کے پروگرام اور تین سو زاید لوگوں کے اجتماع سے کورونا نہیں بڑھے گا تو ہمارے بکرا منڈی لگانے اور مسجد میں نماز پڑھنے سے کورونا کیسے بڑھ جاے گا قانون اگر قانون کی بات کرتے ہیں قانون میں سب مساوی ہے چاہے پردھان منتری ہو یا پھر عام سادھارن آدمی جب آپ نرمان کر سکتے ہیں تو ہم بھی بقرعید منایں گے اور سب انواع بنے گا اور بکرا تو کٹے گا کوئی کمپرو مایس نہیں جن کو اس حقیقت کشا تحریر سے تکلیف ہے وہ چھوڑ دی نا پڑھیں

You might also like