Baseerat Online News Portal

ہم نے تو ملک کی آبرو بچانے کے لئے خود کو قربان کیا،مگر ہماری آبرو کون بچائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ مہینوں سے لاک ڈاون کے ماحول میں بے یار ومددگار جی رہے اساتذہ کا چھلکا درد

رکسول۔29/ جولائی ( محمد سیف اللہ)

ملک بھر میں جاری کرونا کا قہر تباہی کے الگ الگ راستوں سے گزر کر کس موڑ تک پہونچے گا اور ابھی ہندوستانی عوام کو اس عالمی وبا سے چھٹکارا پانے کے لئے کن کن صبر آزما دور سے گزرنا ہوگا اس کے بارے میں کسی طرح کی کوئی پیشین گوئی تو نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی اس پر ابھی گفتگو مناسب ہے کہ ہم اس جنگ کو جیتنے میں کس حد تک اور کیسے کامیاب ہو سکیں گے کیونکہ ملک میں لاکھوں لوگوں کی نوکریاں چھینی جانے،روزگار بند ہونے،اسکول وکالج اور کل کارخونوں پر تالے لگانے کے علاوہ بہت کچھ ہونے کے باوجود ہماری سرکاروں کی جانب سے سوائے احتیاطی تدابیر بتائی جانے کے کرونا سے بچاو کی سمت میں ایسی کوئی پیش رفت نہیں کی جاسکی ہے جس پر اعتماد کی مہر لگائی جا سکے،لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ہماری کمزور حکمت عملی اور بے سوچے سمجھے لئے گئے فیصلے کے سبب اس وبا نے ملک کو جس جمود وتعطل کا شکار بنا کر رکھا ہوا ہے اور جس طرح عام زندگی کو خوشحال بنائے رکھنے کے تمام راستے ایک ساتھ کرونا کی نذر ہو گئے ہیں اس نے ملک کے مستقبل کے تعلق سے ذہنوں میں کئی ایسے سوال کھڑے کر دیئے ہیں جن کا جواب تلاشنے کی کوشش کرنا ہر اس فرد کی ذمہ داری ہے جو اپنے ملک کو عالمی نقشے میں منفرد دیکھنا چاہتا ہے،اس سلسلے کا سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ اب اس ملک کی کڑوروں عوام کا کیا ہوگا اور وہ اس افراتفری کے ماحول میں کرونا سے جنگ کیسے جیت سکیں گے اور اگر وہ جیت بھی گئے تو لاک ڈاون کے سبب اپنی برباد ہوتی تعلیمی و اقتصادی صورت حال کو مستحکم کرنے میں انہیں کتنے مشکل مرحلوں کو پار کرنا ہوگا،بدلتے وقت کے ساتھ ان سوالوں کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں نہ صرف ملک کی اقتصادیات نے دم توڑ کر عام لوگوں کی فکرمندیاں بڑھا دی ہیں بلکہ ملک کے صحت محکمہ کی وہ ساری سچائیاں بھی دھیرے دھیرے سامنے آگئی ہیں جن کے حوالے دے دے کر بڑی طاقتوں کے ساتھ کھڑا رہنے کی بات کی جاتی رہی تھی،لاک ڈاون کے پہلے دن سے آج تک ہم نے ہزاروں انسانوں کی موت کی صورت میں جوکچھ کھویا ہے اس کے تصور سے بھی دل کانپ جاتا ہے،کیونکہ ہماری کمزور صحت پالیسی اور ناقص انتظامات کے سبب نہ صرف کرونا نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا بلکہ ہزاروں ایسی قیمتی جانیں کرونا کی نذر ہو گئیں جنہوں نے ملک وقوم کی ہر شعبہ زندگی میں نمائندگی کی،تعلیمی اداروں کے بند ہونے کے باعث تعلیم کے میدان سے جڑ کر اپنے شاندار مستقبل کا خواب دیکھنے والے لاکھوں طلبہ وطالبات کا جو حال ہوا وہ تو بیان سے باہر ہے ہی لیکن اس صورت کی وجہ سے نہ جانے کتنے ایسے لوگ بھیک کا کٹورا لے کر سڑکوں پر آگئے جو اپنی ابتک کی زندگی میں ہر لمحہ پوری احساس ذمہ داری کے تحت نئی نسل کو انگلی پکڑ کر چلنے اور تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کا ہنر سکھاتے آرہے تھے تاکہ قوم کے یہ بچے ملک کے کام آکر ان کے گیسو سنوارنے والے بن جائیں،نظر اٹھاکر دیکھیں تو ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول اور اس سے متصل علاقوں کے چاہے سرکاری،نیم سرکاری اور پرائویٹ تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ٹیچرس ہوں یا ٹیوشن کے سہارے اپنا پیٹ پالنے والے اساتذہ اچانک کے لاک ڈاون نے سب کی زندگیاں بدل دیں اور ہر طرف ماتمی سناٹا چھا گیا،ایسے لوگوں کے لئے نہ تو سرکار کے پاس سوچنے کا کوئی موقع رہا اور نہ سماج ان کے بارے میں سوچ سکا حتی کہ ان لوگوں نے بھی ایسے قیمتی اساتذہ سے نظریں پھیر لیں جن سے ان کی روزی روٹی کا رشتہ جڑا ہوا تھا،اب سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر کیا ہوگا ان اساتذہ کا جو یومیہ فیس کی بنیاد پر نئی نسل کا مقدر سنوارنے میں جٹے تھے، کیا ہوگا ان ٹیچروں کا جن کی معمولی آمدنی ان کے بوڑھے ماں باپ اور بیوی بال بچوں کا سہارا تھی ایسی حالت میں وہ کیونکر اپنے ماں باپ اور بچوں کی زندگیاں بچا پائیں گے،کیسے ان کی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے ہوں گے،ان ہی سب سوالوں کے جواب تلاشتے تلاشتے کتنے ہی ٹیچرس نے زندگی کی جنگ ہار کر دم توڑ دیا اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جو اب بھی ہندوستان جیسے ملک کے اندر فاقہ کشی کے ماحول میں در در بھٹکنے اور گھٹ گھٹ کر زندگی گزانے کو مجبور ہیں جہاں ہر سال 5 ستمبر کو محب تعلیم رادھا کرشنن جی کی یوم پیدائش کے موقع پر ٹیچرس ڈے منانے کی روایت رہی ہے،لیکن نہ تو انہیں سماج کے ٹھیکیداروں اور پرائویٹ اداروں کے ذمہ داروں سے جواب مل رہا ہے نہ حکومت کوئی جواب دے پا رہی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ سرحدی خطہ کے اساتذہ ان دنوں مایوسی کے شکار ہیں اور بڑے درد کے ساتھ حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے تو ملک کی آبرو بچائے رکھنے اور نئی نسل کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لئے خوش کو قربان کر دیا مگر اس کشمکش کے دور میں ہماری آبرو کون بچائے گا ؟

You might also like