Baseerat Online News Portal

اخلاص کا پیکر حضرت مولاناقاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی کی رحلت قوم وملت کے لیے ناقابل تلافی نقصان۔

محمد عاصم قاسمی

نائب ناظم مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ بہار

٨/ ذی الحجہ کو صوبہ بہار کے نامور عالم دین ، مدرسہ اسلامیہ فلاح المسلمین گواپوکھر مدھوبنی بہارکے باوقار صدر المدرسین اور ضلع مدھوبنی کے قاضی شریعت حضرت اقدس مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی اللہ کو پیارے ہوگئے، آپ کی رحلت سے نہ صرف مدرسہ اسلامیہ کے طلبہ واساتذہ اور متعلقین ومحبین مغموم ہیں بلکہ صوبہ بہار کے عوام و خواص سبھی کو بے حد صدمہ پہونچاہے.

*موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے*
آپ کی خدمات کادائرہ بہت وسیع ہے،آپ نے مختلف پلیٹ فارموں سے اورمختلف جہتوں سے اہم خدمات انجام دیں، نیز آپ ملت کی تئیں ہمدردی رکھنے والے، باصلاحیت، فکرمندعالم دین تھے، سادگی آپ کا خاص وصف تھا، اللہ تعالٰی پسماندگان کوصبرجمیل دے،آپ کے حسنات اورخدمات کوقبول فرمائے اور آپ جملہ مساعی جمیلہ کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنادے۔
مجھے یاد ہے سنہ1981ء میں راقم الحروف کا داخلہ مدرسہ دینیہ غازی پور میں قرآن کریم کے دور کےلیے ہوا تھا اسی سال آپ مدرسہ اسلامیہ فلاح المسلمین کے اربابِ حل وعقد کی درخواست پر مدرسہ اسلامیہ فلاح المسلمین تشریف لے آئے،آپ مدرسہ دینیہ میں علیا کے استاد تھے، مدرسہ کی انتظامیہ ،طلبہ و اساتذہ سبھی کے منظور نظر تھے، بطور خاص مشفق و مربی استاذ محترم یکتائے زمانہ حضرت اقدس مولانا اعجاز احمد اعظمی نور اللہ مرقدہ کی سر پرستی ونگرانی آپ کو زمانہ طالبعلمی سے ہی سے حاصل رہی۔ چنانچہ حضرت الاستاذ نوراللہ مرقدہ نے آپ کے متعلق لکھا ہے : “میں جامعہ اسلامیہ ربوڑی تالاب بنارس میں مدرس تھا قدوری کے طلباء کی ایک چھوٹی سی جماعت میرے سامنے بیٹھی تھی، ایک کم سن طالب علم نے قدوری کی عبارت پڑھنی شروع کی، بہت صاف اورصحیح۔آواز قدرے بلند ، میں نے استعجاب کی نظر اس پر ڈالی۔شکل و صورت سے معمولی اورلباس سے بہت غریب لیکن بلا کا ذہین و فطین معلوم ہوتا تھا، میں نے اس پر خصوصی توجہ کی، میری(حضرت الاستاذ کی) نگرانی میں اس نے دیوبند تک تعلیم حاصل کی، وہ بہت غریب اور یتیم طالب علم تھا۔ پھر اللہ نے اسے نوازا اس کے ذریعہ علم دین کی خوب اشاعت ہوئی اور بکثرت علماء تیار ہوئے، یہ ہیں مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب! جو اب اپنے وطن بھوارہ ضلع مدھوبنی میں قاضی شریعت اور مدرسہ فلاح المسلمین کےصدر مدرس ہیں اللہ عمر اور علم میں برکت عطا فرمائے” (حدیث دوستاں صفحہ291)
والد محترم عارف باللہ حضرت اقدس ماسٹر محمد قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیہ ناظم مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ سے دیرینہ تعلق تھا ، مدرسہ ھذا کے جلسۂ دستار بندی اور دیگر پروگراموں میں دلچسپی سے شریک ہوتے تھے۔
حضرت والا نوراللہ مرقدہ بڑوں کے ادب واحترام کے ساتھ چھوٹوں پر بھی بے پناہ شفقت فرماتے، اپنے شاگردوں سے خود بھی رابطہ میں رہتے تھے اور انھیں بھی رابطہ میں رہنے کی نصیحت فرماتے تھے،
راقم الحروف جن دنوں دار القضاء امارت شرعیہ مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پور بہار میں قضاء کی خدمت پر مامور تھا ان دنوں دار القضاء کی میٹنگوں میں امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ میں بکثرت ملاقات ہوتی رہی، چنانچہ آپ بڑی محبتوں کا اظہار فرماتے اور کارآمد مفید مشوروں سے نوازتے ۔
اس رنج و الم کے موقع پر آپ کے خانوادے کو تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہیں اور بارگاہ ایزدی میں دست بہ دعاء ہیں باری تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

You might also like