Baseerat Online News Portal

30 سالوں میں حکومت کی بے حسی سے بہار نے 100 سالوں کے سیکڑوں صنعتوں کو گنوا دیا ، پشپم پریا چودھری

30 سالوں میں حکومت کی بے حسی سے بہار نے 100 سالوں کے سیکڑوں صنعتوں کو گنوا دیا ، پشپم پریا چودھری

حکومت کے نااہل پالیسی سازوں سے

ٹیکسٹائل صنعت زبوں حالی کی شکار  ،

جالے  ۔۔ سوت سے لیکر کپڑوں کی پیداوار اور چھپائی سے لیکر سلائی تک موزوں ماحول ، بڑا بازار اور سستی مزدوری کے باوجود بہار کی ٹیکسٹائل انڈسٹری آج حکومت کی لاپرواہی اور پالیسی سازوں کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے اپنی بد حالی پر آنسو بہا رہی ہے۔ مذکورہ باتیں پلورلس پارٹی کی صدر اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں وزیر اعلی عہدہ کی امیدوار پشپم پریا چودھری نے بہار کے کئی ٹیکسٹائل انڈسٹریز کا معائنہ کرنے کے بعد سرکار اور اس کے پالیسی سازوں پر حملہ کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بہار کے لاکھوں محنت کش مزدور ملک کی مختلف ریاستوں میں جاکر مزدوری کرتے ہیں اور وہاں ان لوگوں کو نہ صرف تارکین وطن کہا جاتا ہے بلکہ اپنے کنبے سے دور رہتے ہوئے خون پسینے بہا کر دو وقت کی روٹی کماتے ہیں اگر ان مزدوروں کو اپنے گھر میں ہی کام کرنے کا موقع میسر ہوتا تو ان بے بس و لاچار مزدوروں کی صورتحال قابل رحم نہ ہوتی اور نہ ہمارا بہار پسماندہ ریاست کے زمرے میں آتا لیکن گذشتہ 30 سالوں میں حکومت کی بے حسی کے سبب بہار نے 100 سال قدیم سینکڑوں صنعتوں کو کھو دیا ہے نیز گلوبلائزیشن کے بعد آنے والی نئی مرکزی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے میں بھی بہار پیچھے رہا۔ پشپم پریا نے کہا کہ جب 2005 میں انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل پارکس اسکیم سامنے آئی تو ملک کی بہت سی حساس ریاستوں نے کروڑوں کا کاروبار کیا لیکن اس وقت ہمارے بہار کے قائدین صرف کرسی بچانے میں لگے رہیں۔ انہوں نے بھاگل پور کے ہینڈلوم صنعت مانپور گیا کا ہینڈلوم پاورلوم کپڑا انڈسٹری اور نوادہ ضلع کے قادرگنج کے بارے میں بتایا کہ گھروں میں تسر ، ملبری ، مونگا ، کٹیا ریشم کی ساڑیوں میں غیر معمولی کام اب عدم پونجی و تکنیکی کمی کے وجہ سے کراہ رہی ہے لیکن اب اس کی پریشانی کے دن جانے ہی والے ہیں کیونکہ اگلے 2020-30 میں یہاں پیداوار ، اختراعات اور سرمایہ کاری کی نئی منزل بن جائے گی۔پشپم پریا نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل کی صنعتوں کو نظر انداز کرکے نہ صرف ترقی کو سست رفتار دی ہے بلکہ  ریاست کی ایک بڑی آبادی کو بھی بھوکمری کے دہلیز پر لاکر کھڑا کردیا ہے اور لوگ حصول معاش کے لئے نقل مکانی کرنے پر بھی مجبور ہوگئے ہیں۔نئے نصاب اور نئی حکمت عملی سے انہوں نے 2020-30 میں بہار کے ہر ضلع میں سوت مینوفیکچرنگ ، کلاتھ ویونگ ، گارمینٹ پروسیسینگ اور اسٹیچینگ اسمبلی لائن کے ساتھ اپنے بقیہ صنعت کو نئی زندگی ، لاکھوں مزدوروں کو روزگار اور ملک کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کو نئی سمت دکھانے کا کام کرے گی۔

You might also like