Baseerat Online News Portal

حضرت امیر شریعت کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

حضرت امیر شریعت کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

 

مظفر پور ۲۹/جولائی (پریس ریلیز)عید الاضحٰی کے ایام قریب آگئے ہیں،لاک ڈاؤن کی وجہ سے عیدالاضحی کی نماز کی ادائیگی اور قربانی کے سلسلے میں مسلمان تشویش میں مبتلا ہیں، مسلسل لوگوں کے فون آتے رہتے ہیں کہ ان حالات میں عیدالاضحیٰ کی نماز کس طرح ادا کی جائے گی، اور قربانی کس طرح کی جاۓ، اس کا جواب مختصر میں یہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کی نماز اور قربانی کے سلسلے میں حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کی واضح ہدایات جو اخبارات،سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع سے مسلمانوں تک پہونچ گئی ہیں، ان پر سختی سے عمل کیا جائے تو انشاء اللہ کہیں بھی کوئی مسٔلہ کھڑا نہیں ھوگا، ان ہدایات کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کی نماز بہر صورت ادا کی جائے ، لیکن اس میں سرکاری ہدایات کا پاس و لحاظ رکھا جائے، قربانی کی جاۓ اور اسے تماشہ نہ بنایا جائے، جانور کی باقیات کو ایسی جگہ نہ ڈالیں جس سے دوسرے کو تکلیف پہونچنے کا اندیشہ ہو، قربانی کے چمڑے حسب سابق ادارے والے لے جائیں تو انہیں دیدیں، ورنہ اس کو فروخت کرکے قیمت غرباء و مساکین اور ادارے کو دیدیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ جو قیمت کم ہونے کی وجہ سے اسے دفن کردینے کی بات کرتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا مال کا ضیاع ہے جو ممنوع ہے، ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ نے ایک اخباری اعلانیہ میں کیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ بہت سارے لوگوں کا تقاضہ ہوتا ہے کہ عیدالاضحیٰ کی نماز کے لیے مختصر خطبہ فراہم کیا جائے، اس سلسلے میں شوسل سائٹس پر بہت سارے خطبے گردش کررہے ہیں، امارت شرعیہ کی طرف سے بھی اس ضرورت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایک خطبہ جاری کیا گیا ہے، ان میں سے جو خطبہ دستیاب ہو اسے عیدالاضحیٰ کی نماز کے بعد پڑھ دیا جائے، بالفرض اگر کسی کے پاس کوئی خطبہ نہ پہونچے تو وہ پہلے خطبہ میں تکبیر تشریق، سورہ فاتحہ اور کوئی سورہ پڑھ دے، اور دوسرے خطبہ میں درود شریف، قرآن و احادیث کی جو دعا یاد ہو پڑھ کرکے خطبہ مکمل کردے، خطبہ میں کسی خاص آیت، حدیث یا اختتام پر کسی خاص جملہ کا پڑھنا ضروری نہیں ہے،مفتی صاحب نے فرمایا کہ دینی تعلیم اور فلسفہ قربانی سے عدم واقفیت کی وجہ سے امسال کے خصوصی حالات میں بہت سارے لوگ جانور کی قربانی کے بجائے اس کی قیمت صدقہ یا ریلیف کے طور پر ضرورت مندوں کو پہونچانے کی تلقین کرتے ہیں، شرعاً یہ درست نہیں ہے، قربانی کے ایام میں قربانی ہی واجب ہے جو صاحب نصاب کو کرنی ہے،مسلمانوں کو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔

You might also like