Baseerat Online News Portal

اکیس سال بعد بھی کارگل میں شہید ہوئے رکسول کے سپوت کا گھرانہ بے بسی کی دلدل میں ۔۔۔۔۔، کیا شہیدوں کا سہارا لے کر اقتدار میں آئی حکومت کے دور میں بھی مل پائے گا حق و انصاف

رکسول۔29/( محمد سیف اللہ)

یہ ملک ہمیشہ سے ہی اپنے ان جوانوں کی قربانیوں کا مرہون احسان رہا ہے جو رات کے سناٹے،دن کی چہل پہل اور برسات وسردی کے تکلیف دہ ایام میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہندوستان کے سرحد کی حفاظت اور اس کے وقار کی بقاء کے لئے سرحد پر تعینات رہتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ جب ملک کا کوئی جوان سرحد اور ملک کی حفاظت کرتا ہوا شہید ہو جاتا ہے تو اس کے خون میں لپٹی لاش ملک کے ہر ایک فرد کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتی ہے،اس کے بعد پھر جب کبھی ہمیں موقع ملتا ہے ہم سرحد پر جان گنوانے والے سپوتوں کو نہ صرف خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ ان کے تئیں ہمارا احساس بھی ہر لمحہ ہمیں کچھ درد میں ڈوبی کہانی سناتا رہتا ہے،شہیدوں کے تعلق سے ہمارے جذبات واحساسات کی تصویریں ان تمام جگہوں پر آج بھی نظر آتی ہیں جہاں ہم نے انہیں جگہ جگہ چوک چوراہوں پر نصب کرکے ان کے گلے میں پھولوں کا مالا ڈالا ہوا ہے،لیکن آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 1999میں پاکستان کے ساتھ کارگل جنگ میں شہید ہونے والا اہم سپوت ایسا بھی ہے جو مرنے کے بعد بھی حکومت سے اپنے لئے رحم کی بھیک مانگ رہا ہے،ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ ہماری کس بے حسی نے ان کی قربانیوں پر کالی چادر ڈال دی لیکن کارگل کی جنگ میں اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کے ہاتھوں شہید ہوجانے والا ہند نیپال کی سرحد کا یہ مایہ ناز سپوت جس بے رحمی سے فراموش کر دیا گیا اس سے ملک کا ایک بڑا طبقہ شرمندگی کا شکار ہے،کیونکہ یہ وہ سپوت تھا جنہوں نے نہ صرف خود کو ملک کے وقار کی حفاظت کے لئے قربان کر دیا بلکہ اپنے جسم میں جاری خون کے ایک ایک قطرے کو خوشی خوشی یہ کہ کر بہنے دیا کہ میں اپنی جان سے زیادہ ملک کے وقار کی حفاظت کو عزیز سمجھتا ہوں،یہ سپوت کوئی اور نہیں بلکہ رکسول سب ڈویژن کے رمگڑھوا بلاک میں شامل منگل پور پٹنی پنچایت باشندہ اشور چندر پانڈے کے قابل رشک سپوت اروند پانڈے ہیں جس کے نام اور کردار پر پورا سرحدی خطہ رشک ہی نہیں کرتا بلکہ سچ پوچھئیے تو اس کے نام کی گیت گاتا ہے اور آپ کو یہ بھی بتادیں کہ یہی وہ جوان ہے جس نے آج سے اکیس سال پہلے 29 جون 1999 کو کارگل جنگ کے موقع پر اپنے ملک کے وقار کی بلندی کے لئے جان کی تو بازی لگا دی مگر پاکستان کے سامنے خود کو بے بس ہونے نہیں دیا،ظاہر سی بات ہے کہ کارگل جنگ کے موقع پر ہمارے کسی جوان کا اپنی جان کی بازی لگا دینا کوئی ایسا حادثہ نہیں تھا کہ اسے فراموش کردیا جاتا،بلکہ اس کا حق یہ تھا کہ ہماری حکومتیں ان کے کردار کو زندہ رکھنے کے لئے ان جوانوں کی قربانیوں کو ملکی سطح پر سلامی دی جاتی اور ان کے احسانات کو یاد رکھتے ہوئے ان کی نسلوں کے تحفظ اور ان کی ترقی وخوشحالی کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جاتے،حکومت نے ایسا کیا بھی کئی جگہوں پر شہیدوں کے ٹصویریں لگائی گئیں،ان کے نام سے سرکاری اسکیمیں چلائیں،اسکول وکالج بنائے مگر افسوس ان ہی جوانوں میں سے ایک اروند پانڈے کی شہادت اور ان کی قربانیوں کو اس بے دردی سے فراموش کر دیا گیا کہ آج ملک کی ایک بڑی آبادی ان کے نام تک سے ناواقف ہے،حالانکہ کارگل جنگ کے شہید اروند پانڈے کی شہادت کے بعد پورے بہار میں غم کا بادل چھا گیا تھا اور غم زدہ بہار کی عوام کو تسلی دینے کے لئے ریاستی حکومت نے اروند پانڈے کی کئی یادگاریں بنانے اور ان کے کردار کو مثالی بنائے رکھنے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے تھے، جن میں ان کے گاوں کو ماڈرن بنانا،ان کے اہل خانہ کو کسی بڑے شہر میں رہائشی فلیٹ دینا،ان کے نام سے اسکول و ہاسپیٹل قائم کرنا،ان کے گاوں کے ہر فرد کو اندرا آواس دینا اور نیشنل ہائیوے سے ان کے گاوں تک جانے والی سڑک کو خوبصورت بنانا جیسے وعدے شامل تھے،مگر یہ تمام وعدے وقت گزرنے کے ساتھ ہی اس طرح فائلوں میں لپیٹ کر رکھ دیئے گئے کہ آج تک ان وعدوں کی کسی کو بھنک بھی نہیں لگی،نہ ان کے نام سے میڈل اسکول اور ہاسپیٹل قائم ہوا،نہ ان کے گاوں کو کشادہ سڑک سے جوڑا گیا،نہ گاوں کے ہر فرد کو اندرا آواس کی سہولت ملی،نہ ان کے گھر والوں کو رہائشی فلیٹ ملا اور نہ ابھی تک گاوں موڈرن بن سکا،بلکہ اس کے برخلاف اس گاوں کی جو سماجی ومعاشی حالت ہے اگر آپ اسے دیکھ لیں تو ماتم کرنا شاید آپ کا مقدر بن جائے، حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ گاوں کے چوراہے پر شہید اروند پانڈے کے اسٹیچو کی بات بھی جملہ بن کر رہ گئی،اروند پانڈے کے اہل خانہ کو سرکاری نوکری کے ساتھ زندگی کی بنیادی سہولیات سے نوازے جانے کی بھی بات حکومتی سطح پر بڑے زور شور سے کی گئی تھی مگر اس سمت میں جو کچھ ہو سکا اس کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہید اروند پانڈے کا گھرانہ برسوں گزرنے کے بعد آج بھی فاقہ کشی کی دہلیز پر بے بسی کی زندگی گزار رہا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہماری نظر میں شہیدوں کی قربانی کا حق بس اتنا ہی ہے کہ ان کی شہادت کے بعد بڑے بڑے وعدے کرکے انہیں فراموش کرنے کا خوبصورت طریقہ نکال لیا جائے،کیا ہم اسی انداز سے شہیدوں کی شہادت کا بدلہ چکانے کو ملک کی ترقی اور شہیدوں کا احترام مانتے ہیں،کیا اسی بے عزتی کا دن دیکھنے کے لئے ہمارے جوان دن رات سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں،آخر شہیدوں کی قربانیوں کے سہارے اقتدار کی روٹی سینکنے والے لوگ کہاں ہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے پلوامہ حملے کے بعد آسمان اور زمین کے قلابے ملائے تھے اور ان کی قربانیوں کو بیچ بیچ کر اقتدار تک پہنچنے کا راستہ اپنا یا تھا،ظاہر ہے کہ رکسول اور اس سے متصل سرحدی علاقے کی عوام اس وقت ان ہی سوالوں کے ساتھ اپنے عظیم سپوت کے لئے انصاف مانگ رہی ہے،دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت نیند سے بیدار ہوتی ہے یا پھر اس معاملے پر لیپا پوتی کر کے پھر سے خاموشی کی چادر اوڑھا دی جاتی ہے۔

You might also like