Baseerat Online News Portal

بوکھڑا بلاک کے بھرون گاوں کا مغربی اور مشرقی علاقہ سیلاب کے نرغے میں ،لوگوں کا گاوں سے نکلنا مشکل ، شارق رحمانی کا دامودر ندی کے نالے پر پل کی تعمیر کا مطالبہ ،عوامی نمائندوں پر بے حسی کا الزام

بوکھڑا بلاک کے بھرون گاوں کا مغربی اور مشرقی علاقہ سیلاب کے نرغے میں ،لوگوں کا گاوں سے نکلنا مشکل ،
شارق رحمانی کا دامودر ندی کے نالے پر پل کی تعمیر کا مطالبہ ،عوامی نمائندوں پر بے حسی کا الزام

جالے۔ رفیع ساگر

(بی این ایس)

۔ مقامی بلاک سے متصل بوکھڑا بلاک کے مہسوتھا پنچایت کا بھرون گاوں سیلاب کے پانی کے نرغے میں ہے جس سے لوگوں کا گاوں سے نکلنا دشوار کن ہوگیا ہے۔صورتحال ایسی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ضروریات کے سامانوں کی قلت ہوگئی ہے۔ یہاں ہر سال بارش شروع ہوتے ہی سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اور جب سیلاب کا پانی داخل ہوتا ہے تو یہاں کے لوگوں کا جینا دوبھر ہوجاتاہے کیونکہ یہ گاوں علاقے کا ایک نشیبی حصہ ہے اور ایسے موسم میں یہاں قیام پذیر عوام کو ضروری اشیاء کیلئے گھر سے باہر نکلنا مصیبت بن جاتاہے۔ اسی ضمن میں بات کرنے پر بھرون گاوں باشندہ سماجی کارکن مولانا محمد شارق رحمانی نے نمائندہ کو بتایا کہ اس گاوں میں 100 گھروں سے زائد کی آبادی ہے جو مغرب و مشرق کے درمیان 2 حصوں میں منقسم ہے کیونکہ درمیانی حصہ میں ایک نالی ہے جس کا تعلق نیپال سے آنے والی دامودر ندی سے ہے۔ ویسے تو عام دنوں میں بھی یہ نالی زیر آب رہتی ہے لیکن سیلاب کے موسم میں تو پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاوں کی سڑکیں بارش کے پانی کی وجہ کر کیچڑوں سے ڈھکے رہتے ہیں جس پر گاڑی تو دور پیدل چلنا محال بنا رہتا ہے اسکے علاوہ گاوں کے مغربی حصہ میں بسے لوگوں کا تعلق گاوں سے مکمل طور پر منقطع ہوجاتاہے اور لوگوں کو خاص ضروری وجوہات کے سبب جان پر کھیل کر نالی کو عبور کرنا پڑتا ہے اس طرح دیکھا جائے تو یہاں کے لوگوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ایسی تکلیف دہ صورتحال میں ایم ایل اے ،ایم پی تو دور پنچایتی نمائندے بھی ہمدردی تک لینے نہیں آتے ہیں ۔مسٹر شارق رحمانی نے پنچایتی نمائندہ پر بھی حملہ آور انداز میں کہا کہ گاوں کی مرکزی سڑک تاحال کچی ہے ہر بار الیکشن کے وقت نمائندے عوام کے سامنے ہاتھ جوڑتے و لمبے لمبے وعدے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی جب وہ جیت کر اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں تو عوام کی پریشانیوں کا انہیں ذرہ برابر بھی خیال نہیں آتا ہے اور یہی ایک جمہوری حکومت کی سب سے کمزور کڑی ہے جس میں جنتا کے اعتماد کو بار بار ان لیڈروں کے ذریعہ ٹھیس پہونچانے کا کام کیا جاتا ہے۔ انہوں ریاستی حکومت کے علاوہ پنچایتی سطح پر مقامی انتظامیہ سے بھرون جیسے پسماندہ اور نشیبی خطے کے مسائل پر دھیان دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نالی پر پل تعمیر کرنے سمیت آمد و رفت کی پریشانیوں سے عوام کو از جلد باہر نکالنے کا کام کرے تاکہ عوام اور حکومت کے درمیان جو اعتماد کا ڈور ہے وہ ناقابل تسخیر بنارہے۔

You might also like