Baseerat Online News Portal

مولانا مکین احمد صاحب کے انتقال پر حضرت امیر شریعت مد ظلہ کا اظہار رنج

مولانا مکین احمد صاحب کے انتقال پر حضرت امیر شریعت مد ظلہ کا اظہار رنج

پھلواری شریف)پریس ریلیز؛۲۹؍ جولائی) امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے مدرسہ چشمۂ فیض ململ کے نائب مہتمم مولانا مکین احمد صاحب کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہاکہ شمالی بہار کے معروف عالم دین مولاناوصی احمد صدیقی صاحب مہتمم مدرسہ چشمۂ فیض ململ ، مدھوبنی کے سانحہ ٔ ارتحال کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ نائب مہتمم مولانا مکین احمد صاحب بھی مختصر علالت کے بعد۲۸؍ جولائی کی شب رب کائنات سے جا ملے،اناللہ و انا الیہ راجعون۔ان دونوں بزرگوں نے مدرسہ کو خون جگر سے سنیچا تھا ، ان کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ ادارہ علاقہ کا ایک مثالی و معیاری ادارہ بن گیا۔ اللہ ان دونوں بزرگوں کی تربت پر رحمت کی بارش برسائے ۔ مولانا مکین احمد صاحب ایک تجربہ کار منتظم اور صاحب کردار انسان تھے ۔ان کے سانحۂ ارتحال پر مفکر اسلام حضرت مولانامحمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ مولانا مکین صاحب بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے حامل عالم دین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے ممتاز فضلا میں تھے، خانقاہ اور جامعہ رحمانی سے گہری عقیدت رکھتے تھے، ان کی ذات سے ملت کو بڑا فائدہ پہونچا، اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے ۔بڑے صدمہ کی بات یہ ہے کہ چند دنوں پہلے ہی مدرسہ کے مہتمم جناب مولانا وصی احمد صدیقی صاحب بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کے حسنات کو قبول فرمائے اور ان دونوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ، اللہ تعالیٰ وارثین کو صبر جمیل دے اور اس ادارے کی حفاظت فرمائے۔

قائم مقام ناظم امارت شرعیہ نے مزیدکہا کہ مولانا مکین احمد صاحب کے امارت شرعیہ سے دیرینہ تعلقات تھے، اکابر امارت شرعیہ سے گہری محبت و عقیدت رکھتے تھے اورامارت شرعیہ کے پیغام کو علاقہ میں عام کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ۔ مولانا مکین صاحب سے میرے ذاتی مراسم بھی رہے ہیں وہ اعلیٰ اخلاق اور بلند ظرف رکھتے تھے۔ مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ہمدردانہ و مشفقانہ طرز عمل اختیار کرتے تھے ، جس کی وجہ سے اساتذہ و طلبہ میں ہر دلعزیز تھے، مولانا اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے علاقہ میں بھی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، بلا شبہ وہ بڑے ہی خوش اخلاق، وضع دار اور شریف الطبع انسان تھے، خاموش مزاج مگرصاحب بصیرت عالم دین تھے، لمبے عرصے تک انہوں نے نائب مہتمم کی حیثیت سے مدرسہ چشمۂ فیض ململ کی خدمت انجام دی اور اپنی ساری زندگی درس و تدریس میں گذار دی۔ ایسے نیک طبیعت عالم دین کا ہمارے درمیان سے اٹھ جاناایک بڑا سانحہ ہے ، اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور ادارہ کو ہر طرح کے شراور فتنہ سے محفوظ رکھے۔ امارت شرعیہ اور اس کے سارے ذمہ داران و کارکنان مدرسہ کی ترقی و استحکام اور ان بزرگوں کے وصال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کے پُر ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ اور وارثین و متوسلین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

You might also like