Baseerat Online News Portal

سگولی میں سیلاب کی بھیانک صورت حال؛ مگر سرکاری عملہ کا کہیں پتہ نہیں، نیشنل یونین آف جرنلسٹ بہار کے ارکان نے سنبھالا راحت رسانی کا مورچہ

رکسول ۔29/ جولائی ( محمد سیف اللہ )

بھلے ہی چمپارن میں آئے بھیانک سیلاب کی زد میں آکر در در بھٹک رہے لوگوں کا سرکاری سطح پر کوئی پرسان حال نہ ہو اور سیاسی نمائندے منظر نامے سے غائب ہوکر عوام کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح انسانیت کا درد رکھنے والے کچھ لوگوں کی ٹولی اس بھیانک صورت حال میں بھی اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر رات دن عوام کی خدمے میں مصروف ہیں اور بڑی چھوٹی گاڑیوں کی مدد سے سیلاب سے متاثر لوگوں تک ضرورت کی چیزیں پہونچا رہے ہیں ان ہی ٹولی میں ایک نمایاں نام مشہور تنظیم نیشنل یونین آف جرنلسٹ بہار کا بھی ہے جس کے نمائندے ہر طرح کے خطرات کو جھیلتے ہوئے محض انسانیت کے ناطے بغیر مذہب اور ذات کی تفریق کے عوام کی خدمت کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے ہوئے ہیں،قابل ذکر ہے کہ راحت رسانی کا یہ اہم کام اس تنظیم کے ریاستی ترجمان رنجیت تیواری کی قیادت ونگرانی میں انجام پا رہا ہے،آج متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے دوران جب یہ نمائندہ سگولی کے دیہی علاقوں کی طرف بڑھا تو ایک گاوں کی خستہ حال سڑک پر تنظیم کے ترجمان رنجیت تیواری صحافی امریند شری واستو، محمد جمال الدین،منا کشواہا،نوجوان سماجی کارکن نند کمار سنگھ،دھامو سنگھ،نکھل کمار،رام پرویش رائے،
پر مشتمل اپنی ٹیم کے چند سرگرم لوگوں کے ساتھ عوام کو ضروری اشیاء پہونچاتے ہوئے نظر آئے،پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے خاص طور پر مصیبت کی اس گھڑی میں ہماری ذمہ داریاں اور ہی زیادہ اس لئے بڑھ جاتی ہیں تاکہ سماج کا ہر فرد سکون کی سانس لے سکے،انہوں نے سرکاری نمائندوں سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینے سے نہ صرف کتراتے نظر آئے بلکہ انہوں نے کہا کہ ان کا جو کام ہے وہ جانیں اور ہمارا جو فرض ہے وہ ہم نبھا رہے ہیں، بس ہماری کوشش ہے کہ سیلاب کی زد میں آئے لوگوں تک پینچ کر ان کے درد کو بانٹ سکوں،اس لئے کہ ایسا کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور لوگوں کی دعائیں ملتی ہیں،

You might also like