Baseerat Online News Portal

اخلاص کا پیکر حضرت مولاناقاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی کی رحلت قوم وملت کے لیے ناقابل تلافی نقصان

*اخلاص کا پیکر حضرت مولاناقاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی کی رحلت قوم وملت کے لیے ناقابل تلافی نقصان*۔

8/ الحجہ1441ھ کو صوبہ بہار کے نامور عالم دین ،مدرسہ اسلامیہ فلاح المسلمین گواپوکھر مدھوبنی بہارکے باوقار صدر المدرسین اور ضلع مدھوبنی کے قاضی شریعت حضرت اقدس مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی اللہ کو پیارے ہوگئے، آپ کی رحلت سے نہ صرف مدرسہ فلاح المسلمین کے طلبہ واساتذہ اور متعلقین محبین مغموم ھیں بلکہ صوبہ بہار کے عوام وخواص سبھی کو بے حد صدمہ پہونچاہے.

*موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے*

آپ کی خدمات کادائرہ بہت وسیع ہے،آپ نے مختلف پلیٹ فارموں سے اورمختلف جہتوں سےاہم خدمات انجام دیں، نیز ، ملت کے تئیں ہمدردی رکھنے والے، باصلاحیت، فکرمندعالم دین تھے،سادگی آپ کا خاص وصف تھا، اللہ تعالٰی پسماندگان کوصبرجمیل دے،آپ کے حسنات اورخدمات کوقبول فرمائے، آخرت کے لیے ذخیرہ بنادے۔

سن1981ء میں راقم الحروف کا داخلہ مدرسہ دینیہ غازی پور میں قرآن کریم کے دور کےلیےھوا تھا اسی سال آپ مدرسہ فلاح المسلمین کے اربابِ حل وعقد کی درخواست پر مدرسہ فلاح المسلمین تشریف لے آئے،آپ مدرسہ دینیہ میں علیا کے استاد تھے مدرسہ کے انتظامیہ ،طلبہ واساتذہ سبھی کے منظور نظر تھے بطور خاص مشفق و مربی استاذ محترم یکتاءے زمانہ حضرت اقدس مولانا اعجاز احمد اعظمی نور اللہ مرقدہ کی سر پرستی ونگرانی آپ کو زمانہ طالبعلمی سے ھی حاصل رہی چنانچہ حضرت الاستاذ نوراللہ مرقدہ نے آپ کے متعلق لکھا ھے :

“میں جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب بنارس میں مدرس تھا قدوری کے طلباء کی ایک چھوٹی سی جماعت میرے سامنے بیٹھی تھی،ایک کم سن طالب علم نے قدوری کی عبارت پڑھنی شروع کی،بہت صاف اور صحیح۔آواز قدرے بلند ،میں نے استعجاب کی نظر اس پر ڈالی۔شکل وصورت سے معمولی اورلباس سے بہت غریب معلوم ہوتا تھا، میں نے اس پر خصوصی توجہ کی ،میری نگرانی میں اس نے دیوبند تک تعلیم حاصل کی،وہ بہت غریب اور یتیم طالب علم تھا۔پھر اللہ نے اسے نوازا اس کے علم دین کی خوب اشاعت ہوئی اور بکثرت علماء تیار ھوءے،یہ ھیں مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب!جو اب اپنے وطن بھوارہ ضلع مدھوبنی میں قاضی شریعت اور مدرسہ فلاح المسلمین کےصدر مدرس ھیں اللہ عمر اور علم میں برکت عطا فرمائے” (حدیث دوستاں صفحہ291)

والد محترم عارف باللہ حضرت اقدس ماسٹر محمد قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے دیرینہ تعلق تھا ،مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ بہار کے جلسہ دستار بندی اور مدرسہ ھذا کے دیگر پروگراموں میں دلچسپی سے شریک ہوتے تھے۔

حضرت والا نوراللہ مرقدہ بڑوں کے ادب واحترام کے ساتھ چھوٹوں پر بھی بے پناہ شفقت فرماتے،اپنے شاگردوں سے خود بھی رابطہ میں رہتے تھے اور انھیں بھی رابطہ میں رھنے کی نصیحت فرماتے تھے، راقم الحروف جن دنوں دار القضاء امارت شرعیہ مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پور بہار میں قضاء کی خدمت پر مامور تھا ان دنوں دار القضاء کی میٹنگوں میں امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں بکثرت ملاقات ہوتی ، چنانچہ آپ بڑی محبت کا اظہار فرماتے اور کارآمد مفید مشوروں سے نوازتے ۔

اس رنج والم کے موقع پر آپ کے خانوادے کے لیے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں ۔باری تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے
محمد عاصم قاسمی
ناءب ناظم مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ بہار

You might also like